ہم خود کب بدلیں گے؟

09:37 AM, 19 Aug, 2026

پاکستان کو قائم ہوئے 79برس مکمل ہو گئے ہیں ۔تحریک پاکستان کے دوران ہمارے آباواجداد نے جان ومال کی قربانیاں پیش کیں ، اس دوران ” پاکستان کا مطلب کیا.... لا الٰہ الا اللہ“ کا نعرہ زبانِ زدِ عام تھا۔ قیام پاکستان کا مقصد ایک ایسے اسلامی معاشرہ کی تشکیل تھا جو پوری دنیا کیلئے ایک مثال ہو، جہاں قانون کی نظر میں سب برابر اور ہر ایک کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ شروع کے چند برسوں میں پاکستان نے ترقی کی منازل بھی طے کرنا شروع کر دی تھیں کیونکہ اس وقت لوگ سادہ ، محنتی اور پاکستان سے محبت کرتے تھے ۔ انہیں ان قربانیوں کا احساس تھا جو تقسیم ہند کے وقت مسلمانان برصغیر نے دی تھیں۔ ہجرت کے روح فرسا واقعات پڑھ اور سن کر آج بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ بعد کے برسوں میں مفاد پرست ٹولہ غالب آتا گیا اور آج صورتحال ہم سب کے سامنے ہے۔ آج ہم اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ پاکستان کب بدلے گا؟ سیاست کب درست ہوگی؟ ادارے کب مضبوط ہوں گے؟ معیشت کب سنبھلے گی؟ مہنگائی کب ختم ہوگی؟ قانون کی حکمرانی کب قائم ہوگی؟ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہیں لیکن شاید ہم نے سب سے بنیادی سوال پوچھنا چھوڑ دیا ہے کہ ہم خود کب بدلیں گے؟
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ہر شخص تبدیلی کا خواہش مند ہے مگر تبدیلی کی ابتدا اپنے آپ سے کرنے پر آمادہ نہیں۔ ہمیں ٹریفک کا نظام خراب نظر آتا ہے لیکن ہم خود ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ہمیں کرپشن سے نفرت ہے مگر معمولی جائز کام نکلوانے کےلئے بھی سفارش تلاش کرتے ہیں۔ ہمیں جھوٹ برا لگتا ہے مگر اپنے مفاد کےلئے سچ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ ہم قانون کی بالادستی چاہتے ہیں لیکن جب قانون ہمارے خلاف ہو تو اسے ناانصافی قرار دیتے ہیں۔ یہی تضاد ہماری قومی زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ ہم نے سیاست کو بھی اپنی شخصیت کا پیمانہ بنا لیا ہے۔ جس سیاسی جماعت سے ہم محبت کرتے ہیں، اس کے رہنما کی ہر بات ہمیں درست دکھائی دیتی ہے جبکہ مخالف جماعت کا ہر شخص ہمیں غلط نظر آتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس رویے کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ چند سیکنڈ میں کسی کی کردار کشی کی جا سکتی ہے، کسی کی عزت مجروح کی جا سکتی ہے اور کسی جھوٹی خبر کو ہزاروں لوگوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ ایک مہذب معاشرے میں لوگ ایک دوسرے سے شدید اختلاف کر سکتے ہیں مگر ایک دوسرے کی عزت برقرار رکھتے ہیں۔ وہاں دلیل کا جواب دلیل سے دیا جاتا ہے، گالی سے نہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں دلیل کمزور پڑ رہی ہے اور الزام طاقتور ہوتا جا رہا ہے۔ اصل مسئلہ صرف سیاست دانوں کا نہیں۔ سیاست دان بھی اسی معاشرے سے آتے ہیں جس معاشرے کے ہم شہری ہیں۔ اگر معاشرے میں برداشت کم ہوگی تو سیاست میں بھی برداشت کم ہوگی۔ اگر ہم اپنے روزمرہ معاملات میں قانون، اخلاق اور ذمہ داری کو اہمیت نہیں دیں گے تو پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں سے غیر معمولی کردار کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟ 
دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں کا جائزہ لیا جائے تو وہاں ریاستی نظام کے ساتھ ساتھ شہری شعور بھی مضبوط ہوتا ہے۔ لوگ اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ سڑک صرف ان کی نہیں، دوسروں کی بھی ہے۔ قطار میں کھڑا ہونا معمولی بات نہیں بلکہ دوسرے انسان کے حق کا احترام ہے۔ ٹیکس دینا صرف حکومت کو رقم دینا نہیں بلکہ ریاستی نظام میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔ صفائی صرف بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ شہری کی بھی ذمہ داری ہے۔ ہم ہر سہولت چاہتے ہیں لیکن اس سہولت کےلئے اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ تبدیلی کبھی بڑے نعروں سے نہیں آتی بلکہ تبدیلی ایک چھوٹے سے فیصلے سے شروع ہوتی ہے۔ سڑک پر سرخ بتی پر رک جانا بھی تبدیلی ہے۔ کسی کمزور کا حق نہ مارنا بھی تبدیلی ہے۔ دفتر میں رشوت سے انکار کرنا بھی تبدیلی ہے۔ کسی غریب کے ساتھ عزت سے پیش آنا بھی تبدیلی ہے۔ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ خبر آگے نہ بڑھانا بھی قومی خدمت ہے۔ ہم شاید یہ سمجھتے ہیں کہ یہ معمولی کام ہیں لیکن دراصل قوموں کی تعمیر انہی معمولی رویوں سے ہوتی ہے۔ پاکستان کو صرف اچھی حکومت کی ضرورت نہیں، اچھے شہریوں کی بھی ضرورت ہے۔ ہمیں مضبوط ادارے چاہئیں مگر مضبوط کردار بھی چاہیے۔ 
 یہ المیہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کامیابی کے راستے تو بتاتے ہیں مگر کردار کا راستہ دکھانا بھولتے جا رہے ہیں۔ ہم انہیں کہتے ہیں کہ بڑا آدمی بنو، مگر یہ نہیں کہتے کہ اچھا انسان بھی بنو۔ ہم انہیں مقابلہ کرنا سکھاتے ہیںمگر دوسروں کا احترام کرنا نہیں۔ ہم انہیں زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں مگر یہ نہیں سکھاتے کہ کسی کا حق چھین کر حاصل کی گئی کامیابی دراصل ناکامی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں صرف معاشی ، سیاسی یا انتظامی بحران کا سامنا نہیں بلکہ اخلاقی بحران کا بھی سامنا ہے۔ اس بحران کا علاج کسی ایک حکومت، جماعت یا ادارے کے پاس نہیں۔ اس کا علاج ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم شکایت کرنے والی قوم بننا چاہتے ہیں یا ذمہ داری اٹھانے والی قوم۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم ہر مسئلے کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دیتے رہیں گے یا اپنی ذمہ داری بھی قبول کریں گے۔ پاکستان میں وسائل کی کمی ضرور ہے، مسائل بھی بے شمار ہیں لیکن اس ملک میں صلاحیت، ذہانت، محنت اور جذبے کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اصل ضرورت اس اجتماعی قوت کو درست سمت دینے کی ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کو گرانے کے بجائے اٹھانے کی روایت پیدا کرنا ہوگی۔ اختلاف کو برداشت کرنا ہوگا۔ سچ کو سچ اور غلط کو غلط کہنے کی ہمت پیدا کرنا ہوگی، چاہے غلطی اپنے پسندیدہ شخص سے ہی کیوں نہ ہوئی ہو۔ شاید پاکستان کے بدلنے کا سفر کسی بڑے جلسے، کسی بڑی تقریر یا کسی نئے نعرے سے شروع نہ ہو۔ شاید یہ سفر ہمارے گھر سے شروع ہو۔ ہماری زبان سے، ہمارے کردار سے، ہمارے فیصلوں سے اور ہمارے روزمرہ کے رویوں سے شروع ہو۔ ہم اگر واقعی پاکستان کو بدلنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے یہ سوال خود سے پوچھیں: کیا میں وہی پاکستان بنا رہا ہوں جس کا خواب میں دوسروں کےلئے دیکھتا ہوں؟ اگر ہر پاکستانی اس سوال کا جواب ایمانداری سے تلاش کرنا شروع کر دے تو شاید ہمیں پاکستان بدلنے کےلئے کسی معجزے کا انتظار نہ کرنا پڑے۔ کیونکہ ملک صرف حکمران نہیں بناتے، قومیں اپنے کردار سے ملک بناتی ہیں۔ آج پاکستان کو سب سے زیادہ کسی نئے نعرے کی نہیں، رویوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

مزیدخبریں