غزہ میں اسرائیلی ٹینکوں کی تباہ کن بمباری، 24 گھنٹوں میں 100 سے زائد فلسطینی شہید

02:59 PM, 17 Sep, 2025

غزہ : غزہ میں اسرائیلی فوج نے شدید بمباری اور زمینی حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں بچوں سمیت 100 سے زیادہ فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی حملوں میں کئی مساجد اور درجنوں گھر بھی تباہ ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے پناہ گزین کیمپوں میں جگہ کم پڑ گئی ہے۔

فرانس نے اس کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کا یہ آپریشن تباہ کن ہے اور اسے فوراً روکنا چاہیے۔

اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی کمیشن نے بھی اسرائیل پر نسل کشی کا الزام عائد کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2023 کے بعد سے اسرائیل نے غزہ میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نسل کشی کے چار اہم اقدامات کیے ہیں۔

یہ کمیشن اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے 2021 میں بنایا تھا تاکہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جا سکیں۔ اس کمیشن کی سربراہی جنوبی افریقہ کی معروف انسانی حقوق کی کارکن نوی پلے کر رہی ہیں، جو پہلے روانڈا کی نسل کشی کے بین الاقوامی ٹریبونل کی صدر بھی رہ چکی ہیں۔

رپورٹ میں خاص طور پر دسمبر 2023 میں غزہ کے سب سے بڑے فرٹیلٹی کلینک پر حملے کو بھی نسل کشی کے اہم واقعات میں شامل کیا گیا ہے، جہاں ہزاروں ایمبریو اور سپرم کے نمونے تباہ ہو گئے تھے۔

اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق نسل کشی کا الزام عائد کرنے کے لیے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ یہ تمام کارروائیاں جان بوجھ کر نسل کشی کے ارادے سے کی گئی ہیں، اور اس پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔

مزیدخبریں