آپریشن تندور پر نام نہاد بھارتی ڈاکیو مینٹری!

09:34 AM, 19 Aug, 2026

معرکہ حق کے ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھارت تلخ حقیقت کا سامنا کرنے سے انکار کر رہا ہے۔ ایک ناکام مہم میں شکست تسلیم کرنے کے بجائے بھارت نے تاریخ کو اپنی پسند کے رنگ میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں وہ ہمیشہ کی طرح ناکام رہا ہے ۔ تاریخ کو مسخ کرنے کی اسی کوشش کے تحت بھارتی مواد تخلیق کرنے والوں نے نام نہاد آپریشن سندور کی ایک انتہائی ڈرامائی، رنگین اور حقائق کے اعتبار سے غلط تصویر پیش کی ہے، جسے ایک دستاویزی فلم کی شکل دی گئی ہے اور اس میں بھارت کی اعلی سیاسی و عسکری قیادت کے انٹرویوز بھی شامل ہیں۔ سنجیدگی اور غیر جانب داری کے فقدان کے باعث اس دستاویزی فلم کو بیک وقت ایک المیہ اور ایک مزاحیہ کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔ منتخب انداز میں ایڈٹ کیے گئے انٹرویوز، جذباتی بیانیہ اور بالی ووڈ طرز کی سینماٹک منظرکشی کے ذریعے ثابت شدہ حقائق کو تبدیل اور آپریشن کے حقیقی نتائج کو دوبارہ لکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان حالات میں یہ لگ رہا ہے کہ مودی سرکار نے ہر طرح کے حالات کو بالی وڈ نگری سمجھ رکھا ہے ۔ بھارتی فلموں کی طرح اس موقع پر بھی تخیلاتی مواد کا انتخاب کیا گیا ہے کہ بھارتیوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا سکے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ دستاویزی فلم کا بیانیہ بنیادی تضادات سے بھرا ہوا ہے، جو واقعات کا ایک ایسا ملکی سطح پر قابلِ قبول بیانیہ تشکیل دینے کی دیرینہ کوشش کو بے نقاب کرتے ہیں جو حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔دستاویزی فلم میں پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف کے 16 اپریل 2025 کے خطاب کو 22 اپریل 2025 کے پہلگام واقعے سے جان بوجھ کر جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے، گویا کسی سازش کا تعلق ثابت کیا جا رہا ہو، حالانکہ اس کے لیے کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بھارت نے بعد ازاں دعوی کیا کہ پہلگام واقعے کے تین مبینہ ذمہ دار افراد کی شناخت کر کے انہیں 28 جولائی 2025 کو ہلاک کر دیا گیا، یعنی نام نہاد آپریشن سندور کے 82 دن بعد۔ لیکن یہی دستاویزی فلم آپریشن سندور کو پہلگام واقعے کے ذمہ داروں کو دی جانے والی سزا کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اگر بھارت کے مطابق مبینہ ذمہ دار افراد 28 جولائی کو ہلاک کیے گئے تھے تو پھر اسے یہ وضاحت کرنا ہوگی کہ 7 مئی 2025 کو بھارت نے آخر کن لوگوں کو سزا دی تھی؟ اسی طرح سو فیصد مشن کامیابی کا دعویٰ بھی عملی ریکارڈ سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا۔ مارکہ حق کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کو کامیابی سے ناکام بنایا اور 8 بھارتی فوجی طیارے مار گرائے۔ اس کے بعد پاکستان نے آپریشن بنیان المرصوص کے ذریعے گائیڈڈ راکٹس و میزائلز، پاک فضائیہ کے ہتھیاروں، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں اور درست نشانہ لگانے والے توپخانے کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے 26 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں وہ تنصیبات بھی شامل تھیں جو پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کی گئیں، اور وہ عناصر بھی شامل تھے جو پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے میں ملوث تھے۔دستاویزی فلم خود بھی بھارت کی واضح برتری کے دعوے کو کمزور کر دیتی ہے۔ بھارتی عسکری قیادت نے پاکستانی میزائل، ڈرون اور فضائی سرگرمیوں کا اعتراف کیا ہے، لائن آف کنٹرول پر مسلسل جھڑپوں کا ذکر کیا ہے اور بھارتی فضائی دفاعی نظام کے فعال کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔ یہ اعترافات اس بار بار دہرائے جانے والے دعوے سے مطابقت نہیں رکھتے کہ پاکستان کو فیصلہ کن شکست دے دی گئی تھی۔جنگ بندی کے حوالے سے بھی دستاویزی فلم کا بیانیہ کم انکشاف کن نہیں۔ اس کی اپنی ہی روایات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ دشمنی کا خاتمہ دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان رابطے اور فوجی کارروائیوں کو روکنے پر اتفاق کے ذریعے ہوا۔ یہ حقیقت اس کوشش کی براہِ راست تردید کرتی ہے کہ آپریشن سندور کو یک طرفہ بھارتی فوجی فتح کے طور پر پیش کیا جائے۔ امریکہ کی معاونت سے ہونے والی جنگ بندی کو بعد ازاں غیر مشروط بھارتی فتح کے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
دستاویزی فلم کشیدگی میں اضافے کے حوالے سے بھی اپنے ہی بیانیے سے متصادم ہے۔ ایک طرف اس میں اچانک حملے، درست نشانہ، گہرے حملوں اور جنگ میں برتری کے حصول پر بار بار زور دیا گیا ہے، جبکہ دوسری طرف یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ بھارت نے جان بوجھ کر تنازع کو محدود رکھا اور پاکستان کو واپسی کی گنجائش فراہم کی۔ یہ متضاد دعوے ظاہر کرتے ہیں کہ یہ فلم ایک غیر جانب دار عسکری تجزیے کے بجائے ملکی سطح پر قابلِ قبول بیانیہ تشکیل دینے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔بھارت نے حقیقت کو منظرِ عام پر نہیں لایا بلکہ اس نے ایک پروپیگنڈا ویڈیو تیار کی ہے، جس کے ذریعے ایک فوجی ناکامی کو کامیاب مہم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔کوئی بھی سینماٹک منظرکشی واقعات کی ترتیب کو تبدیل نہیں کر سکتی، طیاروں کے نقصانات کو مٹا نہیں سکتی، فوجی ہلاکتوں کو چھپا نہیں سکتی، حقیقی فوجی جھڑپوں کو تبدیل نہیں کر سکتی اور میدانِ جنگ کی شکست کو خود ساختہ فتح میں تبدیل نہیں کر سکتی۔پاکستان کو مارکہ حق کے حوالے سے کسی مصنوعی بیانیے کی ضرورت نہیں۔ آپریشنل ریکارڈ، میدانِ جنگ کے شواہد، سفارتی رابطے اور خود بھارت کے بعد میں سامنے آنے والے بیانات اس حقیقت کے گواہ ہیں اور عالمی برادری میں بھی ان حقائق کو بڑے پیمانے پر تسلیم کیا گیا ہے۔پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم، پاکستان کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار اور باصلاحیت ہیں۔ آئندہ کسی بھی فوجی مہم جوئی کا جواب مضبوط، فیصلہ کن اور غیر معمولی طور پر مو¿ثر انداز میں دیا جائے گا، جس کے بعد کوئی بھی سینماٹک تحریف بھارت کو اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کا موقع فراہم نہیں کر سکے گی۔

مزیدخبریں