فکر عمل کی اساس ہے۔ اگر فکر میں ٹیڑھ رونما ہو جائے تو عمل کی دیوار ٹیڑھی ہی تعمیر ہو گی۔ دانش مندوں نے صدیوں پہلے سے کہہ رکھا ہے:
خشت ِ اول چوں نہد معمار کج
تاثریا می رود دیوار کج
وہ زمانے لد گئے جب اچھی اردو لکھنے میں فارسی از خود در آتی تھی۔ اب تو ا ردو لکھتے ہوئے یہ خیال ہمہ وقت دامن گیر رہتا ہے کہ تحریر میں کہیں کلاسیکی الفاظ و تراکیب شامل نہ ہوجائیں مبادا ہماری جین زی کے طبع نازک پر گراں گزریں۔ بہرطور اس فارسی محاورے کا مطلب بتائے جاتے ہیں:اس کا مطلب یہ ہے کیہ جب معمار یعنی دیوار تعمیر کرنے والا خشت ِ اول ہی ، یعنی پہلی اینٹ ہی، ٹیڑھی رکھ دیتا ہے تو دیوار خواہ ہمدوشِ ثریا ہو جائے، یعنی آسمان تک بھی بلند ہو جائے تو اس میں کجی رہتی ہے، یعنی ٹیڑھی رہتی ہے۔ امید واثق ہے کہ اس کے بعد جین زی مشکل الفاظ کے معنی دریافت کرنے سے توبہ کر لے گی۔ ہوا یوں کہ گزشتہ ہفتے کا کالم ہم نے اپنے بھانجوں بھتیجوں کے فیملی گروپ میں بھیج دیا۔ دلِ ناداں نے سوچا کہ گھر والوں کو بھی ہماری لکھت پڑھت کا کچھ فائدہ ہونا چاہیے۔ سو! کالم کے ساتھ ہی یہ بھی لکھ بھیجا کہ پیارے بچو!اِس میں مشکل الفاظ کے معانی بھی پوچھ لیجیے گا اب تک کی صورت حال کچھ یوں ہے کہ ترکی، آسٹریلیا، انگلینڈ سے لے کر پاکستان تک الحمدللہ کسی نے کسی بھی لفظ کا مطلب نہیں پوچھا، ثابت ہوا کہ اِن سب کی اردو بہت ہی اچھی ہے ماشاءاللہ استغفرا للہ! لہٰذا فکر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ جسے معانی سے کچھ مطلب ہوگا، وہ لفظ بھی پوچھ لے گا۔
آمدم برسر مطلب فکر چونکہ عمل کی بنیاد ہے، اس لیے اپنی فکر کی فکر کرنی چاہیے۔ اپنی فکر کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے۔ فکر مقدار و حجم سے زیادہ اپنے معیار و اخلاص سے تعلق رکھتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ کوئی شخص بہت اچھا محقق ہو، مفسر ہو، لفظوں کا قارون ہو، مفتی فاضل کی اضافی سند بھی رکھتا ہو، فنِ خطابت میں طاق ہو، اوراق پر اس کا اشہبِ قلم خوب روانی سے دوڑتا ہو لیکن لیکن اس کی فکر تاریخ کے درست میں کھڑی نہ ہو اس کی فکر میں پاکیزگی کی کمی ہو وہ دین سے زیادہ دنیا کے تقاضوں پر چلتا ہو، وہ انسانی جذبوں سے زیادہ حیوانی جذبوں اور جبلتوں کے زیرِ اثر ہو۔ یہ ایک غیر پاکیزہ غیر پاکیزہ فکر ہے ۔ یہ ہمارے علم کو بدعلمی میں بدل دیتا ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصف کا قول ہے: بے علمی بدعلمی سے بدرجہا بہتر ہے۔ دراصل جس طرح بے عملی، بدعملی سے بہتر ہوتی ہے ، اسی طرح بے علمی، بدعلمی سے بہتر ہوتی ہے۔ عمل کی بنیاد علم ہے۔ اگر علم ہی درست نہ ہوگا تو عمل کیسے درست ہو سکتا ہے۔ بظاہر درست نظر آنے والا عمل بھی بباطن موجبِ فساد ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مومن اپنی تمام تر غلطیوں کے باوجود اس کافر سے بہتر ہوتا ہے جو بظاہر سارے کام ٹھیک کر رہا ہے۔ مومن کی نیت مومنانہ ہوتی ہے۔ کافر اپنی نیت کی وجہ سے کفر میں ہوتا ہے۔ مومن کی نیت میں اللہ اور اس کے رسول کی رضا جوئی ہے، جبکہ غیر مومن کی نیت میں اپنے نفس کے حکم کی تعمیل و تکمیل ہے۔ نفس بے غرض نہیں ہو سکتا۔ اس کی بنیاد ہی انا اور غرض پر اٹھائی گئی ۔ بظاہر بے غرض نظر آنے والی این جی اوز کے پسِ پشت کوئی خاص مقصد، کوئی مخصوص ایجنڈا ہوتا ہے۔ حدیثِ پاک ہے: ”مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے“۔ سبحان اللہ! ظاہر ہے، مومن کے پیشِ نظر خالق کی خوشنودی ہے۔ مخلوق کی نظر عمل پر ہوتی ہے جبکہ خالق کی نظر اس کی نیت پر اور نیت میں مومن کھرا ہےمخلص ہے۔ اس کی نیت میں مخلوق کو خوش رکھنے کی کوئی آمیزش نہیں۔ اگر وہ مخلوق کو خوش کرتا ہے تو بھی اس کے پیشِ نظر خالق کو خوش کرنا ہوتا ہے۔ خالق کی خوشنودی کا طالب ہر حال میں خوش ہے۔ وہ خوف اور حزن سے آزاد ہے۔ مخلوق کی رضا جوئی ایک کارِ دشوار بھی ہے اور کارِ محال بھی۔ مخلوق متنوع ہے، مخلوق کا مزاج متغیر رہتا ہے، مخلوق خود کثرت میں ہے خالق ایک ہے، واحد ہے، بلکہ احد ہے وہ مستقل ہے، قائم ہے اور اپنی ذات میں آپ حمید ہے، اس کی سنت تبدیل نہیں ہوتی اس کے کلمات تبدیل نہیں ہوتے یعنی اس کی شریعت بھی تبدیل نہیں ہوتی۔ اس کی پسند اور نا پسند میں بھی کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی۔ وہ جن کاموں سے پہلے خوش تھا، آج بھی ان ہی کاموں سے ، ان ہی باتوں سے ، ان ہی اخلاقیات سے خوش ہوتا ہے۔
مرشدی حضرت واصف علی واصف اپنی کتاب ”دل دریا سمندر“ کے ایک مضمون ”خوف“ میں فرماتے ہیں: اللہ کے دوستوں اور خاص بندوں کی یہ پہچان بتائی گئی ہے کہ ان کے ہاں خوف اور حزن نہیں ہوتا۔ اللہ کے دوست نیت کی پاکیزگی کے بغیر کوئی عمل نہیں کرتے۔ ان کے اعمال اچھی نیات کی وجہ سے درست ہیں۔
معلوم ہوا کہ اللہ کا دوست ، اللہ کا خاص بندہ بننے کے لیے ضروری ہے کہ نیت کو پاکیزہ کر لیا جائے۔ کوئی عمل غیر پاکیزہ نیت کے ساتھ نہ کیا جائے۔ خالص نیت کے ساتھ تھوڑا عمل اس ڈھیروں عمل سے بہتر ہے جس کے پسِ پشت نیت خالص نہ ہو۔ یہاں خالص سے مراد اخلاص ہے۔ اخلاص اپنے مزاج اور مفاد کی نفی کا نام ہے۔ اخلاص یہ ہے کہ انسان کا کام ہو یا کلام ، وہ یہ دیکھے کہ یہ میں اپنی کسی خواہش کی تکمیل کے لیے کر رہا ہوں یہ اللہ کے کسی حکم کی تعمیل کے لیے۔ میں رزق کما رہوں تو کس لیے؟ رزق تقسیم کر رہا ہوں تو کس لیے ؟ ۔ سو رہا ہوں تو کس لیے جاگا ہوں تو کس لیے ؟ کھانا کھا رہ ہوں تو کس لیے لذتِ دہن کے لیے یا زندگی کی سانس قائم رکھنے کے لیے؟ لوگوں کے ساتھ میرا ملنا کس لیے ہے ؟ اپنا سوشل سرکل بڑھانے کے لیے؟ یا ان کے کام آنے کے لیے ؟
جب زندگی اور زندگی کے سب اسباب ہمیں مستعار دیے گئے ہیں تو پھر اِن پر اپنی ملکیت جتلانا، فخر کرنا ، اور ان پر اپنی مرضی سے تصرف کرنا آخر ہمیں کہاں لے جائے گا؟ ”اپنا مال اپنی مرضی“ بھی اتنا ہی غیر پاکیزہ فکر ہے جتنا ”اپنا جسم اپنی مرضی“ یہ طرزِ فکر باغیوںکا ہے فرعون ، قارون اور ہامان کا اور یہ فکر کفر ہے۔ کفر کے معانی حقیقت کو چھپا دینے کے ہیں۔ انبیا کے فکر کے مقابلے کھڑے ہونے والے اپنے خالق کے باغی ہیں۔ حقیقی فکر انبیا کا طرزِ فکر ہے اور حقیقی عمل بھی اس عمل کی تقلید ہے جو انبیا اکرام نے کر کے دکھا دیا۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں فکر و عمل کی تقلید کے لیے انبیا کے امام میسر آئے امام الانبیا حضرت محمد مصطفی کا لایا ہوا نصابِ فکر ایک گولڈ سٹینڈرڈ ہے باقی سب افکار اسی نسبت سے طے ہوں گے۔ جو فکر اِس نصابِ زیست کی مطابقت میں ہو گا، قابلِ عمل ہو گا، قابلِ قبول ہو گا اور وہی مقبولِ دو جہاں ہوگا۔ امام دو جہاں نے صرف عبادت ہی نہیں کی بلکہ ایک بھرپور زندگی بسر کر کے دکھائی ہے آپ کی زندگی اول تا آخر، یہاں تک کہ قبل از بعثت بھی کمالِ اخلاق سے عبارت تھی۔ آپ کا اخلاق، اخلاق کی انتہا ہے۔ دنیا کی ہر اخلاقیات اخلاقِ محمدی سے ماخوذ ہے۔ خود کو امتِ محمدی کہلوانے والے اگر اخلاقِ محمدی سے دور کھڑے دکھائی دیں تو غور کا مقام ہے۔ اخلاق دراصل معاملاتِ انسانی کو اخلاقِ محمدی کی روشنی میں حل کرنے کا نام ہے۔ اِسی پاکیزہ ذاتِ والا صفات سے وابستگی ہماری فکر کو پاکیزہ کرتی ہے۔ پھر یہ پاکیزگیِ فکر ہمیں اخلاق اور اخلاص کی طرف لے جاتی ہے۔
نفرت، کینہ، حسد، غرور اور شہوت فکرِ ناپاک کے تلچھٹ ہیں یہ ہمیں ریاکاری اور بد اخلاقی پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ناپاک فکر سے ناپاک عمل برآمد ہوتا ہے۔ کوئی طنزیہ جملہ اچانک سرزد نہیں ہوتا کسی کی عزت کو اچھالنے والا تبصرہ سہو نہیں ہوتا اس کے پیچھے ایک فکر موجود ہوتی ہے، غیر پاکیزہ فکر! بدگمانی سے بڑھ کر کوئی فکر بد نہیں اور خوش گمانی سے بڑھ کر کوئی فکر خوش نما نہیں۔
باہر کی دنیا میں سب افکار ملے جلے ہیں۔ پاکیزہ کو غیر پاکیزہ سے جدا کرنا سالک کے ذمے ہے۔ لازم ہے کہ وہ دل کے دروازے پر دربان بن کر بیٹھے اور صرف پاکیزہ فکر ہی کو اپنے قلب میں داخل ہونے دے، غیر پاکیزہ کو باہر ہی سے بھگا دے۔ قلب باطن کا دروازہ ہے یہ باہر کی دنیا اور باطن کی دنیا کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کسی محتسب کو کھڑا کرنا ضروری ہے تاکہ قلب تک اور پھر قلب کے ذریعے روح تک کوئی غیر پاکیزہ فکر دراندازی نہ کر پائے۔ اسفل السافلین سے اعلیٰ علین تک کا سفر پاکیزہ فکر کے اسپِ تازی پر کیا جاتا ہے۔ دراصل ہمارا طرزِ فکر ہی ہماری عاقبت ہے۔
پاکیزگیِ فکر سے پاکیزگی ِقلب تک
09:38 AM, 19 Aug, 2026