غزہ کی تباہی پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے 22اپریل کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف مولانا فضل الرحمان اسرائیل کیخلاف امت مسلمہ کو اٹھ جانا چاہئے… یہ وہ بیانات ہیں جیسے آ بیل مجھے مار… ہم ہڑتالیں کر سکتے ہیں، ریلیاں نکال سکتے ہیں، پرجوش تقاریر کر سکتے ہیں اور بس… یہ سب جانتے ہوئے بھی کہ فلسطین پھر پکار رہا ہے… غزہ کی دھرتی کو ہم نے اپنے سامنے تباہ ہوتے دیکھا… جلتے دیکھا، معصوموں کی شہادتوں کو ماں باپ نے اپنے ہاتھوں اٹھاتے دیکھا… غزہ کل ایک بہت ہی ہنستا بستا شہر جو روشنیوں میں راتوں کو جگمگاتا، صبح کی کرنوں میں بستا، دوپہر کو رونقیں آباد کرتا، شاموں کو گیتوں کے ترنم میں گونجتا اور راتوں کو روشنیاں بکھیرتا شہر کو گہری نیند سلاتا رواں دواں تھا… یہ خوبصورت دنیا تھی… خوبصورت دنیا کے لوگ، اللہ اکبر کی آواز کے ساتھ مسلم دنیا کو پیغام دیتا، شہر یہودیوں کو بڑے عرصہ سے راس نہیں آ رہا تھا۔ کمبخت یہودی کئی عشروں سے غزہ کو اپنی ناپاک نظروں میں لئے ہوئے تھے۔ وہ صدیوں سے غزہ کے مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور وہ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے۔ گاہے بگاہے فلسطین اور غزہ پر حملے کرتے کرتے لاکھوں مسلمانوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنا چکے تھے۔ وہ غزہ کو تباہ کرنے کی ٹھان چکے تھے۔ دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد اسرائیل نے اپنے باپ امریکہ کے کندھے پر بندوق رکھ کر بارود کے جو گولے معصوموں کے جسموں میں داغے… وہ روز محشر ان کے گلوں کا طوق بنیں گے۔
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
دہشت گردی اور فتنہ سازی روز اوّل سے دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ تمام یہودی لابیوں سے اٹھنے والی فتنہ بازی کے بڑے ذہنوں نے مظلوم قوموں کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے اگر ہم آج پوری امت مسلمہ کا ذکر کریں تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ فتنہ سازی کرنے والوں نے ہمارے ہی ہاتھوں سے ایسی ایسی تباہیاں کروائیں کہ ہم اپنے ہی حکمرانوں کی سازشوں کا شکار ہو گئے۔ میرا یہاں ایک سوال ہے۔ کہاں وہ زمانہ جب مسلمان حکمرانوں کا طوطی بولتا تھا۔ تمام بڑی یہودی طاقتیں ان مسلم حکمرانوں کے آگے خوف زدہ تھے… ان سے ڈرتے تھے… ان کے آگے روتے تھے۔ وہ وقت ہم نے کیوں کھو دیا اور وہ وقت یاد کریں جب سعودی حکمران شاہ فیصل، مصر کے جمال عبدالناصر، اور انور السادات، لیبیا کے کرنل قذافی اور فلسطین کے یاسر عرفات، اردن کے شاہ حسین، شام کے حافظ اسد… یہ تھے وہ حکمران جب امریکہ جیسی سپر طاقتیں تیل کے لئے ان سے بھیک مانگا کرتیں۔ جب عراق کے صدام نے امریکہ کو ناکوں چنے چبوائے اور ایک دور وہ بھی آیا جب بہت مضبوط اور طاقتور حکمران کمزور ہو گئے۔ ان کے خلاف ایسی فتنہ سازی کا بازار گرم ہوا، پھر ایسے فتنوں نے ہمارے ہی گھروں میں جنم لینا شروع کیا اور پھر نہ وہ مسلم حکمران رہے نہ وہ ان کی طاقت رہی جو ہم سے ڈرا کرتے، وہ ہم پر حکمرانی کرنے لگے۔ انہوں نے ہمیں مار دیا جن کو ہم مارا کرتے۔ اس سے پہلے کہ بات کو آگے لے کر چلوں یہ فتنہ ہے کیا؟ اس بارے میں ایک تاریخی واقعہ سناتا چلوں۔
سلطان صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ کو انکے جاسوسوں نے بتایا کہ ایک عالمِ دین ہیں جو بہت اچھا خطاب کرتے ہیں لوگوں میں بہت مقبول ہو گئے ہیں۔ سلطان نے کہا آگے کہو
جاسوس بولے ’’کچھ غلط ہے جسے ہم محسوس کر رہے ہیں مگر لفظوں میں بیان نہیں کرپا رہے‘‘۔
سلطان نے کہا ’’جو بھی دیکھا اور سنا ہے بیان کرو‘‘
جاسوس بولے کہ وہ کہتے ہیں کہ ’’نفس کا جہاد افضل ہے، بچوں کو تعلیم دینا ایک بہترین جہاد ہے، گھر کی زمہ داریوں کیلئے جد وجہد کرنا بھی ایک جہاد ہے‘‘۔ سلطان نے کہا تو اس میں کوئی شک ہے؟
جاسوس نے کہا کہ انہیں کوئی شک نہیں لیکن اس عالم کا کہنا ہے کہ: ’’جنگوں سے کیا ملا؟ صرف قتل وغارت گری صرف لاشیں، جنگوں نے تمہیں یا تو قاتل بنایا یا مقتول ‘‘
سلطان بے چین ہو کر اٹھے، اسی وقت عالم سے ملنے کی ٹھانی، ملاقات بھیس بدل کر کی اور جاتے ہی سوال کر دیا کہ ’’جناب ایسی کوئی ترکیب بتائیے کہ بیت المقدس کو آزاد اور مسلمانوں کے خلاف مظالم کو بغیر جنگ کے ختم کرایا جاسکے؟‘‘عالم نے کہا دعا کریں سلطان کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا، وہ سمجھ چکے تھے کہ یہ عالِم پوری صلیبی فوج سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔
سلطان نے سب سے پہلے اپنے خنجر سے اْس عالم کی انگلی کاٹ دی، وہ بری طرح چیخنے لگا۔
اب سلطان نے کہا کہ اصلیت بتاتے ہو یا گردن بھی کاٹ دوں پتہ چلا کہ وہ سفید پوش عالم ایک یہودی تھا، یہودیوں کو عربی بخوبی آتی تھی، جس کا اس نے فائدہ اٹھایا سلطان نے سوچا کہ اس جیسا درس اب خطبوں میں عام ہو چلا تھا، جسے روکا نہ جاسکا۔ یہ فتنہ اس وقت پوری آب وتاب سے رواں دواں ہے گو فلسطین کو دعائوں سے آزاد کرانے کی مہم زور وشور سے جاری ہے جبکہ ہمارے اقتدار پسند مسلم حکمران سے ہماری ان فتنہ سازوں نے جنگ کرنے کی طاقت چھین لی ہے۔آزادی کی جنگیں دعائوں سے نہیں، اسلحے سے لڑی جاتی ہے۔ ہمارے پاس اسلحہ تو ہے مگر نہ ذہن نہ طاقت اور نہ لڑنے کے جذبہ… غزہ کی تباہی میں ہمارا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔ فلسطین کے ایک شاعر کا دکھ بھی پڑھتے چلیں۔
اے قبلہ اوّل کی زمین، ارض فلسطین
صدیوں کی ہے تاریخ تیرے خون سے رنگین
اقوام عالم چپ ہیں حالات میں سنگین
خاموش ہیں سب بستر میں شاہان و سلاطین
یہ چاہے تیرے سینے پر اک ارض فلسطین
افسردہ ہے، مخرون ہے پھر ارض فلسطین
کہنے کو یہ امت ہے مگر امت سے محروم
ہمدردی و غمخواری کے اوصاف ہیں معدوم
ہیں تشنہ لب و خاک بسر ظلم کے سارے
بیٹھے ہوئے چپ چاپ بس اللہ کے سہارے
محصور ہیں عرصہ سے سمندر کے کنارے
سہمے ہوئے معصوم ترے راج دلارے
اور آخری بات…
غزہ اب مکمل طور پر جل چکا ہے… معصوموں، نوجوانوں، بوڑھوں اور مائوں، بہنوں کی یہ دھرتی ان کے خون سے رنگی جا چکی ہے۔ بے حس امت مسلمہ کے حکمرانوں نے خود کو بیانات تک محدود کر دیا ہے۔
نہ اضطراب میں لذت نہ آرزوئے سکوں
کوئی کہے کہ میں اب کیا فریب کھا کے جیوں
اور اس فتنہ سے ڈرو جو خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ہی نہیں پہنچے گا جو تم میں سے ظالم ہیں (بلکہ اس ظلم کا ساتھ دینے والے اور اس پر خاموش رہنے والے بھی انہی میں شریک کر لئے جائیں گے اور جان لو کہ اللہ عذاب میں سختی فرمانے والا ہے۔ سورۃ الانفال (آیت نمبر 25)
غزہ کی تباہی، فتنہ سازی اور بے حس مسلم حکمران
09:36 AM, 18 Apr, 2025