معیشت کی بہتری میں پی ٹی آئی کا کردار

09:08 AM, 19 Apr, 2025


مارچ کے مہینے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ریکارڈ 4ارب دس کروڑ ڈالر ترسیلات زر پاکستان بھجوائیں ۔ اس میں سب سے زیادہ سعودی عرب سے 98کروڑ 73لاکھ،متحدہ عرب امارات سے 84کروڑ21لاکھ ، برطانیہ سے 68کروڑ 39لاکھ اور امریکہ سے 41کروڑ95لاکھ ڈالر کی ترسیلات زر پاکستان آئیں ۔ یہ تفصیل اس لئے بتائی تاکہ پتا چل سکے کہ یہ Remittance صرف عرب ممالک سے نہیں آئے بلکہ یورپ اور امریکا سے بھی آئے ہیں لیکن اصل سٹوری یہ نہیں ہے ۔ انٹرنیشنل ریٹنگ ایجنسی فچ نے معاشی میدان میں تین سال بعد پاکستان کی طویل مدتی غیر ملکی قرضہ جاتی ریٹنگ میں بہتری کرتے ہوئے سی پلس سے بی مائنس کر دیا ہے لیکن یہ بھی اصل سٹوری نہیں ۔ 2004کے بعد پی آئی اے کو 26ارب سے زیادہ کا خالص منافع ہوا ہے لیکن یہ بھی اصل سٹوری نہیں ہے ۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تاریخ ساز تیزی کے ساتھ ہنڈرڈ انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہا ہے اور یہ بلا وجہ نہیں ہوتا بلکہ یہ پاکستان کی اکانومی میں بہتر اشارے ہیں لیکن یہ بھی اصل سٹوری نہیں ہے ۔ زیادہ تجسس ٹھیک نہیں لہٰذا معیشت کی بہتری میں بات کرتے ہیں تحریک انصاف کے کردار کی ۔8 فروری 2025کوایک سیاسی جماعت کے آفیشل اکاﺅنٹ سے ٹویٹ کیا گیا کہ NO RIGHTS----NO REMITTANCE۔ پھر11فروری کو ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا کہ اس حکومت کو Remittanceبھیجنا بند کر دیں ۔ 14فروری کو ٹویٹ کیا کہ ” جمہوریت نہیں توRemittance نہیں ۔ 29دسمبر کوبیرون ملک سے بڑا مزے کا ٹویٹ کیا گیا کہ ” ترسیلات زر کا فیصلہ ہو چکا ۔خان کال دے چکا ۔ پولیٹیکل کمیٹی میں یہ بات کئی دن پہلے طے ہو چکی ہم نے ٹویٹ کر دی لہٰذا اس سلسلے میں کوئی ابہام نہ رہے اور بیرون ملک مقیم پاکستانی ترسیلات زر پاکستان نہ بھیجیں ۔26دسمبر کو بیرون ملک سے ہی ایک اور ٹویٹ کیا گیا کہ تمام پاکستانیوں سے گذارش ہے کہ عمران خان کی ہدایت پر ترسیلات زر پاکستان بھیجنا بند کر دیں جب تک کہ عمران خان کی اگلی ہدایت نہیں آتی ۔اب خان صاحب کی تو اگلی ہدایت نہیں آئی لیکن جس طرح بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ریکارڈ ترسیلات زر بھیجی ہیں تو اسے کہتے ہیں کہ جیسا منہ ویسی چپیڑ لیکن بات یہی تک محدود نہیں بلکہ امریکن وفد پر وفد آ رہے ہیں تو آنے والے دنوں میں مزید کامیابیاں ملیں گی ۔
کچھ قوتیں پاکستان کی بہتری کے لئے کام کر رہی ہیں اور تن من دھن سے کر رہی ہیں لیکن دوسری جانب جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ایک جھلک تو اوپر پیش کی ہے لیکن سوشل میڈیا پر جس طرح جھوٹ کا چورن بیچا جا رہا ہے اس کی مزید تفصیل قارئین کی نذر کرتے ہیں ۔ گذشتہ چند دنوں سے سوشل پر دو جھوٹ جو بڑے وائرل ہو رہے ہیں ان کی اصل حقیقت بتانی ہے کہ کس طرح جھوٹ کا پرچار کر کے عوام کو دھوکہ دیا جا رہا ہے ۔ چند دن پہلے آرمی چیف نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا اور یہ سب کے سب پاکستانی بیرون ملک سے اپنے خرچہ پر پاکستان آئے تھے جس میں آنے جانے کا ٹکٹ ، عزیز و اقارب رشے داروں کے لئے تحفے تحائف پھر ہوٹل میں رہنے کا خرچہ تو یہ پاکستانی چودہ15لاکھ تو کم از کم بن جاتے ہیں ۔ آرمی چیف کے خطاب کے دوران وہاں ہال میں موجود جتنے بھی لوگ تھے انھوں نے انتہائی پر جوش انداز میں نعرے بازی کی اور آرمی چیف کی تقریر کو بڑی پذیرائی ملی لیکن پھر ایک کوئی بیس سیکنڈ کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ہے کہ جو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے بنائی گئی تھی اس وڈیو میں دکھایا جاتا ہے کہ ہال میں عمران خان زندہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں ۔ آگے بڑھنے سے پہلے میں آپ کو اپنا ایک واقعہ سناتا ہوں کہ جس سے بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ کیا ایسا ہونا ممکن تھا ۔ یہ 1982میں میرے کالج دور کا واقعہ ہے23مارچ کوجو پریڈ ہوتی ہے اس میں ہمارے کالج کا بھی نام آیا تو ہم نے چونکہ NCC´جوائن کی ہوئی تھی تو ہم بھی اپنے اس کالج کے اس دستے کا حصہ تھے جس نے اس پریڈ میں حصہ لینا تھا تو یقین کریں کہ کالج کے ایک ایک لڑکے کہ جس نے اس پریڈ میں حصہ لینا تھا اس کی سکیورٹی کلیرنس علاقہ کے تھانہ سے کرائی گئی اور ہمیں بھی تھانہ میں انکوائری کے بعد کلیئر کیا گیا ۔اس وقت سندھ کے گورنر ایس ایم عباسی تھے تو غور کریں کہ جہاں لیفٹیننٹ جنرل کے رینک کا آفیسر اور وزیر اعلیٰ تھے وہاں سکیورٹی کا کیا معیار تھا اور اس وقت دہشت گردی اور یہ خود کش حملوں کا تو تصور بھی نہیں تھا لیکن جہاں آرمی چیف ہو اور ساتھ میں وزیر اعظم سمیت پوری کابینہ ہو وہاں پر اس قدر ناقص سکیورٹی ہو گی کہ پائین عمران خان زندہ باد کے نعرے لگ گئے ۔
دوسرا جھوٹ یہ کہ گذشتہ دنوں مائیکل پیٹرن کی قیادت میں ایک امریکن وفد پاکستان آیا ہوا تھا اور اس میں ان کے ساتھ دو خواتین بھی تھیں جن کے نام ماریا اور مہوش تھے ۔ انھوں نے اڈیالہ جیل میں ایک قیدی سے ملاقات کی جس کے بعد سوشل میڈیا پر کھپ پڑ گئی کہ یہ وفد پاکستان آیا ہی عمران خاان سے ملاقات کرنے تھا جیسا کہ عرض کی کہ اس وفد نے اڈیالہ جیل میں بالکل ایک قیدی سے ملاقات کی تھی لیکن وہ قیدی نمبر804نہیں تھا بلکہ ایک پاکستانی نژاد امریکی زاہد ذاکر تھا۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس طرح فائدہ ہے تو ریکارڈ ترسیلات زر ان کے لئے کافی ہیں ۔

مزیدخبریں