(پہلا حصہ)
مکمل امریکی حمایت کے ساتھ اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023ء سے غزہ پٹی میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جس میں اب تک تقریباً 167,000 فلسطینی شہید و زخمی ہوئے ہیں۔ شہداء کی مجموعی تعداد ساٹھ ہزار کے لگ بھگ ہے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں، اور 11,000 سے زیادہ لاپتہ ہیں۔ 7اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ پٹی کی 80 فیصد رہائشی عمارتوں، سکولوں، پناہ گزین کیمپوں، اقوامِ متحدہ اور ریڈ کراس کے دفاتر، مساجد اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں سمیت تقریباً تمام ہسپتالوں اور صحت کے مراکز پر بمباری کرکے غزہ پٹی کو طے شدہ منصوبے کے تحت انسانی رہائش کے لیے غیرموزوں اور طبی نظام کو منظم طریقے سے تباہ کرکے ہزاروں زخمی و بیما ر فلسطینیوں کو علاج معالجے، صحت کی دیکھ بھال سے محروم کردیا گیا ہے۔ فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف امریکی حمایت سے قابض صیہونی فوج کی طرف سے شروع کی گئی فلسطینی نسل کشی مہم کے دوران اب تک 1,400 طبی کارکنوں (ہیلتھ ورکرز) کی شہادت ہوئی ہے، جبکہ صحت کے شعبے کے تقریباً 360 کارکنان اسرائیلی جیلوں میں زیر حراست ہیں۔ غزہ پر آگ و آہن کی یہ وحشیانہ برسات اب بھی جاری ہے اور روزانہ کی بنیاد پر درجنوں فلسطینی بچوں، خواتین اور مردوں کی شہادتیں معمول ہے۔اسرائیل غزہ کی پٹی پر قبضہ کرکے یہاں کے مکینوں کو کسی دیگر ملک (تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شام کے شمال میں) منتقل کرنے کا خواہاں ہے، جس کے لیے اْسے امریکہ کی مکمل عسکری، مالی، سیاسی و سفارتی حمایت حاصل ہے۔
19 جنوری 2025ء کو حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے کے پہلے مرحلے کی کامیاب تکمیل اور حسبِ معاہدہ دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات کی کوششوں کے دوران 17 رمضان المبارک (18 مارچ) کو عین اْس وقت جب اہلِ غزہ ریت اور مٹی کے ڈھیر میں تبدیل گھروں کے بیچ بیٹھ کر سحری یا اس کی تیاریوں میں مصروف تھے، قابض صیہونی فوج نے حماس کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پوری غزہ پٹی میں اچانک فضائی اور زمینی حملے شروع کردئیے جس کے نتیجے میں محض چند گھنٹوں کے اندر 429 فلسطینی شہید اور سیکڑوں کی تعداد میں زخمی ہو گئے، جبکہ دسیوں افراد خواتین اور بچے ایسے تھے جن کی لاشیں ضروری ساز و سامان کی عدم دستیابی کے باعث تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دب کر رہ گئیں اور اْنہیں تاحال نہیں نکالا جاسکا۔صیہونی فوج کی سفاکیت کا یہ سلسلہ کئی گھنٹے جاری رہا اور تاحال روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے، جس کے نتیجے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق کم و بیش 500 سے زائد بچے شہید ہوچکے ہیں۔ شمالی، وسطی اور جنوبی غزہ کے مختلف علاقوں پر بیک وقت ہونے والے اس غیرمتوقع حملے میں 100 اسرائیلی جنگی طیاروں نے حصہ لیا۔یوں قابض افواج نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ پر خونریز جنگ دوبارہ مسلط کرنے کا اعلان کیا۔ سفاک صیہونی دہشت گرد حسبِ دستور جان بوجھ کر رہائشی علاقوں، پناہ گزین کیمپوں، ہسپتالوں، خیموں، سکولوں اور بازاروں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ متعدد بار یہ کہہ چکا کہ اسرائیل جان بوجھ کر بچوں اور خواتین کو نشانہ بنارہا ہے اور یہ جنگ حماس کے خلاف نہیں بلکہ غزہ کے معصوم بچوں اور نہتے خواتین کے خلاف ہے، غزہ زمین پر جہنم بن چکا۔
ایک طرف غزہ میں طویل صہیونی جارحیت کے سبب بھوکے پیاسے محصورینِ غزہ بے بسی کی مجسم تصویر بنے ہوئے ہیں تو دوسری طرف دنیا بھر کے خزانوں کے مالک 57 اسلامی ممالک کے حکمران مظلوم مسلمانوں کی مدد کا اپنا دینی، اخلاقی، انسانی فریضہ ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ ایک مقامی صحافی راجی الھمص نے اپنے’ایکس‘ اکاونٹ کے ذریعے رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے دوران عربوں اور مسلمانانِ عالم سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے لکھا: ’’دو ارب نفوس کی حامل مسلم اْمہ! غزہ آپ کی طرف سے تھمائی گئی امانت کو اپنے ناتواں کندھوں پر اْٹھائے ہوئے ہے مگر بھوک اور ننگ پھر لوٹ آئے ہیں، جو ہمارے بچوں کے معدوں کو کھا رہے ہیں۔‘‘ الھمص نے نوجوانوں، سماجی کارکنوں، علماء ، سیاسی رہنماؤں، شیوخ اور تمام بااثر شخصیات سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں غزہ میں بڑھتے افلاس اور بھوک کے خلاف آواز بلند کریں اور صیہونی فوج کی طرف سے غزہ کا محاصرہ، گذرگاہوں کی بندش اور انسانی امداد کے لیے ضروری انسانی امداد کے داخلے کی روک تھام کے خلاف آواز بلند کریں۔
انہوں نے کہاکہ ’’خیر و برکت کے اس مہینے میں دو ہفتوں تک کراسنگ کی مکمل بندش اور خوراک کے سامان سے لدے 21,000 ٹرکوں کو، جو غزہ پہنچنے والے تھے، داخلے سے روکنے کے بعد حقیقت بیان کرنا مشکل ہے۔ لوگ ایندھن کی کمی کی وجہ سے روزانہ خریدی جانے والی خوراک پر انحصار کرتے ہیں اور ذخیرہ کرنے اور اسے اگلے وقت کے لیے بچانے کی کوشش کرتے ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہاکہ ’’اس مہینے میں اپنی آواز بلند کریں اور اپنے بھائیوں کی حمایت کریں اور افطار کی میز پر اپنے بھائیوں کے نہ ختم ہونے والے درد کو یاد رکھیں۔ ان کے غریبوں، بے سہاراوں اور بھوکوں کو یاد رکھیں ‘‘۔
غزہ کی پٹی میں روٹی کا بحران پھر واپس آ گیا ہے۔ اسرائیل نے گزشتہ 2 ماہ سے خوراک، ادویات اور دیگر تمام ضروریاتِ زندگی سمیت بنے بنائے 60 ہزار گھروں کے ٹرک، ملبہ ہٹانے کے لیے ضروری مشینری کا غزہ میں داخلہ مکمل طور پر روک دیا ہے۔ امدادی سامان سمیت ہزاروں ٹرک رفح، کارم ابوسالم اور العوجہ کراسنگ پر گزشتہ دو ماہ سے داخلے کے منتظرہیں۔ روزمرہ اشیائے ضرورت کی مسلسل بندش اور بیکریوں کو چلانے کے لیے ضروری ایندھن کی کمی کے باعث غزہ کے باسیوں کو سنگین غذائی قلت اور بحران کا سامنا ہے۔ خوراک کی کمی کے باعث بچوں کی اموات واقع ہورہی ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی نصف آبادی شدید بھوک اور خوراک کی کمی کا شکار ہے۔ خوراک اور وسائل کی کمی کے باعث غزہ کے رہائشیوں کی بڑی تعداد 24 گھنٹوں میں بمشکل ایک وقت کی خوراک لینے پر مجبور ہیں۔ قابض صیہونی فوج کی طرف سے مسلط کردہ ناکہ بندی کی وجہ سے غزہ کی پٹی میں حقیقی قحط کے واضح آثار نظر آرہے ہیں۔ (جاری ہے)
غزہ میں جاری موت کا رقص اور مسلم حکمرانوں کی بے حِسی
09:37 AM, 18 Apr, 2025