کابل :افغانستان میں قابض طالبان رجیم کی جانب سے نافذ کردہ نیا فوجداری ضابطہ عالمی سطح پر تنازع کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ انسانی حقوق کے ماہرین نے اسے "منظم جبر کا آلہ" قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ نیا نظام افغانستان کو مزید تاریکی اور آمریت کی طرف دھکیل دے گا۔
نئے عدالتی ضوابط کے نفاذ کے بعد افغانستان میں مقیم خواتین، مذہبی اقلیتیں اور سیاسی مخالفین شدید عدم تحفظ کا شکار ہو گئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ضوابط اختلافِ رائے کو کچلنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ عدالتی نظام میں من مانی ترامیم کے ذریعے انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کو پامال کیا جا رہا ہے۔ خواتین کی قانونی حیثیت کو مزید کمزور کر کے انہیں معاشرے کے حاشیے پر دھکیلا جا رہا ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے طالبان کے اس اقدام پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے عالمی برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یہ حکمنامہ انسانی حقوق کے عالمی معیارات کے سراسر منافی ہے، لہٰذا اسے فی الفور کالعدم قرار دیا جائے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے عدالتی نظام کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ نئے ضوابط سے یہ واضح ہوتا ہے کہ افغانستان میں قانون کی حکمرانی کے بجائے "طاقت کی حکمرانی" کا نظام رائج کیا جا رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر افغانستان کی سفارتی تنہائی میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
طالبان کا نیا عدالتی نظام: انسانی حقوق کی بدترین پامالی یا آمریت کی نئی شکل؟ اقوام متحدہ کا حکمنامہ واپس لینے کا مطالبہ
01:15 PM, 18 Apr, 2026