گزشتہ روز اوور سیز پاکستانیز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے جنرل عاصم منیر نے کہا دہشت گردوں کی دس نسلیں بھی بلوچستان اور پاکستان کا کچھ نہیںبگاڑ سکتیں۔ بلوچستان پاکستان کی تقدیر اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہے۔ جب تک اس ملک کے غیور عوام افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، وطنِ عزیز کی مسلح افواج ہر مشکل سے با آسانی نبرد آزما ہو سکتی ہے۔ مسلح افواج نے واضح کر دیا ہے کہ حکومت کی سرپرستی میں آپریشن فیصلہ کن ہو گا، غیر ملکی جاسوسی اداروں کی پشت پناہی کے حامل جنگجو عناصر کو مکمل طور پر کچل دیا جائے گا اور ان کی کمین گاہوں کو ختم کر دیا جائے گا۔ ہم نے دیکھا بھی ہے کہ ہمارے سیکورٹی اداروں نے عسکریت پسندوں کے اہم ٹھکانوں پر حملے کر کے تباہ کر دیا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اپنے علاقوں میں فوجی کاررائی کا ہدف خواہ غیر ملکی ایجنسیوں کے پروردہ افراد ہی ہوں، اس کے لئے بہت سوچ سمجھ کر اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔ مگر حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے کہ نیم دلی سے کئے گئے اقدامات نتیجہ خیز نہیں ہوتے۔ اس سے حکومتی عملداری کو چیلنج کرنیوالے عناصر کے حوصلے مزید بڑھتے ہیں۔
اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے کہ افغانستان میں جو کچھ دہائیوں سے ہو رہا ہے امید تھی کہ جب اتحادی فوجیں یہاں سے رخصت ہوں گی تو ہمارے احسانات کے بدلے میں افغان ممنون ہوں گے لیکن صورتحال بالکل اس کے برعکس ہے۔ اس آگ کو مزید بھڑکانے کا کام ان غیر ملکی اداروں نے کیا ہے جو پاکستان کے وجود ہی کے دشمن ہیں اور جنہیں افغانستان پر غیر ملکی افواج کے قبضے کے بعد ہماری مغربی سرحدوں کے قریب ہی جاسوسی کے اڈوں اور تربیتی مراکز کی صورت میں اپنی سرگرمیوں میں پھیلاؤ لانے کے مواقع ملے ہیں۔ اور وہی ادارے متوازی فورسیز بنانے اور ان کی تربیت میں پیش پیش ہیں۔ ہمارے ہاں پہلے سے ہی 30 لاکھ افغان مہاجرین ملک میں موجود ہیں اور ان میں وہ افراد بھی ہیں جنہیں گزشتہ حکومت نے پاکستان لا کر آباد کیا تھا۔ انہی افراد میں بیرونی ایجنسیوں کو اپنے ایجنٹ داخل کرنے میں مدد ملی۔ لہٰذا اب یہ بالکل ممکن نہیں ہے کہ ایسے افراد کو پھر سے منظم ہونے کا موقع میسر آنے دیا جائے۔
وفاقی حکومت کو چاہئے کہ ملک میں جتنے بھی مسلح ونگز کام کر رہے ہیں ان کے معاملات اور افعال کا جائزہ لینے کے لئے اقدامات کرے۔ ماضی میں جب ضربِ عضب کے تحت کارروائیاں کی گئیں تھیں تو اس وقت دیکھا گیا کہ کچھ سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اپنی ملیشیا قائم کر رکھی تھیں جو نہ صرف وردی پہنتی تھیں بلکہ مسلح افواج یا قانون نافظ کرنے والے اداروں کی طرح ان میں درجہ بندی بھی تھی۔ اس چیز نے سکیورٹی کی پیچیدہ صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا تھا جب کہ اس مسئلہ کا ملک کے قومی اور بین الاقوامی تشخص پر بھی منفی اثر پڑا ۔ لیکن مسلح افواج نے ضربِ عضب کے تحت کارروائیاں کر کے نہ صرف وہ تمام عسکری ونگز کا خاتمہ کیا بلکہ صوبوں کو ضرورت پڑنے پر ہر قسم کی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔
شہریوں کے بنیادی حقوق کی آئینی شقوں کے تحت شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری بھی ریاست کی گردانی گئی ہے چنانچہ اس ذمہ داری کی ادائیگی کی خاطر ہی ریاستی اداروں کے ماتحت ملٹری، پیرا ملٹری اور رینجرز و پولیس فورس تشکیل دے کر ریاست کا امن و امان، شہریوں کی حفاظت اور سرحدوں کے تحفط کی ذمہ داری متعلقہ سیکورٹی فورسز کو سونپی گئی ہے۔چونکہ مسلح اور باوردی فورسز کا ڈھانچہ اورا س کی ذمہ داریاں ریاست کی طرف سے آئین و قانون کے مطابق تشکیل کردہ ہوتی ہیں اس لئے نجی سطح پر اس نوعیت کی کوئی عسکری فورس تشکیل دینے کی گنجائش ہے نہ ریاستی سیکورٹی فورسز کے متوازی کسی فورس کی تشکیل کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ ایسا کرنے والے در حقیقت ریاست کے اندر ریاست کا تصور اجاگر کر کے ریاستی اتھارٹی کو چیلنج کرتے ہیں اور ملک میں امن و امان مسئلہ اور شہریوں کی جان و مال کے لئے سنگین خطرات پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں سیکورٹی کے نام پر بعض سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور اسی طرح بعض شخصیات کی جانب سے نجی سیکورٹی فورس تشکیل دینے کی روایت کا آغاز ہوا تو ریاستی اتھارٹی کی جانب سے ان پر کسی قسم کا چیک نہ ہونے کے باعث اس کلچر کی حوصلہ افزائی ہوئی جس سے ملک میں لامحالہ سیکورٹی کے سنگین مسائل پیدا ہوئے کیونکہ نجی ہاتھوں میں آنے والے اسلحہ کی بھرمار ہو گئی۔
ایک وقت ایسا آیا کہ مختلف سیاسی جماعتوں نے بھی ایک دوسرے کے مدِ مقابل اپنے عسکری ونگز قائم کر لئے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان اس وقت ہوا جب اس کی آڑ میں علیحدگی پسند ، انسان دشمن اور ملک دشمن جماعتوں نے بھی عسکری ونگز پیدا کر لئے۔ ایسی ہی صورتحال بلوچستان میں بھی پیدا ہوئی جہاں آزاد بلوچستان کا نعرہ لگانے والے عناصر نے بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فورس کے نام پر اپنے عسکری ونگ تشکیل دے کر ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع کیا چنانچہ بلوچستان میں بد امنی انتہا کو پہنچ گئی اور صوبائی حکومت کے قابو میں نہ رہی۔ اس کلچر کا ملک کی سلامتی کے حوالے سے سب سے زیادہ نقصان ہوا کہ ہمارے دشمن بھارت نے پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کے مقاصد کے تحت اسلحہ اور فنڈز فراہم کر کے ان کی سرپرستی شروع کر دی۔ اسی بنیاد پر دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے قومی اتفاقِ رائے سے تشکیل دئے گئے نیشنل ایکش پلان کے تحت اس طرح کے عناصر کی بیخ کنی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سیکورٹی اداروں نے فیصلہ کیا ہے کہ بے لاگ اور بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ملک دشمن عناصر کو جہنم واصل کیا جائے گا۔
بلوچستان پاکستان کی تقدیر اور ماتھے کا جھومر
09:32 AM, 18 Apr, 2025