ایسے ہوتے ہیں حکمران…؟

09:10 AM, 18 Dec, 2025

 یار غار اور یار مزارجناب حضرت ابوبکر صدیق ؓ کپڑے کے تاجر تھے جب خلافت ملی تو ساتھ ہی کندھے پر کپڑے کے تھان رکھ کر فروخت کیلئے چل دئیے راستے میں حضرت عمر فاروق ؓ مل گئے تو فرمایا آپ اپنے کاروبار کو چلائیں گے تو پھر نظام خلافت کون چلائے گا اس پر خلیفہ وقت حضرت صدیق اکبرؓنے فرمایا کہ میرا گھر کون چلائے گا جس پر حضرت عمرفاروق ؓ خاموش ہو گئے آج کے حکمران مثالیں تو صحابہ کی دیتے ہیں لیکن عمل نہیں کرتے جس کی وجہ سے رعایا پریشانیوں میں مبتلا ہے جبکہ خود حکمران مزے کر رہے ہیں اندرون اور بیرون ملک بڑے بڑے عالی شان محلات بنا اور عیش وعشرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور عوام دووقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں ملکی معاشی صورتحال ہرگزرتے دن کے ساتھ بگڑ رہی ہے، عوام اپنی بے بسی سے پریشان حال ہے، حکومتی خوشامدی ٹولوں نے صرف واہ واہ کی رٹ لگا رکھی ہے جس سے عوام اور ملک کو نقصان ہورہاہے عوامی ووٹ سے برسراقتدار آنیوالی حکومتیں ہمیشہ سے عوامی سمجھی جاتی تھی، پریشانیاں مزید بڑھ رہی ہیں جبکہ مہنگائی ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی؟ معیشت کے میدان میں غلط پالیسیاں تشکیل دینے سے اثر مہنگائی کی صورت میں عوام پر پڑتا ہے حکومتی ناکامی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ عوام کا معیارزندگی بلند کرنے کے دن رات دعوے اس بات کی نفی ہے کہ مرغی فروشوں نے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جبکہ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے خلاف کمپٹیشن اپیلٹ ٹریبونل نے سی سی پی کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے جرمانے کی رقم 5 کروڑ روپے سے کم کر کے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کر دی ، واضح رہے کہ پولٹری ایسوسی ایشن اور اس کے ارکان پر مرغی اور پولٹری مصنوعات کی قیمتوں میں غیر قانونی گٹھ جوڑ اور کارٹل بنانے کے الزام میں 5 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا تھا، جس کے بعد پولٹری سیکٹر میں کارٹلائزیشن کے معاملے پر طویل قانونی کارروائی شروع ہوئی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ایک دن کے برائلر چوزوں کی قیمت 6 روپے فی چوزہ سے بڑھ کر 71 روپے 90 پیسے تک پہنچ گئی تھی سرکار بتائے کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی فوج کس لئے بھرتی کی گئی ہے جو قیمتوں کو مستحکم نہیں رکھ سکتی؟ ادھر پولٹری انڈسٹری کے مجموعی حجم کے مقابلے میں بہت معمولی رقم ہے، ایسا جرمانہ نہ تو مارکیٹ کو خوفزدہ کرتا ہے اور نہ ہی مستقبل میں قیمتیں کم رکھنے کے لیے کوئی مضبوط دباؤ پیدا کرتا ہے بلکہ ایسے ہو گا کہ پٹرول ایک روپیہ بڑھتا ہے توٹرانسپورٹرزکرائے میں دس روپے اضافہ کر دیتے ہیں دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں کہ عوام پر ٹیکسز کا بوجھ ڈالا جاتا ہے، اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نجی شعبہ من مانی قیمتیں عوام سے وصول کرتا ہے بتایا جائے شرح سود میں کمی سے کتنے لوگوں کو فائدہ ہو گا کیونکہ چند افراد سیونگ اکائونٹ رکھتے ہیں باقی تو سب کے سیلری اکائونٹ ہیں جسے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شرح سود میں کمی سے کتنے لوگ مستفید ہونگے؟ دوسری طرف عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے دعوے کرنیوالوں نے اب تک بیس مہینوں کے دوران قرضوں میں بارہ ہزار ایک سو انہتر ارب روپے کااضافہ ریکارڈ کیا گیا، وفاقی حکومت کے قرضوں میں یہ اضافہ مارچ دوہزارچوبیس سے لیکراکتوبر دوہزارپچیس کے دوران ہوا جس سے اندازہ لگا جا سکتا ہے کہ ملک کتنا ترقی کی شاہرہ پر گامزن ہے مسائل کا حل ہمارے پاس موجود ہے اور ہماری حکومت مسائل کا حل تلاش کرنے کیلئے معاشی ماہرین سے مدد لینے کی کوشش کرتی ہے،آئی ایم ایف سے قرض لیا جاتا ہے اور پھر اس کا سود ادا کرنے کیلئے نسلوں کو قرض میں جھونک دیا جاتا ہے ہمیں اپنے مسائل کا حل سچائی کے ساتھ تلاش کرنے اور اسے اپنانے کی ضرورت ہے ورنہ آنے والے دنوں میں ملک ترقی کے بجائے تنزلی کی طرف جائے گا ملک میں بڑھتی مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ، عوامی ریلیف کے حکومتی دعوے بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں حکمرانوں کو اپنی ترجیحات تبدیل کرنا ہوں گی اور عوام کے مسائل کا حل یقینی بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات اٹھانا ہوں گے عوام کو مایوسی کی دلدل سے نکالنے کیلئے اقدامات نہ اٹھائے گئے تو عوام کو شدید رد عمل آئے گا ریلیف کے منتظر غریب عوام زیادہ دیر خاموش نہیں بیٹھیں گے پاکستانیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے، ملک کی سابق و موجودہ سیاسی قیادت یکساں روش اپنائے ہوئے ہے تمام پالیسیاں ڈنگ ٹپاؤ ہیں مربوط معاشی پلان مرتب نہ کرنے کے باعث مہنگائی میں روز بروز اضافہ اور بے روزگاری تیزی سے بڑھی ہے جس پر قابو پانے کیلئے کوئی پالیسی اختیار نہیں کی گئی نہ اب ایسا کوئی اقدام اٹھایا جارہا ہے جس سے پائیدار معاشی استحکام ممکن ہوسکے، سیاسی جماعتوں کی قیادت آپس میں لڑ رہی ہے،حضرت سیدنا یحییٰ معاذ رازی فرماتے ہیں جو پیٹ بھر کر کھانے کا عادی ہو جاتا ہے اس کے بد ن پر گوشت بڑھ جاتا ہے اور جس کے جسم پر گوشت بڑھ جاتا ہے وہ شہوت پرست ہو جاتا ہے اور اس کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اور جس کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اس کا دل سخت ہو جاتا ہے اور جس کا دل سخت ہو گیا وہ دنیا کی آفتوں اور رنگینیوں میں غرق ہوجاتا ہے اس لئے اب بھی وقت ہے حکمران راہ حق پر چلتے ہوئے عوام کو پریشانیوں سے نکالیں اسی میں ہم سب کی بہتری ہے۔

مزیدخبریں