معاشروں میں پیدا ہونے والی ٹینشن جس کی بنا پر معاشرے انتشار کا شکار ہو کر تنزلی کی طرف گامزن ہوتے ہیں کی پوری دنیا میں دو ہی وجوہات سامنے آئی ہیں جس میں پہلے نمبر پر معاشی ابتری اور دوسرے نمبر پر تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ سوچ و فکر کے استعمال پر پابندی، معاشی فراوانی نہ ہو تو معاشروں کی کیا حالت ہوتی ہے یہ بتانے کے لئے کسی ارسطو کی ذہانت کی ضرورت نہیں اور جس معاشرے یا ملک کے افراد میں تخلیقی صلاحیتوں اور غور و فکرپر پابندی لگا دی جاتی ہے یا رکاوٹیں پیدا کر دی جاتی ہیں وہاں کی اوسط ذہانت سیاسی اشرافیہ کی صورت بھگتنا پڑتی ہے جو قوم پر مسلط ہوکر اس کا جینا حرام کر دیتی ہے جن کا وژن دنیا بھر کی ذہانت کے ترازو میں تلنے کے لئے ڈالا ہی نہیں جاتا۔پاکستان کن مشکلات کا شکار ہے ،کیا ہونا چاہے ،دنیا ہمارے بارے میں کیا سوچتی ہے کیا کرنا چاہتی ہے یہ ہمارے اجتماعی مسائل ہی نہیں ہیں، پاکستان کی قیمت پر سیاست کرنے والے یہ عمومی سیاستدان قوم پر گناہوں کی سزا کے طور پر مسلط ہیں۔جو فہم و ادراک سے تو عاری ہیں ہی جنہیں اس بات کا بھی احساس نہیں کہ عام آدمی ان کی حرکتوں کی وجہ سے کن حالات کا شکار ہو چکا ہے۔
پاکستان کے عوام کی قیمت پر سیاست کرنے والے سیاستدان ان مفلوک الحال کروڑوں پاکستانیوں کے حق میں آواز اس لئے نہیں اٹھاتے کہ ان کے حق کے لیے آواز بلند کرنے سے انہیں شہرت ملے گی اور نہ پیسہ۔ حالانکہ اس وقت وہی سیاسی جماعت عوام میں اپنی وقعت اور ہمدردی پیدا کر سکتی ہے جو عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے اس کے حقیقی مسائل کے خلاف صرف ’عوام کی آواز‘ بن کر باہر نکلے ورنہ سیاسی جماعتوں کا انجام کوڑے دان بنتا نظر آرہا ہے۔
پاکستان کے تمام قابل ذکر اخبارات الیکٹرونکس میڈیا اور سوشل میڈیا دہائی دیتے ہوئے بتاتا ہے کہ پاکستان کے اندرگزشتہ چند ہفتوں کے دوران درجنوں افراد نے غربت
،بے روزگاری اور بیماری کے ہاتھوں تنگ آکر خودکشی کی ہے اور جن کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہوتا جارہا ہے ، غربت بے روزگاری اور بیماری کا ڈرون ان سیاستدانوں کی ہر احتجاجی تحریک جلسے جلوس کے نتیجے میں مفلوک الحال پاکستانیوں کے گھروں اور زندگیوں میں ہر روز گرتا ہے ،مگرسستی شہرت کے بھوکے سیاستدانوں کو پاکستان کے کروڑوں بھوکے نظر نہیں آتے ۔ ملک بھر میں محولہ بالا وجوہات کی بنا پر خود کشی کرنے والے افراد کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے جن میں زیادہ تعدادخواتین کی ہوتی ہے جو مختلف وجوہات کی بناپر زندگی سے منہ موڑلیتی ہیں جبکہ اس وقت مہنگائی کے جس منہ زور طوفان کا سامنا عوام کو کرنا پڑ رہا اس نے عوام سے جینے کی امنگ بھی چھین لی ہے جس کے بارے خود حکمران کہتے پھر رہے ہیں کہ ہم عوام کی چیخیں نکلوائیں گے یہ بھی پاکستانی کی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ ایک طرف حکمران عوام کی چیخیں نکلوا رہے ہیں تو دوسری طرٖف اپنے ساتھ ہونے والے ریاستی جبر کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو زندان کی نذر کیا جارہا ہے کیا مہذب معاشروں کے حکمرانوں کا یہ طرز حکومت ہوتا ہے؟۔
پاکستانی عوام کے المیوں کی نشاندہی کرنے والے بتاتے ہیں کہ پورے پاکستان میں ساٹھ فیصد سے زائدگھر یا خاندان ایسے ہیں جو غربت، وسائل کی کمی یا کسی اور وجہ سے کھانے پینے کے اشیا ء تک رسائی نہیں رکھتے اور یوں مناسب خوراک سے محروم رہتے ہیں بلکہ گزشتہ دنوں ایک رپورٹ کے مطابق ہزاروں لاکھوں خاندانوں نے جسم و جان کا رشتہ قائم رکھنے کے لئے اپنی گھریلو اشیا کو فروخت کرنا شروع کر دیا ہے ۔ ایسے گھرانوں یا افراد کو غذائی عدم تحفظ کا شکار کہا جاتا ہے۔ یعنی ساٹھ فیصد پاکستانیوں کو مناسب خوراک کی فراہمی نہیں ہوپاتی۔جس کا ان کی زندگیوں پر کیا اثر پیدا ہوتا ہے کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ غذائی کمی کا شکار بچوں میں اسٹنٹنگ ( عمر کے لحاظ سے چھوٹا قد) اور ویسٹنگ ( قد کے لحاظ سے کم وزن) اور خوراک کے دیگر چھوٹے چھوٹے اجزا ( مائیکرونیوٹرینٹ) کی شرح بہت کم ہوجاتی ہے۔ ملک میں )پانچ سال سے کم عمر( بچوں کی 35 فیصد تعداد کا تعلق غذائیت کی کمی سے ہے جبکہ اگر یہ شرح صرف 15 فیصد سے اوپر ہوجائے تو اسے عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کے تحت قومی ہنگامی حالت یا ایمرجنسی کہا جاتا ہے۔
کوئی بھی حکومت اپنے عوام سے لاتعلق ہو کر زیادہ عرصہ قائم نہیں رہتی حکومت کی لاتعلقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ منڈی کی قوتوں کو مکمل آزادی ہے کہ وہ جو چاہے من مانی کرتی پھریں انہیں کوئی نہیں پوچھے گا یہی وجہ ہے کہ یہاں ا شیاء ضروریہ کی قیمتیں بڑھ تو جاتی ہیں لیکن پھر نیچے نہیں آتیں ذرا پڑوسی ملک کی ہی مثال لیجئے جہاں پیاز جیسی عام سی سبزی عوام کی پہنچ سے باہر قیمت کے باعث 1998 میں بی جے پی حکومت کا تختہ الٹ گیا تھا اور اسکی بڑھتی ہوئی قیمت نے ہندوستانی حکومت کی دوڑیں لگوا دی تھیں لیکن پاکستانی عوام سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے سبب دور ہوتے جارہے ہیں مگر حکومت کو ’’خبر‘‘ ہی نہیں بلکہ یہاں کسی چیز کی کمی پیدا ہو جائے۔ ابھی خوراک کی قیمتوں کا ہی ماتم ختم نہیں ہوتا کہ دواؤں کی قیمتوں میں اضافے کی بھی خبر سامنے آجاتی ہے ،اب بیمار ہونے سے پہلے بھی کیلکولیٹر سامنے رکھ کر حساب لگانا پڑا کرے گا کہ دواؤں کی قیمتوں میں مجوزہ اضافہ لوگوں کو عام بخار اور فلو کی گولیاں بھی خریدتے ہوئے سوچنے پر مجبور کر دے گا کہ یہی چار پیسے بچا کر ایک ٹماٹر یا دو آلو خرید لئے جائیں۔
جبکہ گیس بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے بجلی گیس اور پٹرول استعمال کرنے کی نوبت ہی کم سے کم آتی جائے گی ۔ اس پر مستزاد کے تمام ریاستی ادارے ہاتھ دھو کر عوام کے پیچھے پڑ چکے ہیں بندہ جائے تو جائے کہاں ؟۔ کیا پاکستانی عوام کائنات میں کوئی وقعت رکھتے ہیں؟ کیا یہ وہی انسان ہے جسے خالق کائنات نے واجب التکریم قرار دیا ہے پھر اس کی اتنی بے توقیری پر سب کیوں خاموش ہیں ؟۔
اشرافیہ کے ملک میں عوام کو مر ہی جانا چاہیے؟
09:10 AM, 18 Dec, 2025