گزشتہ دنوں ہمدمِ دیرینہ راو واصف ایوب اسلام آباد آئے۔ان کے ہمراہ ہمارے پیارے جاوید بھائی بھی میلاد کانفرنس کا دعوت نامہ دینے آ گئے۔ جاوید بھائی راول پنڈی میں تحریک منہاج القرآن انٹرنیشنل کے کرتا دھرتا ہیں اور ڈاکٹر طاہر القادری کے مخلص پیروکار ہیں۔ خاکسار نے ان کے طفیل لیاقت باغ میں سجائی گئی میلاد کانفرنس میں شرکت کی۔ کانفرنس میں ملک کے طول و عرض سے لوگ تشریف لائے تھے جب کہ بعض افراد دوسرے ممالک سے بھی اس کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ عالم اسلام کے اعلیٰ ترین محققین اور مبلغین میں شمار کیے جانے والے علامہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے فرزند ارجمند، چیرمین سپریم کاونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل، پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے اس اجتماع سے خصوصی خطاب فرمانا تھا۔
ہر سال علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کی سرپرستی میں دنیا بھر میں میلاد کانفرنس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ یہ کانفرنسیں سیرت النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے اکتساب فیض کا بہترین سلیقہ اپناتی ہیں۔ ایسے اجتماعات کسی بھی انسانی معاشرے کے لیے کس قدر اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اس بات کا اندازہ آپ یوں لگائیے کہ ان میں نے نہ صرف مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کو مدعو کیا جاتا ہے بلکہ دیگر ادیان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بھی دعوت دی جاتی ہے۔ یوں یہ اجتماعات ایک طرف رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت بیان کرنے اور بہترین انداز میں اسوہ حسنہ کی تعلیم کا توسل بنتے ہیں بلکہ انسانی سماج میں بھائی چارے، باہمی تعاون، برداشت اور رواداری کی فضا قائم کرنے میں بھی بے حد معاون ثابت ہوتے ہیں۔ یاد رہے میں اس معاشرے کی بات کر رہا ہوں جہاں عموماً کسی دوسرے کے نظریاتی وجود کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ کسی تحقیقی اختلاف رکھنے والے شخص یا مکتبہ فکر کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ ایسے عوامل ہمارے معاشرتی رویوں کو پروان چڑھانے میں کتنا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آپ رواداری، برداشت اور تحمل جیسی خصوصیات پیدا کیے بنا ایک خوبصورت اور قابلِ رہائش معاشرے کا تصور ہی نہیں کر سکتے۔ تو یہ اہم کام ڈاکٹر طاہر القادری پاکستانی معاشرے کے لیے ایک طویل عرصے سے انجام دے رہیں ہیں۔
منہاج القرآن انٹرنیشنل کی تعلیمی خدمات پاکستان کے سبھی مکاتب فکر کے لیے مثال ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا تو پاکستان کے ہر بچے کو اسی زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی کوشش کی۔ اس بات کو بھی یوں سمجھئے کہ ہمارے ہاں بہت سے مبلغین کے بچے تو امریکہ یورپ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے پکڑے گئے ہیں لیکن وہ دوسروں کے بچوں کو ہمیشہ جدید اور سائنسی تعلیم سے متنفر کرتے آئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب لاہور کے قلب میں جدید علوم کی فراہمی کے لیے تعلیمی ادارے کا قیام عمل میں لائے جہاں سے ہزاروں طلبا نے اعلی تعلیم حاصل کی۔ اس خانوادے نے سائنسی علوم کے ساتھ قانون، معاشیات، سیاسیات کے میدان میں بھی تحقیقی کام کیا ہے اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق ان علوم کو اکادمیات کا حصہ بنایا ہے۔ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کے صاحب زادے ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اسلامک فائنانس کے حوالے سے خصوصی کام کیا ہے۔ وہ دنیا کے معاشی حالات اور معاشی مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہر سال عالمی کانفرنسوں کا انعقاد بھی کرواتے ہیں جن میں دنیا بھر سے محقیقین اور ماہرین کو دعوت دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر حسین صاحب اسی حوالے سے کئی تحقیقی کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔ در حقیقت یہ وہ معاملات ہیں جہاں ہمیں خالصتاً اسلام سے رہنمائی لینا ہو گی۔ ہمارا معاشی نظام صیہونی مالیاتی ضابطوں پر کھڑا ہو اور ہم دن رات اسلام کا نعرہ لگاتے رہیں تو اس سے ہر گز وہ ثمرات حاصل نہیں ہو سکتے جو دین اسلام کا خاصہ ہیں۔
میلاد کانفرنس میں خصوصی خطاب پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کا تھا۔ بغرض شرکت لیاقت باغ میں عوام کا سمندر امڈ آیا تھا لیکن اس سے زیادہ قابل تحسین وہ سلیقہ مندی تھی جس سے یہاں تمام انتظامات سنبھالے گئے تھے۔ مہمانوں کے بیٹھنے کی ترتیب، نظم و ضبط، اگلی نشستوں سے لے کر سٹیج تک نہ کسی کو کرسی کے لیے پریشان ہوتے دیکھا نہ لڑتے جھگڑتے۔ کوئی دھکم پیل نہ بھگدڑ۔ یہی تربیت تو ہمارے مذہبی طبقات نے پاکستانی معاشرے کی کرنا تھی۔ جب کہ ہم نے لوگوں کو یک طرفہ مطالعہ، تعصب، نفرت اور فتوہ گردی کی جانب دھکیل دیا۔ پاکستانی معاشرے کی نظریاتی بنیادوں کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ہم اپنے لوگوں کی تربیت مذہبی اجتماعات اور عبادتوں کے طفیل ہی کر سکتے ہیں۔ خدارا اپنے اجتماعات کو نفرت کا زہر پھیلانے کے لیے استعمال مت کریں یہ معاشرہ پہلے ہی خاک و خون میں نہلایا گیا ہے۔ نفرت اور تعصب کو ثواب بنا کر پیش کیا جائے گا تو چوری ڈاکے، لوٹ کھسوٹ، رشوت خوری، ذخیرہ اندوزی جیسے جرائم گناہ ہی نہیں لگیں گے۔ لوگ انسانوں پر مظالم ڈھانے کے بعد اپنی عبادتوں اور ریاضتوں میں نیکی تلاش کرتے پھریں گے۔
میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں عبادت کے ساتھ ساتھ معاشرتی اصلاح کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ ہم ربیع الاول میں اسلامی اقدار کے احیا کے طفیل فرد سازی اور معاشرہ سازی کا کام انجام دے سکتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر ضرورت اس امر کی ہے کہ میلاد کی تحریک ہمیں ان سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظاموں کی طرف متوجہ کرے جو دین اسلام کی بنیاد ہیں۔ ہماری ریاضتیں اور عبادتیں اسلامی نظام کے زیر اثر ثمر بار ہوں گی۔
عالمی میلاد کانفرنس راولپنڈی
09:24 AM, 18 Sep, 2026