پاکستانی حکومت کے اقتصادی سروے کے مطابق ایک عام پاکستانی کی روزانہ غذائی توانائی کا تقریباً ستر فیصد حصہ اکیلی گندم سے آتا ہے، جو دنیا میں فی کس گندم کھپت کی بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔ یہ اعداد و شمار نہیں بلکہ کروڑوں گھرانوں کی زندگی کا خلاصہ ہے۔ جب آٹے کی قیمت بڑھتی ہے تو نچلا متوسط طبقہ روٹی کی مقدار کم کر دیتا ہے، مگر غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے والوں کے پاس یہ سہولت بھی نہیں۔ قومی خطِ غربت پر سرکاری سروے کے مطابق غربت کی شرح جو 2018-19 میں بائیس فیصد تھی وہ اس سے بڑھ کر 2024-25 میں انتیس فیصد ہو چکی ہے۔ جبکہ عالمی بینک کے نئے بین الاقوامی معیار پر انتہائی غربت پونے پانچ سے بڑھ کر 16.5 فیصد اور غربت 44 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ ان غریبوں کے لیے سوال مقدار کا نہیں، وجود کا ہوتا ہے۔ انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اگلا نوالہ کب اور کہاں سے آئے گا۔ یہ بحران کسی قدرتی آفت کا نہیں، بلکہ ان پالیسیوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے گندم، کپاس اور چینی جیسی بنیادی فصلوں کو غیر یقینی کا شکار بنایا۔
پنجاب کی مٹی وہی ہے جسے صدیوں پہلے دنیا کی زرخیز ترین زمینوں میں شمار کیا جاتا تھا، جہاں پانچ دریا¶ں کا پانی زمین کو سونا بنا دیتا تھا اور جس نے کبھی پورے برصغیر کو غذا فراہم کی۔ مگر آج یہی زرخیز زمین، مسلسل غلط پالیسیوں کے بوجھ تلے، کسان کو مقروض اور قوم کو خوراک کے لیے دوسروں کا محتاج بنا رہی ہے۔ جس ملک کی معیشت کا چوتھائی حصہ اور نصف افرادی قوت کا روزگار زراعت سے جڑا ہو، وہاں اچھی فصل معیشت میں جان ڈال دیتی ہے اور ناکام فصل قوم کو مہنگائی، بے روزگاری اور بھوک کے چنگل میں دھکیل دیتی ہے۔ مالی سال 2023 میں اہم فصلوں کی نمو منفی تھی۔ 2024 میں موسم کی مہربانی سے یہ دس فیصد سے تجاوز کر گئی، حکومت نے اسے اپنی کامیابی بنا کر پیش کیا، حالانکہ زمین پر کچھ نہیں بدلا تھا، صرف بارشیں وقت پر ہوئیں۔ اگلے سال یہ خوش فہمی چکنا چور ہو گئی۔ 2025 میں اہم فصلوں کی نمو منفی تیرہ فیصد تک گر گئی، کپاس کی چنائی میں انیس فیصد کمی آئی، گندم ساڑھے آٹھ فیصد اور کپاس کی پیداوار ایک تہائی سے زائد سکڑ گئی۔ زرعی شعبے کی نمو محض صفر اعشاریہ چھپن فیصد رہ گئی، جی ڈی پی کی نمو محض دو اعشاریہ اڑسٹھ فیصد پر رُک گئی جبکہ صنعت ساڑھے چار فیصد بڑھ سکی۔ یہ فرق گواہ ہے کہ زراعت ڈوبے تو پوری کشتی ڈولتی ہے۔ ٹیکسٹائل مل بند، آٹا چکی خاموش، دیہی منڈی سنسان اور شہر کی روٹی مہنگی۔
اس تباہی کی وجہ پُراسرار نہیں، صاف نظر آنے والی پالیسیاں ہیں۔ گندم کی امدادی قیمت، جو پچاس سال سے کسان کا سہارا تھی، آئی ایم ایف کی شرط پر یکطرفہ ختم کر دی گئی، اس وعدے کے ساتھ کہ آزاد منڈی خود قیمت طے کرے گی۔ مگر منڈی آزاد نہیں ہوئی، صرف کسان تنہا ہو گیا۔ حکومت نے آٹے کی قیمت پر کنٹرول رکھا، مگر گندم خریدنے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ پنجاب نے تین ملین ٹن کے ہدف کے مقابلے میں محض چار لاکھ اسی ہزار ٹن گندم خریدی، نتیجتاً لاکھوں کاشتکاروں کو فصل لاگت سے کم قیمت پر بیچنا پڑی اور اسی سال حکومت نے ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کی گندم درآمد کی، حالانکہ گودام بھرے پڑے تھے۔ اصلاحات کاصرف اعلان ہوا لیکن کسان کو تحفظ نہیں مل سکا۔ کپاس کا زخم اس سے بھی گہرا ہے کیونکہ اس کا تعلق براہِ راست برآمدی معیشت سے ہے۔ ایک دہائی پہلے پاکستان پندرہ ملین گانٹھیں پیدا کرتا تھا۔ 2025 میں یہ پیداوار صرف سات ملین گانٹھ رہ گئی۔ اکتوبر 2024 میں پچھلے سال کے مقابلے میں انسٹھ فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔ ملتان، بہاولپور اور رحیم یار خان کے وہی کھیت، جو کبھی سفید سونا اگاتے تھے، اب گنے کی فصل تلے ہیں کیونکہ ڈیوٹی فری درآمدی سکیموں نے مقامی کپاس کو غیر منافع بخش بنا دیا۔ ٹیکسٹائل کی صنعت، جو برآمدات کا ساٹھ فیصد سے زائد فراہم کرتی ہے، اب زرِمبادلہ خرچ کر کے وہی خام مال باہر سے منگوا رہی ہے جو کبھی پنجاب کے کھیتوں سے ملتا تھا۔
چینی کا بحران بھی اسی بے حسی کی شکل ہے۔ کارٹل اور بااثر مِل مالکان کی ملی بھگت نے تین برس گزرنے کے باوجود کوئی حقیقی احتساب نہیں دیکھا۔ اس تصویر کو دو ہمسایوں کے آئینے میں دیکھیں۔ بھارت میں امدادی قیمت کا نظام 1966 سے قائم اور آج بھی مضبوط ہے۔ 2024-25 میں بھارتی حکومت نے چھبیس اعشاریہ چھ ملین ٹن گندم خریدی اور بائیس لاکھ کاشتکاروں کو براہِ راست ادائیگی کی۔ چین میں ہر سال جاری ہونے والی معاشی دستاویز میں بیس برسوں سے خوراک کی خودکفالت کو سرفہرست رکھا جاتا ہے۔ 2024 میں چین کی اجناس پیداوار سات سو ملین ٹن سے تجاوز کر گئی، مسلسل نویں ریکارڈ سال اور دسمبر 2023 میں خوراکی تحفظ کا قانون نافذ کر کے ہر عہدیدار کو پیداوار کے تحفظ کا پابند بنا دیا گیا۔ فرق صرف تسلسل کا ہے۔ دونوں ملکوں نے اصلاحات کیں، مگر کبھی کسان کو راتوں رات تنہا نہیں چھوڑا۔
راستہ کیا ہے؟ اب یہ سوال جزوی انتظامی تبدیلیوں سے حل نہیں ہو سکتا۔ کوئی نئی سبسڈی، کوئی نئی انکوائری کمیٹی، یا کوئی نیا بورڈ اس بگاڑ کی جڑ تک نہیں پہنچ سکتا، کیونکہ جڑ خود اس نظام میں ہے جو مسلسل ایک ہی طبقے کے مفاد میں فیصلے کرتا ہے۔ اصل راستہ نظام کی مکمل تبدیلی ہے، ایک ایسا قومی نظام جو محض دفتری اصلاحات کا مجموعہ نہ ہو بلکہ عوام کے دین اور دنیاوی ترقی، دونوں کا سچا آئینہ دار ہو، جہاں انصاف اور وسائل کی منصفانہ تقسیم محض نعرے نہیں بلکہ حکمرانی کی بنیاد ہوں۔ اس نئے نظام میں زرعی اصلاحات کی اولین ترجیح جاگیرداری کا خاتمہ ہونی چاہیے، کیونکہ جب تک زمین اور فیصلہ سازی چند خاندانوں کے ہاتھ میں مرتکز رہے گی، امدادی قیمت کا نظام ٹھیک سے چلے گا نہ کارٹل ٹوٹے گا اور نہ چھوٹا کاشتکار اپنی محنت کا پھل پائے گا۔ زمین کی حقیقی ملکیت، پیداواری وسائل تک برابر رسائی، اور دیہی معیشت میں وہی توازن جو بھارت اور چین نے دہائیوں پہلے قائم کیا، اسی انقلابی تبدیلی سے ممکن ہے، نہ کہ چند فیصلوں کی رد و بدل سے۔ ایک بمپر فصل صرف کسان کے گھر خوشحالی نہیں لاتی، وہ ٹیکسٹائل مل کو رواں رکھتی ہے، شہر کی روٹی سستی رکھتی ہے اور معیشت کو سانس لینے دیتی ہے۔ لیکن پالیسی کے عدم تسلسل اور ہماری اپنی بے تدبیری کی بھاری قیمت انہی کروڑوں گھرانوں نے چکائی ہے جن کا دن ایک وقت کی روٹی کے گرد گھومتا ہے۔ جب تک پورا نظام نہیں بدلتا، کسان کی حالت بدلے گی نہ عوام کی اور نہ ہی صنعت کی۔
زرخیز زمین، بھوکا پاکستان--- کیوں؟
09:36 AM, 19 Aug, 2026