کچھ امکانات حقیقت کی مانند ہوتے ہیں غالباً یہی وجہ ہے کہ اس بار بھی کچھ تبدیل نہ ہوا۔ اب کی بار بھی وہی ہوا جس کی اُمید کی جا رہی تھی۔ گویا
وہ تیرگی تھی مسلط فضائے عالم پر
لہو کے دیپ جلے پھر بھی روشنی نہ ہوئی
گمان تھا کہ حالات کی سنگینی اس بار تو مجبور کر ہی دے گی تباہی جو اپنے گھر تک پہنچ چکی ہے۔ اگر اب بھی کوئی سخت قدم نہ اُٹھایا گیا تو پھر جو ہونے جا رہا ہے وہ تو نوشتہ دیوار ہے کہ ’تیری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں‘۔ امت مسلمہ اپنی لیڈرشپ کی طرف دیکھ رہی تھی جو غیرت و حمیت کی چادر اپنے سر سے نوچ کر اغیار کے صحن میں محو رقص ہے۔
خیال تھا شاید اس بار ممکنہ طور پر ایک ایسا بڑا فیصلہ ہو جائے، ایک ایسا فیصلہ جس کے منتظر امت مسلمہ کے دو ارب نفوس ہیں۔ شاید یہ معجزہ اس بار ہو ہی جائے لیکن قطر کے شہر دوحہ میں ہونے والی مسلم عرب رہنمائوں کی میٹنگ گویا عورتوں کی مانند بال کھول کر اور سینہ کوبی کرنے کے نوحے سے زیادہ ثابت نہ ہوئی۔ وہی گرما گرم خطاب، وہی مذمتیں اور دُنیا سے یہ التجائیں کہ کوئی تو اس بدمعاش نیتن یاہو کو روکے جو ان کی عزتوں کو ’تار تار‘ کرنے پر تُلا ہوا ہے۔
میٹنگ کے بعد جاری ہونے والا اعلامیہ کچھ یوں ہی تھا جیسے بیچ چوراہے بین کرتی وہ عورت جو ظالم کے خلاف آہ و فغاں تو کرتی ہے لیکن خود کو بچانے کی اہلیت و طاقت اس میں نہیں ہوتی۔ حقیقت حال تو یہ ہے کہ مسلم لیڈر شپ غفلت و پروائی اور عیش و عشرت کی گہری نیند سے بیدار ہونے کو تیار ہی نہیں۔ پاکستان، ایران اور ملائیشیا کی تجویز کہ وقت آن پہنچا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف مسلم اُمہ کے خلاف نیٹو کی طرز پر اپنی ایک مشترکہ ایکشن فورس ہونی چاہیے، ایک تجویز سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ خود قطر کی قیادت جہاں حال ہی میں اسرائیل نے حماس کی قیادت پر حملہ کیا ہے، میٹنگ میں فوٹو سیشن کرانے سے زیادہ آگے بڑھتی
دکھائی نہ دی۔ چلو یہ تو ہوا کہ گریٹر اسرائیل کے نقشے اور اعلانات بھی سامنے آ گئے اور عرب لیڈر شپ کی جانب سے اس حقیقت کو تسلیم بھی کر لیا گیا ہے۔ گریٹر اسرائیل اب کوئی سازشی تھیوری نہیں بلکہ اسرائیل اور امریکہ سمیت اس کے اتحادیوں کا وہ اولین مقصد ہے جس کے گرد ان کی ساری توانائیاں اور کوششیں گردش کرتی نظر آتی ہیں۔ یہ پورے خطہ عرب پر قبضہ کرنے کا وہ منصوبہ ہے جو سب کے سامنے آگے بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے اگر اسے نہ روکا گیا تو شاید دُنیا کے نقشے پر تباہی سے اب تک بچ جانے والے سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور بحرین سمیت دیگر عرب ممالک والے کچھ ہی عرصہ میں اپنا وجود کھو دیں گے۔ یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کے علاوہ کوئی ایک بھی ملک ایسا موجود نہیں جو اسرائیل اور بھارت سمیت اس کے حواریوں کو سبق سکھا سکے۔ مسلم امہ کی اس وقت آخری امید ایٹمی پاکستان اس کی اور وزیر اعظم شہباز شریف و آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت قیادت ہے۔ قطر میں پاکستان کی قیادت کا موقف اور تجاویز قابل ستائش ہیں۔ پاکستان ہی وہ ملک ہے جو اسرائیل کے ظلم و ستم پر اس کے اندر گھس کر اسے سبق سکھا سکتا ہے۔ امریکہ کے بغل بچے نیتن یاہو نے ایک بار پھر دھمکی دی ہے کہ وہ اسرائیل سے باہر جہاں بھی اپنے دُشمنوں کو پائے گا حملہ کرے گا جبکہ امریکہ جس کی سرپرستی میں دوحہ میں حماس کی قیادت پر حملہ کیا گیا، مسلم ممالک کو اس خوش فہمی کا شکار کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اسرائیل کو سمجھا دیا گیا ہے کہ وہ آئندہ ایسا نہ کرے۔ امریکہ نے اپنی ساری کوشش ان دنوں مسلم ممالک کو اسرائیل کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے باز رکھنے پر صرف کی ہے۔ اس میں وہ کامیاب بھی نظر آتا ہے۔ ایسے میں اسرائیل توسیع پسندانہ عزائم کے سائے تیزی سے سعودی عرب، قطر اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کی طرف بڑھتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ اگر عرب ممالک پاکستان کو خطیر رقم فراہم نہ کریں ان کی حفاظت کے لیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے بلکہ پاکستانی قیادت کو اس وقت اپنی ساری توجہ پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے پر صر ف کرنی چاہیے۔
ایسے میں اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کرنے کی تصدیق کی ہے۔ اسکی ایک رپورٹ کے مطابق واضح شواہد ہیں کہ 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل بین الاقوامی قانون میں بیان کردہ نسل کشی کے پانچ میں سے چار اقدامات کا مرتکب ہوا ہے۔ اسرائیل کو نسل کشی کے جن اقدامات کا مرتکب پایا گیا ہے ان میں مخصوص گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد کا قتل، انہیں شدید جسمانی اور ذہنی نقصان پہنچانا، جان بوجھ کر کسی گروپ کو تباہ کرنے کے لیے حالات پیدا کرنا اور بچوں کی پیدائش کو روکنا شامل ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں نسل کشی کے ارادے کو ثابت کرنے لیے اسرائیلی رہنماؤں کے بیانات اور اسرائیلی افواج کے طرز عمل کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 64,905 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ غزہ کی زیادہ تر آبادی متعدد بار بے گھر ہو چکی ہے جبکہ اندازے کے مطابق، 90 فیصد سے زیادہ گھر یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا انہیں نقصان پہنچا ہے۔ صحت کی سہولیات، پانی، صفائی اور حفظان صحت کے نظام تباہ ہو چکے ہیں اور اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ فوڈ سکیورٹی ماہرین اعلان کر چکے ہیں کہ غزہ شہر میں قحط ہے۔
اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان نے کمیشن میں شامل تینوں ماہرین پر الزام لگایا ہے کہ وہ ’حماس کی پراکسی‘ کے طور پر کام کر رہے ہیں اور انہوں نے رپورٹ کے لیے ’مکمل طور پر حماس کے جھوٹ‘ پر انحصار کیا ہے۔
عرب حکمرانوں کے نوحے
09:21 AM, 17 Sep, 2025