میں نے کام بہت کم پیسوں میں کروا لیا 

09:11 AM, 18 Apr, 2026

دنیا میں انسانوں کے علاوہ ہر چیز ویسی نظر آتی ہے جیسی ہوتی ہے، پاکستان میں جو انسان نما کوئی مخلوق ہے اس کی اکثریت تو بالکل ہی ویسی نظر نہیں آتی جیسی ہوتی ہے، منافقت ہمارے انگ انگ میں ک±وٹ ک±وٹ کر ایسی رچ بس گئی ہے مہذب معاشرے اب اسے ہماری باقاعدہ فطرت قرار دیتے ہیں، بالخصوص ہمارے سیاہ سی اور اصلی حکمرانوں کی منافقت اول درجے کی ہے جس کا مقابلہ دنیا بھر کے کرپٹ اور منافق انسان ایڑی چوٹی و دیگر اعضاءکا پورا زور لگا کر بھی نہیں کر سکتے، ہوسکتا ہے شیطان بھی اب یہ دعا مانگتا ہو“اللہ مجھے پاکستانیوں کے شر سے بچا انہوں نے مجھے”بیروزگار“ کر دیا ہے، پورا سچ بولنے کا یہاں کوئی تصور نہیں ہے، ادھورا سچ بھی کوئی بول دے ہم اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں، ان حالات میں ہمارے وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ ادھورے سچ پر بجائے اس کے ہم انہیں خراج تحسین پیش کریں الٹا ہم ان کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ ا±نہوں نے غلط نہیں کہا کہ پچھلے دو تین برسوں میں تھوک کے حساب سے جو پیسہ بیرون م±لک شفٹ ہوا ہے ا±سے واپس آنا چاہئے، ا±نہوں نے صرف دوسروں کو اپنا پیسہ واپس لانے کے لئے کہا ہے جس کی ظاہر ہے دوسرے کوئی پروا نہیں کریں گے ، سوشل میڈیا کی مخالفت کا ہمارے محترم وزیر داخلہ کو ویسے ہی کوئی فرق نہیں پڑنا، فرق صرف اللہ کے بندوں کو پڑتا ہے، بندوں کے بندوں کو نہیں پڑتا، میں ایک اعلی افسر سے ملنے گیا، لاتعداد ایسے لوگوں کی چٹیں ان کی میز پر پڑی تھیں جو باہر کھڑے ان سے ملنے کے متمنی تھے ۔ وہ اعلی افسر چٹیں دیکھ دیکھ کر اردلی کو ہدایات دے رہے تھے “باہر جنرل صاحب کا بندہ کھڑا ہے اسے بڑے ادب احترام سے اندر لے آو¿، باہر جج صاحب کا بندہ کھڑا ہے ا±ے بھی عزت سے اندر بھیج دو، ایک وزیر کا بندہ کھڑا ہے آخر میں ا±سے بھی ملوا دینا ” میں نے ازرہ مذاق اردلی سے کہا “پتہ کرو باہر سب بندوں کے بندے ہیں یا اللہ کا بندہ بھی کوئی کھڑا ہے ؟” وزیر داخلہ محسن نقوی نے جو ا±دھورا سچ بولا ہے ا±س پر پورا سچ ہمارے محترم بھائی رو¿ف کلاسرا نے بول دیا ہے۔ ا±نہوں نے اپنے روایتی میٹھے میٹھے انداز سے ہٹ کے ک±ھل ک±ھلا کے جو کلاس وزیر داخلہ کی لی ہے اس سے زیادہ اب ہم کیا عرض کریں ؟ ہم بس حیران ہیں خود کو خود بخود چارج شیٹ کرنے کا مشورہ وزیر داخلہ کو کس نے دیا تھا ؟ کچھ ایسے ہی انکشافات کچھ عرصہ پہلے ”وزیر برائے ذاتی دفاع“ خواجہ آصف نے بھی کئے تھے ،بعد میں ا±ن کے ہونٹ اس انداز میں سلے اس کے بعد آج تک ایک لفظ ا±نہوں نے نہیں کہا کہ بڑے بڑے پولیس و دیگر وفاقی محکموں کے اعلی افسروں نے پرتگال میں اربوں کھربوں کی جائیدادیں کیسے بنائیں یا بڑی بڑی رقمیں باہر کیسے شفٹ کیں ؟ کچھ پولیس افسروں کی جائیدادیں دبئی میں بھی ہیں، دبئی کے موجودہ حالات کی وجہ سے وہ پریشان ہیں ا±ن کی جائیدادوں کے ریٹ اتنے نہ گر جائیں جتنے وہ خود گرے ہوئے ہیں، ایک اعلیٰ پولیس افسر اپنی جائیداد دبئی سے ترکی شفٹ کرنا چاہتا ہے جس کے لئے اپنا خصوصی نمائندہ آج کل ا±س نے ترکی بھیجوایا ہوا ہے، میرے محترم بھائی ڈاکٹر عامر عزیز آج کل اپنی ہر تقریر کا آغاز اس بددعا سے کرتے ہیں”جس جس نے پاکستان کو نقصان پہنچایا اللہ ا±سے تباہ و برباد کر دے“، وزیر داخلہ محسن نقوی نے پچھلے دو تین برسوں میں اربوں کھربوں روپے بیرون م±لک شفٹ ہونے کا دعویٰ کیا ہے، پہلے وہ یہ بتائیں یہ اربوں کھربوں روپے بنائے کیسے گئے ؟ ان کا بیرون م±لک شفٹ ہونا بعد کا معاملہ ہے، کچھ خاص یا طاقتور لوگوں کو ناجائز طور پر اربوں کھربوں روپے بنانے کی اگر ک±ھلی چ±ھٹی تھی پھر ا±نہیں بیرون م±لک بھجوانے کی ک±ھلی چ±ھٹی پر اعتراض کیوں کیا جا رہا ہے ؟ عمران خان جب وزیراعظم بنے مجھ سے ا±نہوں نے پوچھا ”پاکستان کو کرپشن سے پاک کیسے کیا جاسکتا ہے ؟“، میں نے عرض کیا ”سب سے زیادہ کرپٹ “سیاسی بیوروکریسی ہے، کچھ دوسرے محکموں کی اعلیٰ شخصیات بھی مہاں کرپٹ ہیں ، آپ کسی غیر م±لکی صاف شفاف تحقیقاتی ایجنسی کو یہ ٹاسک دیں وہ آپ کو یہ رپورٹ دے بڑے بڑے افسران نے جب سروس جائن کی تھی تب ا±ن کے اثاثے کتنے تھے اب کتنے ہیں ؟ اگر یہ ثابت ہو جائے یہ اثاثے ا±نہوں نے ناجائز طور پر بنائے ہیں سب اثاثوں پر قبضہ کر کے انہیں سزائیں دیں اور اس کے لئے باقاعدہ قانون سازی کریں، ا±س کے بعد کسی کو کرپشن کی جرات ہی نہیں ہوگی ” خان صاحب بولے “بالکل ہم ایسے ہی کریں گے،ہم اقتدار میں چولیں مارنے نہیں آئے، پھر خود چھوٹے چھوٹے معاملات میں ایسی ایسی چولیں ا±نہوں نے ماریں اب اس کا کیا زکر میں کروں، وہ مارکیٹ میں ب±زدار کو لے آئے، ا±س کی اندھا د±ھند ل±وٹ مار کے جو قصے مشہور ہوئے اگر ریاستی ح±کم یا خواہش پر وہ خان صاحب کے ساتھ لاتعلقی کا اظہار فوری طور پر نہ کرتا آج جیل میں پڑا گل سڑ گیا ہوتا۔ خان صاحب کے دور میں جن لوگوں نے اندھا دھند لوٹ مار کی انہیں صرف خان صاحب کے خلاف ایک پریس کانفرنس کرنے پر”فرشتہ“ قرار دے دیا گیا، اس ملک میں ”مافیاز“ کی طاقت کا یہ عالم ہے اگلے روز میں نے گوجرانوالہ کے ماس ٹرانزٹ منصوبے کی تعمیر میں شہریوں کی شدید مشکلات پر کالم لکھا گوجرانوالہ کے ایک اعلیٰ افسر نے مجھے فون کیا۔ ا±س نے بتایا”اس منصوبے کی تعمیر میں شہریوں کو کچھ آسانیاں فراہم کی جاسکتی تھیں مگر اس م±لک کا ٹھیکیدار مافیا اتنا طاقتور اور مضبوط ہے عوام کی سہولت کے مطابق یا اس مافیا کی مرضی کے خلاف کسی تبدیلی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا“۔ اس پر مجھے یاد آیا ایک بار میں نے اپنے گورنمنٹ کالج لاہور کے دو نئے بلاکوں کی تعمیر کے لئے ا±س وقت کے وزیراعلی پرویز الٰہی سے چودہ کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کروائی، جب کام شروع ہوا میں نے ٹھیکیدار سے کہا ”اگر میٹریل یا تعمیر میں کوئی ڈنڈی ماری میں تمہاری شکایت کروں گا“۔ وہ بولا”سر آپ کی شکایت سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑنا،چودہ کروڑ میں سے ہمارے وزیر، ہمارے سیکرٹری صاحب، ہمارے ایس ای، ایکسین، علاقے کے ایم این اے،ایم پی اے کا جتنا حصہ بنتا ہے وہ نکال کے باقی جو تھوڑی بہت رقم بچے گی انشااللہ اس میں کوئی ڈنڈی نہیں ماریں گے“۔ ان حالات میں ہمارے وزیر داخلہ کو چاہیے دیکھاوے کے گلے شکوے کرنے کے بجائے کرپٹ مافیا کے ہاتھ مضبوط کر کے اپنے ہاتھ مذید مضبوط کریں، پچھلے دنوں مجھے سی ڈی اے میں کام پڑا ، کسی نے کہا اپنے دوست محسن نقوی سے بات کرو، میں نے کہا ”میں انشااللہ یہ کام بہت کم پیسوں میں کروا لوں گا“۔ آخر میں بس قمر جلالوی کا ایک شعر وفاقی وزیر داخلہ کی نذر ہے ۔
اب آگے اس میں تمہارا بھی نام آئے گا 
جو حکم ہو تو یہیں چھوڑ دوں فسانے کو

مزیدخبریں