کیا کسی کو عوام کی فکر ہے؟ 

11:05 AM, 18 Sep, 2026

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ایک مرتبہ پھر بڑھ گئی ہیں۔ پٹرول 380 روپے اور ڈیزل 409 روپے فی لٹر تک جا پہنچا ہے۔ یہ صرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کی اطلاع نہیں ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کیساتھ باقی اشیاءکی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ ادھر تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں اور ادھر مہنگائی کا ایک نیا طوفان اٹھتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ پھلوں ، سبزیوں، دودھ، دالوں، گوشت ، انڈوں اور دیگر اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ اس سارے اضافے کا بوجھ عام آدمی کو ڈھونا پڑتا ہے۔ وہ عام آدمی جو اپنی آمدن گن گن کر رکھتا اور خرچ کرتا ہے۔ یہ صورتحال اشرافیہ کا مسئلہ نہیں ہے۔ ان کے پاس تو ان گنت دولت موجود ہے۔ امیر آدمی تو شاید اس مشکل کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتا جو غریب آدمی کو برداشت کرنا پڑتی ہے۔ اس خاندان سے پوچھیں ، جہاں ایک کمانے والا اور سارا کنبہ کھانے والا ہو۔ اس اکیلے آدمی کے لئے گھر کیلئے راشن کا بندوبست کرنا، بجلی گیس کے بل بھرنا، بچو ں کو پڑھانا لکھانا، والدین کے علاج معالجے کا بندوبست کرنا، خاندان کی خوشی غمی کو بھگتانا کتنا دقت طلب کام ہے، یہ وہی جان سکتا ہے جس پر یہ سب بیت رہا ہو۔
عمومی طور پرپٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کا سارا الزام عالمی حالات پر ڈال دیاجاتا ہے۔ یہ بات حقیقت بھی ہے۔ کوئی شک نہیں کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ ، برطانیہ کے شہری بھی اس اضافے پر بلبلا اٹھے ہیں۔ اس صورتحال کے اثرات خطے کیساتھ ساتھ پاکستان پر بھی پڑے ہیں۔ سو عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھنے والی حقیقت سے آنکھ چرانا ممکن نہیں ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا تیل کی قیمتیں بڑھنے کا سارا بوجھ عام آدمی نے ہی اٹھانا ہے؟ کیا غربت ، بے روزگاری، مہنگائی کی چکی میں پسے عام شہری کا بوجھ بانٹ لینا اور اس کو ریلیف پہنچانا ریاست کی ذمہ داری نہیں ہے؟ اگر حکومت ایک لٹر پر ایک سو روپے سے زیادہ لیوی وصول کرتی ہے جو کہ ناقابل جواز ہے۔ یہ بات درست ہے تو یہ عام آدمی کے ساتھ واقعتا زیادتی کے مترادف ہے۔ حکومت نے لیوی عائد کرنی ہے تو امیر طبقے پر یہ بوجھ ڈالے ۔ عام آدمی کو اس لیوی سے مستثنیٰ ہونا چاہیے۔ وہ کیوں حکومتی خرچوں میں اپنی خون پسینے کی کمائی سے حصہ ڈالے۔ اچھی بات ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے موٹر سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کیلئے ریلیف کا اعلان کیا ہے۔ اس سے یقینا عام آدمی کو فرق پڑے گا۔ تاہم یہ کوئی مستقل حل نہیں ہے۔
کہا جاتا ہے کہ حکومت یا ریاست کے مشکل وقت میں عوام کو ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ قربانی دینی چاہیے۔ بالکل ایسا ہی ہے۔ تاہم عوام یہ قربانی تب بخوشی دیں جب اشرافیہ بھی قربانی میں اپنا حصہ ڈالے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہاں آئے روز کوئی نہ کوئی قصہ یا قضیہ سامنے آجاتا ہے۔ جس کو دیکھ یا سن کر عوام کا اعتماد ارباب اختیار پر مزید کم ہو جاتا ہے۔ کہیں سیاستدانوں ، افسر شاہی اور اشرافیہ کے شاہانہ طرز زندگی کی خبریں آتی ہیں۔ کہیں سرکاری خزانے کے بے دریغ استعمال کی۔ ابھی جب پٹرول کی مہنگی قیمتوں نے عوام کی کمر توڑ رکھی ہے ایک پرانی خبر زیر گردش ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران سرکاری گاڑیوں میں 68 ارب 77 کروڑ روپے کا پٹرول استعمال ہواہے۔ یہ ساری رقم قومی خزانے سے خرچ ہوئی ہے۔یعنی عوام کے ٹیکسوں کی رقم سے ۔ یہ اعداد و شمار کسی اور نے نہیں وفاقی وزیر خزانہ کے جاری کردہ ہیں۔ ان حالات میں عوام یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ وہ تو چند لٹر پٹرول کے حصول کیلئے خوار ہوں۔ اپنے ضروری گھریلو اخراجات کو پس پشت ڈال کر یہ خرچہ پورا کریں اور دوسری طرف مال مفت، دل بے رحم کے مصداق سرکاری افسران پٹرول اڑائیں۔ عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ صرف انہیں ہی قربانی کا بکرا کیوں بنایا جاتا ہے۔ 
یہ صرف پٹرول کا مسئلہ نہیں ہے۔ بجلی کے یونٹوں کی مثال لیجئے۔ 2025 میں قومی اسمبلی کو دی گئی معلومات کے مطابق پاور سیکٹر کے ریٹائرڈ اور حاضر سروس ملازمین کو سالانہ 44 کروڑ 15 لاکھ مفت بجلی کے یونٹس دئیے جاتے ہیں۔ اور کارکردگی یہ ہے کہ بیشتر سرکاری ادارے خسارے میں ہیں۔ مالی سال 2024-25 میں خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کو 832 ارب روپے کا خسارہ ہوا ہے ۔ حکومت کو سرکاری اداروں کو 2 کھرب سے زیادہ کی مالی معاونت فراہم کرنا پڑی۔ محاورے کی زبان میں کھایا پیا کچھ بھی نہیں، گلاس توڑا بارہ آنے۔ جب تنخواہوں اور مراعات کی باری آتی ہے تواعلیٰ سرکاری افسران اور اراکین پارلیمان کی تنخواہوں میں بیک جنبش قلم بھاری بھرکم اضافہ ہو جاتا ہے، جبکہ عام سرکاری ملازم کی تنخواہ پورے سال کے بعد چند ہزار روپے بڑھتی ہے۔ یہ سب کیا ہے؟ ا ن حالات میں عام آدمی مایوس ہونے کے علاوہ کیا کر سکتا ہے؟ سوال اٹھتا ہے کہ اس ملک میں غریب آدمی کے بارے میں کون سوچے گا؟ عوام اپنے آپ کو بے سہارا اور لاوارث سمجھنے لگے ہیں۔نوجوان اس ملک میں اپنے مستقبل سے مایوس ہیں اور یہاں سے بھاگ جانا چاہتے ہیں۔ 
دوسری طرف میڈیا کی ترجیحات دیکھیں۔ اسے عوامی مسائل سے کہیں زیادہ کھیل تماشوں سے دلچسپی ہے۔ ایک سرکس ہے جو اکثر ہمیں لگا دکھائی دیتا ہے۔ کوئی وزیر اعلیٰ احتجاج کی غرض سے دوسرے صوبے میں آتا ہے تو میڈیا اسے دن رات کوریج دیتا ہے۔ کوئی وزیر اعلیٰ جہاز پر سفر کرتی ہے تو اس پر گھنٹوں بحث ہوتی ہے۔ کوئی عدالتی فیصلہ، کسی کا جیل کا احوال ، کسی کی بیماری کا قصہ اور کبھی نئے صوبے بنوانے کا ایجنڈا،ہمارے میڈیا کی ترجیحات بس یہی ہیں۔ ان کی روزی روٹی اسی پر منحصر ہے۔ تعلیم، صحت ، بے روز گاری، مہنگائی، غریب آدمی کی مشکلات میڈیا کی ترجیحات نہیں ہیں۔ 
ارباب اختیات کے لئے لازم ہے کہ وہ عوام کے مسائل کے حل کو اپنی ترجیح بنائیں۔ عالمی سطح پر کامیابیاں حاصل کرنا اور اپنی سفارت کاری کی دھاک بٹھانا، بھارت جیسے ازلی دشمن کو ناکوں چنے چبوا دینا۔ یہ اور ایسی دیگر کامیابیاں بے حد اہم ہیں۔ ان سے پاکستان کی عزت و آبرو میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم اب ہمارے بڑوں کواپنے گھر اور گھر والوں یعنی عوام پر توجہ مبذول کرنا چاہیے۔ پاکستان کے عوام اور خاص طور پر نوجوان طبقہ مایوسی کی دلدل میں دھنس رہا ہے۔ لازم ہے کہ اہل اقتدار اور با اختیار طبقہ عوام کو اس مایوسی کے دلدل سے نکالنے کے لئے کچھ کرئے۔

مزیدخبریں