قیامت کامنظر اور الخدمت کی خدمت

09:22 AM, 17 Sep, 2025

ہر سو تباہی و بربادی، تاحد نگاہ پانی ہی پانی اور کئی فٹ پانی میں پھنسے مدد کے لیے پکارتے انسان۔ اسی پانی میں ڈوبتے جانور، جو ان غریب لوگوں کا کل اثاثہ تھے۔ ننگ جسم معصوم بچے اور پھوک و پیاس سے اونچی ہوتیں انکی چیخ و پکار جو روح کو زخمی کر جاتی ہیں۔ یہ صرف ایک خاندان کا رونا نہیں بلکہ لاکھوں خاندان اس کرب اور الم سے گذر رہے ہیں۔ پہلے خیبر پختونخوا، پھر شہر لاہور سے ہوتا ہوا یہ تباہی کا سلسلہ پورے پنجاب تک جا پہنچا اور جنوبی پنجاب میں تو جس نے قیامت صغریٰ برپا کی ہوئی ہے۔ بڑے بڑے تاریخی شہروں کو اس آفت نے آفت زدہ بنا کر دکھ دیا ہے اور آفت بھی ایسی، جس سے کئی عرصے تک نکلنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔ مزید ظلم یہ ہے کہ پہلے سے مفلوک الحال لوگ مزید مفلوک الحالی کا شکار ہو گئے۔ حالیہ دورہ جلال پور پیر والہ، علی پور اور سیت پور میںایسے ایسے کربناک مناظر دیکھنے کو ملے کہ روح کانپ اٹھے۔ لوگ اپنی متاع عزیز کو بچانے کی امید سے کئی کئی روز سے بارہ فٹ  پانی میں پھنسے ہوئے ہیں اور اتنے ہی روز سے بھوکے اور پیاسے بھی۔ سیکڑوں کلو میٹر تک پانی تباہی مچا رہا ہے اور ہر آنے والے دن کے ساتھ جس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ 
قارئین کرام! جنوبی پنجاب کی یہ پوری پٹی تاریخی اعتبار سے بھی اپنی ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ سیت پور جہاں اب ہر جانب تباہی و بربادی ہے کی اصل خوبصورتی طاہر خان نہڑ کا پُر کشش مقبرہ تھا۔ یہ مقبرہ نفیس اینٹوں کے اونچے چبوترے پر قائم تھا، زمین سے اپنی چوٹی تک مقبرہ کی تین واضح حد بندیاں نظر آتی تھیں۔ مقبرے کے باہر کا منظر بڑا خوبصورت اور دلکش تھا، اس میں مختلف قسم کی نفیس ٹائلیں لگی ہوئی تھیں جو مربع، مستطیل اور چوکور شکل کی ہیں۔ اس مقبرے کے قریب ہی ایک مسجد تھی جو شاہی مسجد کے نام سے مشہور تھی۔ اس خوبصورت مسجد کی پیشانی سفید، زرد اور روغنی ٹائلوں سے آراستہ ہے، ہر ایک حصہ پر ایک گنبد بنایا گیا تھا، مسجد پر قدیم زمانے کے نفیس کام کے بہت آثار ملتے ہیں، مسجد کے ہر حصہ کے لیے ایک ایک دروازہ تھا، درمیانی دروازہ پر تین خوبصورت محرابیں بنائی گئی تھیں، اس طرح باقی دروازوں پر بھی تین تین محرابیں بنائی گئی تھیں، مسجد کی پیشانی رنگ برنگی اور مختلف قسم کی روغنی ٹائلوں سے مزین کی گئی تھی جو اب زیر آب ہے۔
قارئین کرام! تاریخی اہمیت کے ایسے شہر اب پانی نے نگل لیے ہیں اور یہاں رہنے والے باسیوں کی زندگی مزید اجیرن ہو گئی ہے۔ خوبصورتی و حسن سے مالامال ان جیسے قصبوں میں رہنے والے لوگ بھی خوب مہمان نواز اور اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے، انتہائی ملنسار اور دل کے سخی مانے جاتے تھے۔ اب انکی حالت زار اس قدر کمزور ہو چکی ہے کہ لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ پانی کا پریشر اتنا ہے کہ لوگ اپنے ہی گھروں سے بے گھر ہوئے پڑے ہیں۔ ان کی زمینیں، جانور اور دیگر سامان پانی کی نذر ہو چکا اور زندگی گذارنے کا کوئی بھی سہارا سجھائی نہیں دیتا۔ حکمران اپنے طور پر کچھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن المیہ اتنا بڑا ہے کہ معاملات بجائے بہتر ہونے کے بد تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں الخدمت فائونڈیشن جیسے ادارے کسی امید سے کم نہ ہیں۔ انتہائی مستعد اور متحرک طریقے سے لوگوں کو ریسکیو کرنا، انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنا اور پھر پانی میں پھنسے ہوئے لوگوں کو پانی، کھانا اور راشن فراہم کرنا بلاشبہ بہت مشکل ترین کام ہے جو الخدمت بڑی خوبی سے سر انجام دے رہی ہے۔ خیمہ بستیوں میں سیکڑوں لوگوں کا قیام، ان کے کھانے پینے، علاج و معالجے و دیگر ضروریات زندگی کے لیے لائیو کچن، لائیو تندور، ان حالات میں سب سے زیادہ اہم صاف پانی اور اس کے لیے واٹر فلٹریشن کا قیام اور سب سے بڑھ کر بیماریوں سے مقابلہ کرنے کے لیے ہیلتھ یونٹ جو چوبیس گھنٹے اپنی سروسز مہیا کر رہا ہے جس میں ڈاکٹرز سمیت پیرا میڈیکل سٹاف، مفت ادویات اور ٹیسٹوں کی سہولیات بھی موقع پرفراہم کی جا رہی ہیں۔ الخدمت فائونڈیشن کے رضا کار کشتیوں کے ذریعے اپنے ہم وطنوں کو کئی فٹ پانی سے ریسکیو کرنے میں مصروف عمل ہیں اور یہ تمام امور انتہائی احسن انداز میں سر انجام دئیے جا رہے ہیں۔
قارئین محترم! بلا شبہ یہ قیامت صغریٰ کا منظر ہے۔ جس طریقے سے پاکستانی عوام نے اپنے لوگوں کو بچانے اور انہیں اس آفت سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنا دست تعاون دراز کیا ہے وہ بھی تاریخ میں سنہرے الفاظ سے رقم کیا جائے گا۔ الخدمت فاؤنڈیشن جیسے ادارے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب بھی انسانیت زندہ ہے، یہ لوگ جس طرح دیوانہ وار اپنے لوگوں کے لیے کام کر رہے ہیں، اس کی مثال ہمیں کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتی۔ مجھے اس دورے کے دوران الخدمت کے ذمہ داران و کارکنان کی جذبہ و ہمت کی ایسی ایسی داستانیں دیکھنے اور سننے کو ملی کہ دل خوش ہو گیا۔ یہ لوگ موسم کی سختی، ملیریا، ڈینگی، ہیضہ اور جیسی دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو کر بھی خدمت میں پیش پیش دکھائی دئیے۔ سیلاب کی تباہی و بربادی کی ہولناکی کو کم کرنے کے لیے الخدمت کے رضا کار لوگوں کی خدمت میں مصروف عمل ہیں اور صف اول میں دکھائی دے رہے ہیں، کریم رب ان کی کاوشوں کو قبول کرے۔ آمین۔

مزیدخبریں