وفاقی وزیر عبد العلیم خان اور مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق کی ملاقاتی تصاویر ریلیز ہوئیں تو ماضی کے جھروکوںسے یکلخت پردے اٹھتے چلے گئے۔زندگی کے انگنت واقعات ٗ اختلافات اور اتفاقات کے لا تعداد مناظر ذہن کی مومی تحتی پر اُبھرگئے ۔ خواجہ سعد رفیق اورمیں اندرون ِ لاہور کے ایک ہی محلے کوچہ پیرشیرازی ٗ جو سو گز کے فاصلے پر محلہ موہلیاں بن جاتا ہے ٗ 8 ماہ کے فرق سے پیدا ہوئے ۔ خواجہ رفیق شہید ٗ مولوی حسن ٗ لالہ قاسم ٗ بائو ممتاز ٗ چاچاجالا ٗ ظہور شاہ اور ایسے بیسیوں چہرے میرے ذہن کی مومی تحتی پر اُبھر گئے ۔ میں نے محترمہ بیگم فرحت رفیق صاحبہ مرحومہ سے انگنت گفتگویں کی ہیں ٗ وہ ایک شفیق ماں ٗ ماہر تعلیم اور سیاستدان تھیں 1985ء کے انتخابات چونکہ غیر جماعتی تھے اور پاکستان پیپلز پارٹی انتخابات کا بائیکاٹ کر چکی تھی سو آزاد امیدواروں کی ریل پیل تھی ٗ اندرون لاہور سے میاں صلاح الدین نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا اور ان کے مد مقابل جماعت اسلامی کے حافظ سلیمان بٹ تھے ٗ چونکہ اُن دنوں جماعت اسلامی ضیا ء الحق کی چھتر چھائوں میں سیاست کی ہر خوشی انجوائے کررہی تھی اور پھر حافظ سلمان بٹ باکمال مقرر اور بہترین سیاسی ورکر تھے سو میاں صلاح الدین اپنی ساکھ بحال نہ رکھ سکے اور قومی اسمبلی کا الیکشن ہار گئے ۔ ان دنوں صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کے انتخابات میں دو دن کا وقفہ ہوا کرتا تھا ۔ میاں صلاح الدین (یوسف صلاح الدین کے والد اور علامہ اقبال کے داماد ) نے قومی اسمبلی کا الیکشن ہارنے کے بعد صوبائی اسمبلی کے انتخاب سے دستبردار ہو گئے ۔ یہ خواجہ رفیق شہید کی وفات کے بعد ہونے والے دوسرے انتخاب تھے کیونکہ 1977 ء کے انتخابات کے نتیجہ میں ضیائی مارشل لا ملک پر نافذ ہو گیا اور نوے دن میں انتخاب کروانے کا وعدہ جنرل ضیاء الحق نے 19دسمبر 1984 ء کا ریفرنڈم’’ جیتنے‘‘ اور صدر پاکستان بننے کے بعد پورا کیا ۔محترمہ فرحت رفیق شہید صاحبہ صوبائی اسمبلی کا الیکشن جیت گئیں اور اندرون لاہور کی سیاست خواجہ سعد رفیق کے دروازے پر پہنچ گئی ۔ سعد اُن دنوں طلباء سیاست میں سرگرم تھے لیکن میا ں محمد نواز شریف کے ساتھ نہیں تھے کیونکہ مسلم لیگ کا وزیر اعظم پیر پگاڑا کا امیدوار بن گیا سو ملک میں ’’ پاکستان کی آنکھ کا تارا پیر پگاڑا پیر پگاڑا۔۔۔۔ گونجنا شروع ہو گیا اور یہ نعرہ اُس زمانے کی ایم ایس ایف تو نواز شریف کی موجودگی میں مسلم لیگ ہائوس میں بھی لگاتی تھی۔ محترمہ فرحت رفیق شہید صاحبہ کے بھائی خواجہ ذکریا ہمارے اساتذہ میں سے تھے سو اِس خاندان سے احترام کا ایک رشتہ تو تھا ۔سعدرفیق پکا لہوریا ہے جب کے اُس کے بزرگوں کا تعلق امرتسر سے ہے ۔سعد رفیق سے کوئی ذاتی اختلاف کبھی نہیں رہا لیکن نظریاتی اختلافات ضیاء کے دور سے تھے ۔
17اگست 1987ء کو عامر ہوٹل لاہور میں کیوایس ایف کے چیئرمین شاہد رضا اور میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ ایم ایس ایف نے ہم پر حملہ کردیا ۔ اندھا دھند فائرنگ سے شاہد رضا شدید زخمی ہوگئے اور مجھے بھی گہرے زخم آئے ۔ ایک سال بعد ٹھیک اسی تاریخ کو ضیاء الحق کا طیارہ گر ا تو یہ تاریخ ہمیشہ کیلئے یاد رہ گئی۔ 1987 ء کے بلدیاتی انتخابات میں جب محترمہ فرحت رفیق صاحبہ ممبر صوبائی اسمبلی تھیں تو خواجہ سعد رفیق مسلم لیگ کی ٹکٹ پر کونسلر کا الیکشن محلے کے پرچون فروش کے بیٹے سید منصف علی سے ہار گئے ۔ اندرون ِ لاہور میں ایسی فتح و شکست کو ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے۔ عمران نیازی کے ساتھ ایک طویل عرصہ کام کرنے کے دوران جب عمران نیازی نے صرف مسلم لیگ نون کو اپنے نشانے پر رکھ لیا تو دونوں اطراف سے بیانات کی شدید گولہ باری شروع ہو گئی ۔ برادرم سعد رفیق نے فرطِ جذبات میں عمران نیازی کو’’ تھڑے باز ‘‘ کہہ دیا(جو ازاں بعد سچ بھی ثابت ہوا ) تو مجھے عمر سرفراز چیمہ کی کال آئی ٗجو اُس وقت عمران نیازی کے ترجمان تھے ٗ کہ چیئرمین تحریک انصاف چاہتے ہیں کہ میں اس کا تحریری جوا ب دوں سو مجھے ایک تحریر ’’ تھڑے باز ‘‘ کے عنوان سے لکھنی پڑی ۔ جس کا سعد کو رنج بھی ہوا اوراُس نے گلہ بھی کیا ۔یقینا ہمارے شہر داری کے تعلق بہت مضبوط تھے لیکن سیاست میں مخالفت نہیں اختلاف ہوتا ہے ۔ پی ٹی آئی میں کوئی شخص اُس وقت اتنی اہلیت نہیں رکھتا تھا کہ اس کاجواب دے پاتا سو یہ ’’ ہما‘‘ میرے سر پر آ بیٹھا ۔اس تحریر کا مجھے اُس وقت بھی رنج تھا اور آج بھی ہے۔
عبد العلیم خان اور سعد رفیق کی ملاقات کو میں انتہائی خوش آئند سمجھتا ہوں کہ لاہور کے یہ دونوں سیاست دان مڈل کلاس سے ترقی کرکے یہاں تک پہنچے ہیں اور دونوں سیاستدانوں نے صوبائی اورقومی اسمبلی میںخدمات دی ہیں ۔ ویسے تو یہ ملاقاتیں عمران نیازی کے عہدِ بربریت میں بھی ہو جایا کرتی تھیں لیکن عمرا ن نیازی کا بھی مسئلہ یہ تھا کہ وہ سیاست میں اختلاف نہیں مخالفت بلکہ دشمنی پالتا تھا ۔وفاقی وزیر عبد العلیم خان گوالمنڈی کے پرانے رہائشی ہیں اور انہوں نے اپنا پرانا مکان خرید کر اپنی والدہ محترمہ بیگم نسیم خانم کے نام سے بچیو ں کی مفت تعلیم کیلئے وقف کردیا ۔ جہاں بچیوں کی ہر ضرورت کا خیال رکھنا بھی عبد العلیم خان فائونڈیشن کا کام ہے۔وفاقی وزیر عبد العلیم خان اور مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق جیسے سیاسی قائدین میرے لئے اس لئے بھی قابلِ اعتماد ہیں کہ اِن لوگوں نے مڈل اورورکنگ کلاس سے زندگی کا سفر شروع کیا ۔ میں اس بات پر بخوبی یقین رکھتا ہوں کہ جس شخص نے بُرے دن دیکھے ہوئے ٗ وہ لوگوں کے بُرے وقت کے درد کو ضرور محسوس کرتا ہے۔ جیسے عبدالعلیم خان جب سو سے زائد دن کوٹ لکھپت جیل میں گزار کر آئے تو اُنہوں نے جیل میں بسنے والوں کو ہر وہ ممکن سہولت پہنچا دی جس کا ادراک اُنہیں شاید پہلے اُس طرح نہیں تھا ۔مشرف کی فوجی بغاوت کے وقت جن لوگوں نے سب سے زیادہ تشدد کا سامنا کیا یقینا اُس میں خواجہ سعد رفیق سرِ فہرست تھے جن کا جسم میجر سیف نے بدترین تشدد سے سیاہ کردیا تھا لیکن یہاں ایک بات یہ بھی قابل ذکر ہے کہ سعد رفیق کو گرفتار کروانے والا بھی مسلم لیگ نون سے تھا اور آج بھی صوبائی وزیر ہے لیکن جن لوگوں کی زندگی کے مقاصد بڑے ہوتے ہیں وہ چھوٹے واقعات کو نظر انداز کردیتے ہیں ۔ عبد العلیم خان کو بطور صدر آئی پی پی دوسری جماعتوں کے منجھے ہوئے سیاستدانوں سے زیادہ سے زیادہ رابطے میں رہنا چاہیے کیونکہ دنیا کے ہر اتحاد کی پہلی شرط یہی ہوتی ہے کہ اُس نے ٹوٹنا ہوتا ہے سو جب کچھ نیا بنتا ہے تو یہی تعلق ٗ رشتے اور گفتگویں اورعہد و پیماں کام آتے ہیں ۔
دولاہوریے سیاستدانوں کی ایک ملاقات
09:30 AM, 18 Apr, 2025