افغانستان سے دہشت گردی پر پاکستان کا عالمی فورم پر واضح مؤقف

12:56 PM, 17 Sep, 2026

واشنگٹن: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو افغانستان سے لاحق دہشت گردی کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے پاکستان اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا، تاہم ہر اقدام بین الاقوامی قانون کے مطابق کیا جائے گا۔

 سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خطرے کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک اور شہریوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والے عناصر کے خلاف دفاعی اقدامات کیے جائیں گے۔

 پاکستانی مندوب نے بتایا کہ گزشتہ تین برس کے دوران افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں 4,700 سے زائد پاکستانی جانیں گنوا چکے ہیں۔ انہوں نے افغان حکام پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

 عاصم افتخار احمد نے افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان، کالعدم بلوچ لبریشن آرمی، داعش خراسان اور ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ سمیت مختلف گروہوں کی موجودگی کا ذکر کیا۔

 انہوں نے کہا کہ بعض بیرونی عناصر افغانستان میں موجود گروہوں کو پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، جبکہ غیر قانونی اسلحے اور اس کی اسمگلنگ کا مسئلہ بھی خطے کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

 پاکستانی نمائندے کے مطابق افغانستان کے استحکام کے لیے پاکستان انسانی امداد اور علاقائی تعاون کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ رپورٹنگ کی مدت کے دوران پاکستان کے راستے 687 امدادی سامان سے لدے ٹرک افغانستان پہنچے۔

 انہوں نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی، معاشی مشکلات، خواتین اور لڑکیوں پر پابندیاں اور بڑی تعداد میں لوگوں کی واپسی ملک کے مستقبل کے استحکام کے لیے اہم چیلنجز ہیں۔

مزیدخبریں