کوئی گارنٹی نہیں

09:24 AM, 18 Sep, 2026


موسم کھلا ہو فضا میں گرد و غبار نہ ہو تو رات کے کسی پہر چاند یوں قریب نظر آنے لگتا ہے جیسے آپ سے ملاقات کیلئے آ رہا ہے، کچھ لوگ جھروکے سے نظر آنے والے چاند کو کسی اور کے دھوکے میں سلام بھی کرتے ہیں۔ امریکہ کے مڈٹرم الیکشن اب چاند کی طرح سرکتے سرکتے قریب آ رہے ہیں اور امریکی صدر کی پریشانیوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ہم تو اپنے ملک میں انتخابی مہم کے دوران بریانی کی پلیٹ کو بے آبرو ہوتے دیکھتے ہیں اور کڑھتے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ نے تو وہ کچھ کہہ دیا جسکا کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا انہوں نے اعلان کر دیا ہے کہ انتخابات میں انکی جماعت کو اکثریت دلانے میں کردار ادا کرنے والے ووٹر کو پانچ پانچ ہزار ڈالر دیئے جائیں گے اس حوالے سے انہوں نے شرط عائد کر دی ہے کہ ہر شخص کے لئے لازم ہو گا کہ وہ یہ رقم امریکہ کے اندر رہتے ہوئے خرچ کرے اسکا مطلب یہ ہے کہ امریکی شہریت رکھنے والے وہ لوگ جو اس وقت امریکہ سے باہر ہیں اور ووٹ دینے کے لئے بذات خود امریکہ نہیں آ سکیں گے وہ اس رقم کے حقدار نہیں ہو نگے رقم حاصل کرنے والے اس رقم سے خوراک لباس روز مرہ استعمال کی چیزیں خریدنے کے علاوہ اپنے یوٹیلٹی بلز بھی ادا کر سکیں گے لیکن چین یا روس سے اپنی پسند کی کوئی چیز نہیں منگوا سکیں گے نہ ہی یہ رقم امریکہ سے باہر اپنے کسی عزیر بیگم گرل فرینڈ بچے یا والدین کے اکاﺅنٹ میں ٹرانسفر کر سکیں گے۔ امریکی صدر نے سیدھے سیدھے انداز میں ووٹر کے ووٹ کا مُل ڈال دیا ہے پاک کرنسی میں رقم بہت معقول رقم ہے دنیا کی سب سب سے بڑی معیشت اور طاقتور ترین ملک کے صدر نے ووٹ کا جو ریٹ نکالا ہے امریکہ میں اسے اس کلاس میں پذیرائی حاصل ہو رہی ہے جسے ہم لفنٹر کلاس کہتے ہیں لیکن سنجیدہ مزاج امریکیوں نے ان کے ووٹ کا مل ڈالنے کے اقدام کا برا منایا ہے وہ پہلے ٹرمپ کی پالیسیوں سے ناراض تھے اب وہ اسے اپنی عزت پر حملہ قرار دے رہے ہیں انکا غصہ ساتویں آسمان پر ہے انکا کہنا ہے کہ امریکی بکاﺅ مال نہیں ہیں وہ اپنا ووٹ کبھی ٹرمپ کے ہاتھ فروخت نہیں کریں گے امریکہ کی ہر ریاست میں پاکستان اور بھارت کی طرح جھگیوں کی بستیاں ہیں ہمارے یہاں یہ بستیاں شہر سے قدرے ہٹ کے یا ریلوے لائنز کے ساتھ ساتھ نظر آتی ہیں بستی کا ہر گھر ایک بڑے چھپر پر مشتمل ہوتا ہے جہاں کم و بیش پانچ سات افراد رہتے ہیں اہل چھپر کی کل کائنات کھانا پکانے کے کچھ برتن چند کپڑے چند چٹائیاں اور ایک گدھا مع گاڑی ہوتی ہے بستی خالی کرا لی جائے یا آتشزدگی کی نذر ہو جائے تو یہ بستی کہیں اور منتقل ہو جاتی ہے امریکی ریاستوں میں یہ بستیاں فٹ پاتھوں پر بسائی جاتی ہیں اس کے مکین ہر وقت نشے میں دھت جھومتے جھامتے دیکھے جا سکتے ہیں یہ برسوں تک بلکہ زندگی بھر انہی فٹ پاتھوں سیوریج کے بڑے بڑے پائیوں میں رہتے ہیں انکے پاس سے گزرنے والے ان پر ترس کھا کر کھانا یا اپنا بچا کھچا کھانا دے دیتے ہیں کچھ لوگ ان کے سرہانے کچھ سکے بھی رکھ جاتے ہیں جس سے فٹ پاتھوں کے مکین اپنی ضروریات زندگی خرید لیتے ہیں جن میں سرفہرست نشہ آور اشیا یا نشے کے انجکشن ہوتے ہیں امریکہ کی مختلف ریاستوں میں ان فٹ پاتھیوں کی تعداد ہزاروں میں نہیں لاکھوں میں ہے اس حوالے اہم بات یہ ہے کہ ان میں بھی اہل ووٹرز کی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے جسے امریکی الیکشن میں چند روز عمدہ کھانا اور نقد مال خوب ملتا ہے امریکہ میں بھی ایسے ووٹرز سے ووٹ کاسٹ کرانے والے کارندے متحرک رہتے ہیں اور اپنے اپنے امیدوار کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں امریکی سی آئی اے اور امریکی نظام اس انداز انتخاب کو جمہوری قرار دیتا ہے اور ووٹرز کو خوش کرنے پر کوئی قدغن نہیں لگاتا یوں ہر امریکی صدر دو مرتبہ صدر امریکہ منتخب ہو جاتا ہے کبھی کبھار کسی بڑے بلنڈر کے باعث وہ ایک ٹرم کے بعد آﺅٹ ہو جاتا ہے امریکہ کے سنجیدہ مزاج حلقے امریکی صدر کے پانچ ہزاری اعلان کو الیکشن خرید نا قرار دے رہے ہیں یاد رہے ڈونلڈ ٹرمپ نے جب اپنا پہلا صدارتی انتخاب جیتا تو ان پر اس وقت بھی الیکشن خریدنے کا الزام لگا تھا علاوہ ازیں ان پر الیکشن میں سائنسی بنیادوں پر دھاندلی کے الزامات بھی لگے تھے اس زمانے میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے انکے اچھے دوستانہ تعلقات تھے ٹرمپ کے مخالفین نے کہا کہ ٹرمپ کو بذریعہ کمپیوٹر الیکشن جتوانے والی ٹیم روس میں بیٹھی تھی اور وہاں بیٹھ کر ہاتھ کی صفائی دکھاتی رہی، آج حالات بہت مختلف ہیں ، بھارت چین روس کیوبا وینزویلا اور اسلامی ممالک سے تعلق رکھنے والے ووٹرز ایک مختلف فیصلہ کیے بیٹھے ہیں کچھ ایسی ہی سوچ ان ملکوں کی حکومتوں کی ہے دوسری طرف یورپ بھی ٹرمپ سے زیادہ خوش نظر نہیں آتا۔ امریکی صدر کے لئے اس وقت جو بات سب سے بڑا عذاب بنی ہے وہ آبنائے ہرمز بند ہونے کے بعد بلب المندب کی کیفیت ہے جس کے سبب دنیا کے بیشتر 
ممالک تیل کی تلوار کی زد میں آ چکے ہیں، اس تلوار کی تیز دھار نے امریکیوں کی زندگی بھی درہم برہم کر دی ہے ساڑھے تین ڈالر فی گیلن ملنے والا پٹرول اب چھ سے نو ڈالر فی گیلن تک پہنچ چکا ہے جو امریکیوں کی قوت خرید سے باہر ہو چکا ہے آج امریکہ میں ہر پٹرول ڈلوانے والا شخص پٹرول ڈالتے ہوئے صدر امریکہ کی شان میں تین لفظوں پر مشتمل تعریفی کلمات ادا کرتا نظر آتا ہے۔ گذشتہ نوماہ کے دوران ہر امریکی کی جیب پر اوسطاً دو ہزار ڈالر ماہانہ کا اضافی بوجھ پڑا ہے یوں اس کی جیب سے اس عرصہ میں اٹھارہ ہزار ڈالر نکل کر کاروباری افراد اور بڑے تاجروں کی تجوریوں میں منتقل ہوئے ہیں اس طرح پانچ ہزار ڈالر فی کس بانٹنے سے بھی امریکی عوام کی اشک شوئی نہ ہو سکے گی امریکی صدر کے خاص نمائندوں نے حوثی حریت پسندوں کے نمائندوں سے اومان میں خفیہ ملاقات کے دوران درخواست کی ہے کہ وہ باب المندب کو بند نہ کریں اور تیل کے ٹینکروں کو گذرنے دیں تاکہ تیل کی قیمتوں میں مدٹرم الیکشن تک ہوشربا اضافہ نہ ہو، خبر یہ ہے کہ ٹرمپ ٹیم نے اس حوالے سے خاصا مال خرچ کیا ہے لیکن اس اقدام کے باوجود الیکشن جیتنے کی کوئی گارنٹی نہیں۔

مزیدخبریں