مجھے بڑے افسوس کے ساتھ یہ بات لکھنا پڑرہی ہے کہ ہمارے یہاں جب بھی کوئی آفت یا تہوار آجائے تو ہم اشیا ضروریہ کے نرخوں کو آسمانوں پر پہنچا دیتے ہیںبلکہ نہ صرف گراں فروشی کرتے ہیں، ذخیرہ اندوزی کے ناپاک اور گھنا ﺅنے دھندے میں ملوث ہو کر عام عوام کے لئے مشکلات کا باعث بنتے ہیں ۔میری یادوں میں سال 2005کے زلزلے کی بد ترین یادیں اب بھی محفوظ ہیں کہ کشمیر میں جہاں ہزاروں لوگ اس سانحے کے نتیجے میں لقمہ اجل بنے اور قیامت صغریٰ ہر جانب برپا تھی وہاں ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے کفن ذخیرہ کر لئے اور اپنی اصل قیمت سے سو گنا زیادہ مہنگے فروخت کئے۔
قارئین کرام ! رمضان المبارک کا ماہ مقدس جہاں رحمتوں اور بر کتوں کو ساتھ لے کر آتا ہے وہیں کچھ عاقبت نااندیش ذخیرہ اندوزوں اور مصنوعی مہنگائی کر نے والے اور اپنے بنک اکاﺅنٹس کو بھرنے والوں کی وجہ سے عوام کی زندگی مزید اجیرن ہو کر رہ جاتی ہے اور یوں یہ رمضان المبارک کی برکتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔
بھلا ہو وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کا جو غریب عوام کے زخموں پر مرہم رکھتی ہیں اور ذخیرہ اندوز اور مصنوعی مہنگائی کر نے والے مافیاز کے آگے دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہیں اور پھر سلمیٰ بٹ جیسی بہادر مشیروں کو ٹاسک سونپا جاتا ہے اور انہیں مکمل اختیار بھی دیئے جاتے ہیں ۔ شیر دل اور غریبوں کے دکھ درد کو بخوبی جاننے والی سلمیٰ بٹ ، اپنی قائد کے وژن کے مطابق پنجاب کے عوام کو تاریخی ریلیف فراہم کر نے میں کامیاب ہو چکی ہیں ۔ مہنگائی ، ذخیرہ اندوزی اور ان جیسے کرپٹ مافیاز کے خلاف اعلان جنگ کا جو آغاز کیا تھا اب اس کے ثمرات دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ میرے مصدقہ ذرائع کے بقول عوام دشمن تمام قسم کے مافیاز سلمیٰ بٹ سے ایسے خوف زدہ ہیں جیسے گیڈر ، شیر سے ہوتے ہیں۔
قارئین کرام !یہ ان کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ پنجاب میں اس ماہ رمضان میں سیکڑوں بچت بازار سجائے جا رہے ہیں اور اس کاوش میں لاہور کریانہ مرچنٹ ایسوسی ایشن کے صدر طاہر ثقلین بٹ بھی آگے آگے ہیں ۔ میں اس بات کا بھی گواہ ہوں کہ یہ اور ان کے ساتھی اپنی مدد آپ کے تحت ہر سال بیسیوں فئیر پرائس شاپس کے ذریعے اشیا ءضروریہ ، عام عوام کو سستے نرخوں پر فراہم کرتے ہیں اور اب سلمیٰ بٹ کی قیادت میں انتہائی منظم طریقے سے اس تمام عمل کو سر انجام دیا جا رہا ہے۔ اس سال یہ لوگ 100فئیر پرائس شاپس کا انعقاد کریں گے جہاں دالیں ، آٹا، گھی ، آئل اور دیگر ضروری اشیائ10فیصد رعائتی نرخوں پر عام عوام کو دستیاب ہونگی تاکہ مہنگائی کے ستائے عوام کو رمضان میں ریلیف فراہم کیا جا سکے ۔
تاریخ میں پہلی بار جیلانی پارک میں انتہائی وسیع پیمانے پر رمضان بچت بازار کا اہتمام کیا گیا ہے جس سے لاکھوں لوگ مسفیذ ہوئے اور 20سے 40فیصد تک ڈسکاﺅنٹ حاصل کیا ۔ اس بچت بازار میں بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز ، مختلف کمپنیوں اور اداروں نے سٹالز سجائے۔ میں ایک ایسی غریب فیملی کو جانتا ہوں جس کے بقول ماہانہ 30ہزار روپے میں آنے والا راشن ہمیں اس بچت بازار سے 22ہزار روپے میں ملا ہے ۔ اب قارئین خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس قدر کنٹرول قیمتوں پر تمام اشیا ءفروخت کی گئی ہیں اور عوام عوام کو کس قدر سہولت میسرآئی ہے ۔
قارئین کرام !بلا شبہ یہ سلمیٰ بٹ کی ہی کاوشیں ہیں کہ گذشتہ سال سے سبزی اور پھلوں کے ریٹ بھی کنٹرولڈ ہیں۔ میں سمجھتا ہوں بہت بڑی کا میابی ہے۔ یقینی طور پر اس کے پیچھے ان کی دن رات کی محنت ہے۔ میں نے دیکھا یہ دیوانوں کی طرح کبھی کسی شہر ، کبھی کسی گاﺅں اور کسی محلے یا مارکیٹ میں ریٹس چیک کرتی پائی جاتی ہیں اور وہ لوگوں کو اشیا ضروریہ آسان اور سستی فراہم کرنے کے لئے بڑے بڑے مافیاز سے ٹکرا جاتی ہیں ۔ یہ انہی کی محنت کا نتیجہ ہے کہ گھی و آئل کمپنیوں نے فی کلو 10سے 12 روپے کم کر دئیے ہیں جبکہ سستے آٹے کی فراہمی اور چینی کو اس کی اصل قیمت پر کھلے عام فروخت کا سہرا بھی ان کے سر سجتا ہے ۔ میرے نزدیک تو پنجاب کی پوری کابینہ میں سب سے زیادہ متحرک اور فعال مشیر سلمیٰ بٹ ہیں اور جس بہادری اور تندہی کے ساتھ یہ عام عوام کو آسانی پہنچانے کے جس مشن میں مصروف ہیں ، وقت قریب ہے کہ عوام دشمن مافیاز ان کے خوف کی وجہ سے اپنی موت آپ مر جائیں گے۔
پنجاب کے مہنگائی مافیاز اور شیر دل مشیر!!!
09:56 AM, 18 Feb, 2026