بہتری کے آثار نظر آنے لگے ہیں 

09:09 AM, 19 Apr, 2025

ایسے لگتا ہے کہ ہمارے دن پھرنے لگے ہیں، عوام کے اچھے دن آنے والے ہیں، اچھی خبریں پڑھنے اور سننے کو مل رہی ہیں، قومی معیشت مسلسل بہتری کی طرف گامزن ہو چکی ہے، ہمیں قرض دینے والے، ہمارے مائی باپ، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ والے ہمارے کھاتے چیک کر چکے ہیں۔ ویسے تو وہ ایسا ہر تین ماہ بعد کرتے ہیں۔ اس دفعہ بھی انہوں نے ہماری کارگزاری جانچنے کے لئے بڑی محنت اور عمیق بینی سے ہمارے کھاتے چیک کئے۔ انہوں نے دیکھا کہ سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا ہونا چاہئے، ہم نے ان کی شرائط کے مطابق بلکہ ان کی ہدایات کے مطابق ہی معاملات کو چلایا ہے۔ آمدن و خرچ کے معاملات درست تھے، ہماری ٹیکس وصولیاں، مناسب اور اخراجات بھی طے کردہ حدود کے اندر ہی تھے۔ انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔ اب آئی ایم ایف کا وفد بجٹ 2025-26ءکی تیاری کے حوالے سے معاملات طے کر رہا ہے، ٹیکس وصولوں کا حجم کیا ہوگا، ٹیکس کا حجم کیسے بڑھایا جائے گا؟ ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیسے ہوگا؟ نجکاری کے عمل کو کیسے تیز اور مو¿ثر بنایا جائے گا؟ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے جاری منصوبے کو کس طرح آگے بڑھایا جائے گا؟ سرکلر ڈیٹ یا گردشی قرضہ کیسے کم یا ختم کیا جا سکے گا؟ ۔
زرمبادلہ کے ذخائر میں ہماری توقعات سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، سمندر پار پاکستانیوں کے کنونشن کا انعقاد ایک اہم بلکہ بہت اہم واقعہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بیرون ممالک پاکستانیوں میں عمران خان مقبول ہیں۔ امریکہ و برطانیہ میں بسنے والے پاکستانی، عمران خان کے لئے فنڈز بھی فراہم کرتے ہیں۔ ان کی رہائی کی کاوشیں بھی کی جاتی رہی ہیں۔ عمران خان وقتاً فوقتاً ایسے ہی پاکستانیوں کو مخاطب کرکے پاکستان زرمبادلہ بھجوانے سے باز رکھنے کی اپیلیں بھی کرتے رہے ہیں۔ ظاہر ہے یہ ایک خطرناک رجحان ہے پھر امریکہ میں بسنے والے عمران لوورز نے بائیڈن انتظامیہ سے بھی اپیلیں کیں کہ عمران خان کے حوالے سے حکومت پاکستان پر دباﺅ ڈالا جائے۔ دس بارہ نمائندگان کے دستخطوں سے ایک خط بھی بائیڈن کو بھجوایا گیا لیکن ایسی کاوشوں کا کچھ بھی اثر نہیں ہوا پھر الیکشن مہم کے دوران ٹرمپ سے کچھ بات چیت کی گئی شاید وعدہ بھی لیا گیا اور پھر پروپیگنڈہ کے ذریعے انصافی بھائیوں نے ایک طوفان اٹھا دیا کہ ”ٹرمپ آئے گی اور عمران خان چھڑائے گی“ ٹرمپ کی جیت کا جشن بھی منایا گیا لیکن الحمدللہ کچھ بھی ایسا نہیں ہوا جو انصافی امید لگائے بیٹھے تھے امریکی وفد نے سپیکر ایاز صادق کے عشایئے میں جہاں اپوزیشن اراکین بھی موجود تھے، وضاحت سے کہا کہ ”امریکی انتظامیہ کا پاکستان کی داخلی سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں ہے“ گویا عمران خان کی کسی دباﺅ پر رہائی کا معاملہ ختم ہو گیا ہے پھر تارکین وطن کے کنونشن کی کامیابی بلکہ شاندار کامیابی نے بھی تحریک انصاف کا یہ بھرم کھول دیا کہ سارے تارکین وطن عمران خان کے حمایتی ہیں۔ کنونشن میں آرمی چیف نے جس طرح جذبات کا اظہار کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ پاکستان کے دشمنوں کو جس طرح للکارا اور ان کی کمر توڑنے کے عزم صمیم کا بیان کیا گیا اس سے تارکین وطن کے ذہنوں میں پائے جانے والے شکوک و شبہات دور کرنے میں مدد ملی۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کھل کر اظہار خیال کیا۔ انہیں سرمایہ کاری کی دعوت دی، سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا، سب سے اہم بات تارکین وطن نے جس طرح جوابی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا وہ بھی قابل رشک ہے، معاملات مثبت سمت میں بڑھتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ 
ادائیگیوں کے باوجود 9ماہ میں پاکستان کا کرنٹ اکاﺅنٹ 1.85ارب ڈالر سرپلس رہا۔ یہ ایک انتہائی خوشگوار خبر ہے۔ پاکستان نے مارچ کے مہینے میں دنیا سے 2فیصد کم 4.94ارب ڈالر کا سامان خریدا اور 6فیصد زائد 2.76ارب ڈالر کا سامان بیچ کر تجارتی خسارہ کم کیا۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ عمرانی دور حکمرانی کے آخری دنوں میں پاکستان کے عالمی اداروں بشمول آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک وغیرھم کے ساتھ معاملات بگڑ چکے تھے۔ آئی ایم ایف نے ہمیں کچھ بھی دینے سے انکار کر دیا تھا ہم نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ پر دستخط کرنے اور اس کی شرائط تسلیم کرنے کے باوجود، شرائط کے برعکس معاشی و اقتصادی اقدامات اٹھانا شروع کر دیئے تھے جن کے باعث معاملات میں بگاڑ پیدا ہوا۔ تمام عالمی مالیاتی اور زری اداروں کے ساتھ پاکستان کی کٹی ہوگئی تھی۔ برادر اسلامی ممالک نے بھی ہماری امداد سے ہاتھ اٹھا لیا تھا۔ پاکستان ڈیفالٹ کے دھانے تک پہنچ گیا تھا لیکن آج الحمدللہ معاملات قابو میں ہی نہیں ہیں بلکہ مثبت سمت میں جا رہے ہیں۔ عالمی ادارے فچ نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو مستحکم اور مثبت قرار دیا ہے بلوم برگ نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں بھی پاکستان کی معاشیات بارے مثبت رائے دی ہے۔ امریکہ کے ساتھ ہمارے معاملات اچھے نہیں بلکہ بہت اچھے چل رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ مطلوبہ شریف اللہ دہشت گرد کی گرفتاری کے حوالے سے پاکستان کی شکرگزار ہے۔ صدر ٹرمپ اس حوالے سے پارلیمانی میں اپنے افتتاحی خطاب میں برملا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ معاملات بڑے مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ 
13برس بعد بنگلہ دیش کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات ایک نئے موڑ پر کھڑے نظر آنے لگے ہیں۔ سیکرٹری خارجہ لیول پر مذاکرات کا آغاز بہت بڑی پیشرفت ہے بنگلہ دیش کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر محمد یونس کے ساتھ ہمارے سیکرٹری خارجہ کی ملاقات ایک اہم قدم ہے۔ آنے والے دنوں میں ہمارے تجارتی و ثقافتی تعلقات میں اضافہ متوقع ہے۔ ہر طرف سے مثبت خبریں آ رہی ہیں۔ پاکستان امکانات سے بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ہاں ایک بات ضروری ہے سب کچھ ہونے کے باوجود ویسا کچھ نہیں ہو رہا ہے جیسا ہونا چاہئے۔ مہنگائی کم ہونے کے باوجود اتنی کم نہیں ہوئی ہے کہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔ عام آدمی کی قوت خرید سکڑ چکی ہے۔ اس میں اضافے کئے بغیر تعمیر و ترقی کے ثمرات اپنا آپ نہیں دکھا پائیں گے۔ 

مزیدخبریں