بدعہدی سے بدنظری تک!

09:57 AM, 18 Feb, 2026

مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کا فرمان ہے: ”کلمہ طیب ایک عہد ہے“۔ یہ بات اتنی سادہ ہرگز نہیں، جیسی پڑھنے میں سنائی دیتی ہے اور لکھنے میں دکھائی دیتی ہے۔ یہ قولِ سدید ایک غورِ شدید کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ قول ایک قلزمِ معانی ہے۔ کلمہ توحید کو کلمہ طیبہ کہتے ہیں۔ پُرلطف بات یہ ہے کہ کلمہ طیبہ فقط ”لاالہ الااللہ“ کا اعلان نہیں، بلکہ ”محمد رسول اللہ“ کا اقرار بھی ہے۔ یعنی محض فکر کا ایک خدائے واحد پر ایقان، کلمہ توحید تو ہے، کلمہ طیبہ نہیں بنتا .... یہ کلمہِ توحید کلمہ طیبہ اس وقت قرار پاتا ہے جب توحید کا اعلان کرنے والا اپنے فکر وعمل میں محمد رسول اللہ کی لائی ہوئی شریعت کا پابند ہو جاتا ہے۔ گویا .... پاک اور ناپاک میں فرق شریعت محمدی بتائے گی۔ جو شخص قولاً فعلاً شریعتِ محمدی سے اعراض کرتا ہے، وہ خود کو طیب دائرے میں مقیم نہیں کر سکتا۔ وہ بھٹکا ہوا راہی تو ہو سکتا ہے، منزل کا مسافر نہیں۔
اب اس پر غور کرتے ہیں کہ کلمہ طیب ایک عہد کیسے بنتا ہے۔ ابنِ آدم بنیادی طور پر ایک بشر کی حیثیت سے پیدا ہوتا ہے .... یعنی اس کے وجود کے ساتھ ”شر“ کی ایک لپٹ لپیٹ دی جاتی ہے۔ سوائے ایک اچھوتی ذہانت کے، ابن آدم کی جسمانی ہیئت میں کسی بھی دیگر جانور کی جسمانی ساخت اور اس ساخت کے اندر رواں کیمیائی مادوں اور ان کے باہمی تعامل میں چنداں فرق نہیں ہوتا۔ وہبی طریق پر اس کی خلق اگرچہ احسن تقویم ہے، لیکن تکوینی نظام میں اسے اسفل السافلین میں دھکیل دیا جاتا ہے، تا آن کہ یہ اپنا شعوری سفر صفر سے شروع کر سکے .... صفر سے شروع کرنے والا ہی لامتناہی، غیر مختمم اور ”خالدون“ کے تصور سے آگہی حاصل کر سکتا ہے۔ درمیان میں شروع ہونے والا درمیان ہی میں ختم ہو جائے گا۔ حضرت انسان کو بشریت کا لباس اس لیے پہنایا گیا ہے کہ وہ اپنی نورانیت سے آگاہ ہو سکے۔ اسے مجبوریوں کا طوق اس لیے پہنایا گیا ہے کہ وہ آزادی کی طلب کر سکے۔ بھوک اس لیے بھیجی جاتی ہے کہ وہ طعام سے 
پہلے نعمتِ طعام کا ادراک کر سکے۔ ”من عرف نفسہ فقد عرف ربہ“ .... کے حصہ اول کا مفہوم یوں وا ہونے لگتا ہے۔ اب یہ طبعِ حیوانی، بشریت اور تقاضہِ بشریت دراصل نورانیت سے تعارف کے لیے ایک تمہیدی جملہ ہے، نفسِ مضمون نہیں۔ یہ سفر الی اللہ کی طرف اٹھتا ہوا پہلا قدم ہے، منزل ِ مقصود نہیں۔
بشر پاک نہیں ہے، آدم پاک ہے .... یہ صفی اللہ ہے۔ بشریت سے آدمیت کی طرف رخ کرنے کےلیے بشریت اور تقاضا ہائے بشریت سے توبہ چاہیے۔ بشریت کی ساری عمارت خواہشات سے عبارت ہے۔ خواہش کی تخریب میں تمنا کی تعمیر مضمر ہے۔ خواہش ناپاک ہے ، تمنا پاک۔ خواہش خود غرض ہوتی ہے، تمنا بے غرض۔ پس! پاک وہ ہے جو خواہش سے پاک ہے۔ جب تک وجود کو اَمر سے تمسک حاصل نہ ہو، کوئی شخص خواہش کو شکست نہیں دے سکتا۔ دراصل اَمر ہی سلطان ہے۔ اولی الامر وہی ہے جو ”اطاعتِ رسول“ سے وابستہ ہے اور وہاں سے میسر آنے والے امر شریعت کی بجا آوری پر کمر بستہ ہے۔ کشف المحجوب میں سیّدِ ہجویرؒ فرماتے ہیں: ”جو شخص علمِ شریعت اور بندگی کی صفات سے جاہل ہو گا، وہ اپنے رب کی صفات سے تو بالکل ہی جاہل ہو گا۔ جو شخص نفس، جو کہ مخلوق ہے، کی معرفت کا راستہ طے نہیں کرتا، وہ حق تعالیٰ، جو کہ خالق ہے، کی معرفت کا راستہ کیسے طے کر سکتا ہے۔ جو صفاتِ بشریت کی آفات نہیں دیکھتا، وہ صفاتِ حق کے لطائف کا مشاہدہ کیسے کر سکتا ہے“۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ لطافت، کثافت کی نفی سے ملتی ہے .... پاکی، ناپاکی سے توبہ کرنے سے حاصل ہوتی ہے .... نورانیت، بشریت سے تائب ہونے والے کو نصیب ہوتی ہے۔ توبہ بھی ایک عہد ہے۔ اس عہد کا تعلق ایمان سے ہے .... ”لا ایمان لمن لا عہد لہ“ .... ”اس شخص کا کوئی ایمان نہیں، جس میں پاسِ عہد نہیں“۔ گویا ایمان میں داخل ہونے کے لیے اپنے کفر سے توبہ درکارہے۔ پاکیزگی میں جگہ پانے کے لیے ناپاکی سے تائب ہونا لازم ہے۔ اہل اللہ، دائمی پاکیزگی کی دعا کرتے ہیں .... یعنی ایسی کامل توبہ جو کبھی شکستہ نہ ہو۔ پاکیزگی پہلے فکر میں نازل ہوتی ہے ، پھر نظر میں داخل ہوتی ہے اور پھر عمل میں شامل ہوتی ہے .... عمل پر مداومت، کردار کی صورت گر ہے۔ پاکیزگی کے باب میں اگر پہلا مرحلہ ہی مشکوک ہو جائے، تو باقی مراحل کیسے طے پائیں؟ اگر فکر ہی آلودہ ہو جائے، تو نظر کی پاکیزگی کیسے میسر آئے۔ پہلے فکر آوارہ ہوتا ہے، پھر نظر آوارگی اختیار کرتی ہے، اس کے بعد عمل بے ترتیب ہونا شروع ہو جاتا ہے اور .... رہا کردار .... تو کردار کے شاہد لوگ ہوا کرتے ہیں۔ کردار کا اعتبار قول سے نہیں عمل اور پیہم عمل سے میسر آتا ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں: ”نظاروں کا گناہ ختم ہو جائے تو وجود کا گناہ ختم ہو سکتا ہے .... ایسی باطل شناس آنکھیں شفایاب ہو سکتی ہں، اگر ان کو وہ سُرمہ مل جائے جسے خاک ِ مدینہ و نجف کہا گیا ہے“۔ آپؒ کا ایک ارشاد مزید یہ بھی ہے کہ اگر اچھے عمل نہیں ہو پا رہے تو اس کا مطلب یہ کہ کسی بُرے عمل نے راستہ روکا ہوا ہے۔ اس سے یہ سبق کشید کیا جا سکتا ہے کہ اگر اچھے مناظر نہیں دکھائی دے رہے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ بُرے مناظر نے راستہ روکا ہوا ہے۔ جہاں کسی بدبو نے گھر کر لیا ہو، وہاں خوشبو موجود بھی تو محسوس نہیں ہوتی۔
فکر کسی آوارہ سوچ کا نام نہیں۔ ڈالی ڈالی پھرنے والی سوچ فکر نہیں کہلاتی، بلکہ فکر کسی صاحبِ فکر کی نسبت کی وجہ سے ہی فکر کہلاتا ہے۔ اگر صاحبِ نسبت سے تعلق قائم ہے تو فکر قائم ہے، اگر فکر گاہے گاہے گم ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ صاحبِ فکر سے تعلق مستحکم نہیں۔ تعلق میں استحکام فکری استحکام کی ضمانت ہے اور فکر میں استحکام ہمارے عمل میں استقامت کی ضمانت!
 حالتِ صوم وجود پر طاری کر لی جائے تو نظر پاک ہو جاتی ہے۔ کسی پاکیزہ فکر سے یک گونہ تمسک اختیار کر لیا جائے تو نظر میں پاکیزگی پیدا ہونے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔ کسی پاکیزہ وجود سے عہد وپیمان قائم ہو جائے تو پاکیزگی کا عہد قائم رہ سکتا ہے۔ عمل میں کمزوری دراصل تعلق میں کمزوری کا دوسرا نام ہے۔ درحقیقت ایمان تعلق کا نام ہے، بدعہدی تعلق میں کمزوری ہے اور بد نظری اس پاکیزہ تعلق میں کمزوری کا ایک کریہہ شاخسانہ!!

مزیدخبریں