نئے صوبے، بے بنیادپروپیگنڈہ!

09:12 AM, 18 Dec, 2025

سیاسی اور ذاتی مفادات کی ہوس نے سندھ کے سیاسی اور علمی سوجھ بوجھ نہ رکھنے والے لوگوں کو اس بے بنیاد خدشہ میں مبتلا کردیاہے کہ سندھ کی انتظامی تقسیم یا کئی صوبوں میں منقسم ہونے سے سندھ کی تہذیب، ثقافت تمدن یا معاشرت ختم ہوکر قصۂ ماضی بن جائے گی، سکینہ سومرو جیسی یونیورسٹی طالبات کے اذہان بھی اس پروپیگنڈہ کے زیراثر آئے ہیں جو سوال بن کر نوک زبان پر آگئے۔ حالانکہ ان حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ یہ انسانوں کے انفرادی واجتماعی رویوں کا مظہر ہیں۔ قوموں کی معلوم تاریخ کی گواہی ہے کسی زمین پر دوسری قوم آکر آباد ہوجائے یا قابض ہوجائے تو نئی قوم کی تہذیب، ثقافت اور تمدن ومعاشرت اس دھرتی کی شناخت بن جاتی ہے مثلاًبرطانیہ نے امریکہ پر قبضہ کیا تو قابض برطانوی جو بعدازاں امریکی کہلائے تو اس سرزمین پر پہلے سے آباد لوگ جنہیں ریڈ انڈین کا نام دیا گیا زمین کے باعث وہ ریڈ انڈین کی تہذیب ومعاشرت میں نہیں رنگے گئے بلکہ وہ سرزمین نئی تہذیب ومعاشرت کی امین بن گئی یہ رویے اور روایات اگر زمین سے جنم لیتے تو منگولیا کی سرزمین آج بھی موجود ہے اس پر منگول نسل کے لوگ بھی آباد ہیں مگر وہ شمشیر بکف گھوڑوں کی ننگی پیٹھ پر سوار دوسری سرزمینوں کو تخت وتاراج کرتے نظر نہیں آرہے ۔سندھی تہذیب، ثقافت، تمدن یا معاشرت باقی نہیں رہے گی۔
ایک دوسرا پہلو غور طلب ہے کراچی چار اضلاع پر مشتمل تھا اب سات ضلعی انتظامی یونٹوں میں تقسیم ہے 40ء اور 50ء کی دہائیوں میں بھارت سے مہاجرین بعدازاں بڑی تعداد میں پنجابیوں، پٹھانوں، افغانیوں اور سرائیکیوں کی آمد سے کیا کراچی میں جاری بعض صورتوں میں دفتری، عدالتی اورتعلیمی شعبوں میں سندھی زبان کا خاتمہ ہوگیا  ہے کیا کراچی ڈویژن کی تقسیم سے جو نئے اضلاع وجود میں آئے ان کی وجہ سے ان اضلاع میں پہلے  سے موجود سندھی غلبہ کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ اس سے ثابت ہوا اگر سندھ کو ایک سے زائدانتظامی یونٹوں یا صوبوںمیں تقسیم کر دیا جائے تو ان میں آباد سندھی، ان کی تہذیب، ثقافت اور لسانی غلبہ بدستوربرقرار رہے گا اس حقیقت کی روشنی میں اس دعویٰ میں سچائی نظر آتی ہے کہ ’’مرسوں، مرسوں، سندھ نہ ڈیسوں‘‘کا نعرہ سندھ کی تقسیم کے خلاف نہیں بلکہ اربوں کے مالی وسائل کی تقسیم کے خلاف ہے جو کسی ایک سمت میں بہنے کی بجائے کئی سمتوں کا رخ کرکے سندھی عوام کی ترقی  وخوشحالی اور مقامی مسائل سے یقینی نجات کا باعث بن سکتے ہیں، پیپلزپارٹی اگر واقعی سندھیوں کا ’’آخری آپریشن‘‘ہے تو ایک یا دس صوبوں میں بھی پیپلزپارٹی کے ’’مراد علی شاہ‘‘ ہی وزیراعلیٰ ہوں گے اگر وہ سندھ کی بڑی اکائی میں سندھی تہذیب وثقافت کی بقاء وعروج کی ضمانت ہیں تو ایک سے زائد یونٹوں میں زیادہ آسانی سے یہ فریضہ انجام دے سکیں گے ۔اس لئے کہ آبادی کے لحاظ سے مطلوبہ مالی وسائل انہیں دستیاب ہوں گے بلدیاتی ادارے بھی صوبائی حکومت کے دست نگر نہیں رہیں گے۔ 
پنجاب اسمبلی پہلے ہی جنوبی پنجاب صوبہ کی قرارداد منظور کرچکی ہے اب خیبر پختونخواہ اسمبلی نے بھی بھاری اکثریت سے ہزارہ کو نیا صوبہ بنانے کی قرارداد منظور کرلی ہے پی ٹی آئی کے نذیر عباسی کی پیش کردہ قرارداد میں وفاقی حکومت سے صوبہ ہزارہ کے قیام کیلئے درکار آئینی عمل شروع کرنے کیلئے کہا گیا ہے قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت نئے صوبوں کے قیام کیلئے مشاورتی وانتظامی اقدامات مؤثرانداز میں مکمل کرے تاکہ ہزارہ کے عوام کا دیرینہ مطالبہ عملی شکل اختیار کرسکے دوصوبائی اسمبلیوں کے بعد توقع ہے بلوچستان اسمبلی بھی نئے صوبوں کے قیام کے حق میں قرار داد منظور کردے گی اس کے باوجود کہ وہاں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے۔ 
پاکستان میں نئے صوبوں کی بات تو ایک عرصہ سے ہوتی آرہی ہے مگر اب یہ تحریک کی صورت اختیار کرگئی ہے جو پاکستان کے عوام کے مسائل و مشکلات کے احساس اور حقیقی حل کے ادراک کا مظہر ہے۔ 
پاکستان میں نئے صوبوں کے حوالے سے پہلے بھرپور آواز پنجاب اسمبلی کے رکن رانا پھول محمد نے اٹھائی تھی 1985ء یا 1986ء میں ان کاانٹرویوجو ماضی کے بڑے اخبار روزنامہ مشرق میں شائع ہوا تھا میںنے رانا پھول محمد سے پاکستانی عوام کے مسائل کے حوالے سے سوال کیا ان کا مؤثر وحقیقی حل آپ کی نظر میں کیا ہے انہوں نے جواب دیا تھا ’’ملک کے تمام ڈویژنوں کو صوبے بنا دیئے جائیں‘‘۔
تب میرا بھی خیال تھا کہ ان صوبوں کے ارکان اسمبلی کی طرح  وزیر اعلیٰ اور سپیکر کا انتخاب بھی عوام کے براہ راست ووٹوں سے کیا جائے اس طرح یہ منتخب نمائندے عوام کے سامنے جواب دہ ہوں گے اور ان کی سیاسی بقاء عوامی خدمت سے مشروط رہے گی جیسا کہ امریکہ کی پچاس ریاستوں میں گورنروں کا انتخاب براہ راست ووٹوں کے ذریعہ ہوتا ہے۔ میں نے اندرون سندھ مختلف سندھیوں کی رائے جاننے کیلئے رابطے کئے ان میں سے کئی ایک اس پروپیگنڈہ کے زیراثر بعض خدشات کا شکار نظر آئے کہ وہ اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے اور دوسرے صوبوں میں اردو سپیکنگ ،پنجابی اور پٹھان غلبہ حاصل کرلیں گے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اب کراچی اور حیدر آباد جو کبھی اردو سپیکنگ افراد کی اکثریت کے شہرتھے اب ان دونوں شہروں میں پنجابیوں اور پٹھانوں کے ساتھ ساتھ اندرون سندھ سے آنے والے اور لائے جانے والے سندھیوں کی کثیر تعداد بھی موجود ہے دوسرے ان دوبڑے شہروں کے علاوہ توپورے سندھ میں جتنے صوبے بنیں گے وہاں غالب اکثریت کے باعث سندھیوں کی حکمرانی ہوگی اور وہاں سندھی تہذیب وثقافت برقرار رہے گی دوسرا غورطلب پہلو یہ ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کی موجودگی اور سندھی نوجوانوں بالخصوص لڑکیوں میں حصول تعلیم کے تیزی سے فروغ پذیر رحجان کے باعث بہت بڑی اکثریت اردو کے ساتھ انگریزی زبان میں گفتگو کے باوجود سندھی زبان پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا ہے جس قوم، برادری یا گروہ کی زبان زندہ رہے اس کی تہذیب وثقافت بھی پوری توانائی کے ساتھ برقرار رہتی ہے نئے صوبوں کیلئے جس تحریک کا آغاز کیا گیا ہے یہ پاکستان اورعوام کے بہترین مفاد میں ہے عوام کے مسائل ومشکلات کے یقینی حل کیلئے عوام دوست صحافیوں کو اس تحریک میں عملی کردار ادا کرنا چاہئے ۔

مزیدخبریں