چمکتے اشاریوں میں دھندلاتی معیشت

09:55 AM, 18 Feb, 2026

میں نے ایک بزرگ سے پوچھا کہ قومیں کیسے گرتی ہیں؟ وہ تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر مسکرائے اور بولے، جب حکمران خواب بیچنے لگیں اور عوام وہ خواب خریدنے لگیں! تب حقیقت مرجاتی ہے اور زوال شروع ہو جاتا ہے۔ مجھے آج وہ جملہ بار بار یاد آتا ہے، کیونکہ پاکستان کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی لگتی ہے۔ بظاہر ہم ایک غریب ملک ہیں۔ قرضوں میں ڈوبے ہوئے، عالمی مالیاتی اداروں کے دروازوں پر دستک دیتے ہوئے اپنی معاشی خودمختاری تک کو گروی رکھے ہوئے۔ لیکن اگر آپ چند معاشی اشاریے دیکھیں تو ایک بالکل مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ ایک چمکتی، دمکتی، خوشحال تصویر۔ ایسی تصویر جسے ہمارے حکمران دنیا کو دکھاتے ہیں، اور شاید خود بھی اس پر یقین کرنے لگے ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ ملک ترقی کر رہا ہے۔ آٹو انڈسٹری بڑھ رہی ہے۔ نئی گاڑیوں کے کارخانے لگ رہے ہیں۔ صرف سات مہینوں میں ایک لاکھ آٹھ ہزار نئی گاڑیاں فروخت ہوئیں، جن کی مالیت سات سو پچیس ارب روپے سے زیادہ بنتی ہے۔ اگر وہ کمپنیاں بھی شامل کر لی جائیں جو اپنی فروخت ظاہر نہیں کرتیں تو یہ رقم آٹھ سو پچاس ارب روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ یعنی تقریباً دو ارب ڈالر صرف گاڑیوں پر خرچ ہو گئے۔
یہ وہی ملک ہے نا، جو ایک ارب ڈالر کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے جھکا ہوا ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا یہ دو ارب ڈالر خرچ کرنے والے لوگ اس ملک کی معیشت کی نمائندگی کرتے ہیں؟ کیا سڑکوں پر بڑھتی گاڑیاں ترقی کا ثبوت ہیں؟ یا یہ صرف ایک محدود طبقے کی خوشحالی کا عکس ہے؟۔
پاکستان کی آبادی پچیس کروڑ سے زیادہ ہے۔ اگر ایک لاکھ یا ڈیڑھ لاکھ لوگ گاڑیاں خریدتے ہیں تو کیا اسے قومی خوشحالی کہا جا سکتا ہے؟ کیا اس سے غریب، لوئر مڈل کلاس یا مڈل کلاس کی زندگی بہتر ہو گئی؟ حقیقت یہ ہے کہ ملک کا ایک بڑا حصہ آج بھی مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی سے لڑ رہا ہے۔ کسی کے لیے پیٹرول مہنگا ہے، کسی کے لیے آٹا، کسی کے لیے بجلی، اور کسی کے لیے زندگی۔
اسی طرح ایک اور کہانی ہمیں سنائی جا رہی ہے، سٹاک مارکیٹ کی۔ کہا جا رہا ہے کہ مارکیٹ آسمان کو چھو رہی ہے، سرمایہ کار خوشحال ہو رہے ہیں، معیشت مستحکم ہو رہی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایک سال میں شیئر ہولڈرز کو نو سو بیس ارب روپے کا ڈیویڈنڈ ملا۔ ملک میں چھ سو پچاس کمپنیاں لسٹڈ ہیں اور تقریباً ساڑھے تین لاکھ سرمایہ کار ہیں۔
ذرا رک کر سوچیں۔ پچیس کروڑ لوگوں کے ملک میں صرف ساڑھے تین لاکھ افراد اس منافع میں شریک ہیں۔ کیا یہ پوری قوم کی معیشت ہے؟ یا ایک مخصوص طبقے کی دولت میں اضافہ؟۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ جب فیکٹریاں بند ہو رہی ہوں، کاروبار سکڑ رہے ہوں، ایکسپورٹ دبا¶ میں ہو، براہ راست سرمایہ کاری نہ آ رہی ہو تو سٹاک مارکیٹ کیسے اوپر جا رہی ہے؟ کیونکہ یہ ترقی حقیقی معیشت کی نہیں بلکہ مالیاتی معیشت کی کہانی ہے۔
گزشتہ برس بینکوں نے سیکڑوں ارب روپے منافع کمایا۔ یہ منافع صنعت، پیداوار یا ایکسپورٹ سے نہیں آیا بلکہ سودی لین دین اور حکومتی قرضوں سے آیا۔ یعنی ریاست نے قرض لیا، بینکوں نے منافع کمایا اور ایک محدود طبقہ مزید امیر ہو گیا۔ دوسری طرف مینوفیکچرنگ، ایکسپورٹ اور ڈومیسٹک ریٹیل جیسے شعبے حکومتی پالیسیوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ یہاں ایک اہم کردار ایف بی آر کا بھی ہے، جس کے بغیر اس کہانی کو سمجھنا ممکن نہیں۔ دنیا میں ٹیکس نظام ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے، لیکن جب یہی نظام کاروبار کے لیے خوف، دبا¶ اور غیر یقینی کی علامت بن جائے تو معیشت کمزور ہونے لگتی ہے۔ پیچیدہ قوانین، بار بار بدلتی پالیسیاں، بلند ٹیکس ریٹس اور غیر م¶ثر ورکنگ سٹائل نے کاروباری طبقے کو تھکا دیا ہے۔ کاروباری لوگ کہتے ہیں کہ ٹیکس افسر کا رویہ اکثر ایک تھانیدار جیسا محسوس ہوتا ہے۔ اعتماد کے بجائے شک، سہولت کے بجائے گرفت، شراکت کے بجائے دبا¶۔ نتیجہ یہ ہے کہ کاروبار پھیلنے کے بجائے سکڑ رہا ہے، سرمایہ کاری رک رہی ہے اور معیشت کی بنیاد کمزور ہو رہی ہے۔ جب ریاست کاروبار کو پارٹنر کے بجائے ملزم سمجھے تو ٹیکس نیٹ بھی نہیں بڑھتا اور معیشت بھی نہیں چلتی۔لیکن ان ناکامیوں کی داستان شاید ہی کبھی سنائی جاتی ہے۔پانچ ہزار چھ سو ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ کس کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے؟قومی اداروں کی نجکاری سے فائدہ کس کو ہوا؟عوام سے نیلم جہلم سرچارج لے کر آٹھ سو ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود بجلی کیوں پیدا نہ ہو سکی؟یہ سوالات عوام کے ذہن میں ہیں، مگر جواب کہیں نہیں۔
ریاست جب بار بار ناکام ہو اور عوام کو فائدہ نہ پہنچے تو اعتماد ٹوٹنے لگتا ہے۔ اور جب ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد ختم ہو جائے تو معاشرہ صرف قوانین سے نہیں چلتا۔ وہ امید سے چلتا ہے۔ اور جب امید ٹوٹ جائے تو نظام کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ آج پاکستان میں یہی ہو رہا ہے۔ ایک طرف اشاریے چمک رہے ہیں، دوسری طرف گھروں کے چولہے بجھ رہے ہیں۔ ایک طرف مارکیٹیں بلند ہیں، دوسری طرف فیکٹریاں بند ہیں۔ ایک طرف چند ہزار لوگ خوشحال ہیں، دوسری طرف کروڑوں لوگ مشکلات میں ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ گاڑیاں کتنی بک رہی ہیں یا سٹاک مارکیٹ کتنی اوپر جا رہی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عام آدمی کی زندگی بہتر ہو رہی ہے؟ کیا نوجوان کو روزگار مل رہا ہے؟ کیا کاروبار بڑھ رہا ہے؟ کیا ریاست عوام کے لیے آسانی پیدا کر رہی ہے؟۔ اگر جواب نہیں ہے، تو پھر ترقی صرف ایک کہانی ہے اور کہانیاں پیٹ نہیں بھرتیں۔پاکستان کو آج سچ بولنے کی ضرورت ہے۔ تلخ سچ۔یہ ماننے کی ضرورت ہے کہ حقیقی ترقی صرف اس وقت ہو گی جب معیشت کا فائدہ عام آدمی تک پہنچے گا۔ جب صنعت چلے گی، جب کاروبار بڑھے گا، جب پالیسی انصاف پر مبنی ہو گی، جب ایف بی آر سہولت کار بنے گا، جب ریاست عوام کو بوجھ نہیں بلکہ طاقت سمجھے گی۔ورنہ سڑکیں تو چمکتی رہیں گی، مگر گھروں کے چراغ بجھتے رہیںاور تاریخ گواہ ہے! جب گھروں کے چراغ بجھ جائیں تو ریاستیں زیادہ دیر روشن نہیں رہتیں۔

مزیدخبریں