تبدیلی کا نوحہ

09:20 AM, 17 Sep, 2025

یہ 23 مارچ 1940ء کا تاریخی دن ہے، برصغیر بھر سے لاکھوں مسلمان لاہور کے منٹو پارک میں جمع ہیں۔ وہ سہانے خواب آنکھوں میں سجائے جوق در جوق یہاں پہنچے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ استعمار نے انہیں غلامی کی جن زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے اس کے ٹوٹنے کا وقت قریب ہے۔ جس انقلاب کو وہ ترس رہے ہیں وہ برپا ہونے کو ہے، جس تبدیلی کے وہ سالہا سال سے منتظر ہیں وہ آنے کو ہے۔ انہیں بتایا گیا ہے کہ ٓاج اسلامیانِ ہند کے عظیم قائد ایک ایسا اعلان کرنے والے ہیں جس سے ان کے خوابوں کو تعبیر ملے گی ۔وہ ہمہ تن گوش ہیں، ان میں اکثریت ایسوں کی ہے جو پڑھے لکھے نہیں اور عام لوگ ہیں لیکن انہیں یقین ہے کہ آج کچھ انوکھا ہونے جا رہا ہے۔ ایسے میں سٹیج سے ایک گرجدار آواز گونجتی ہے، ہر سماعت اس طرف متوجہ ہو جاتی ہے۔ مسلمانوں کے عظیم قائد محمد علی جناح مجمع سے مخاطب ہیں’’ قوم کی کسی بھی تعریف کے مطابق مسلمان ایک قوم ہیں اور ان کا اپنا وطن ہونا چاہیے، اپنے علاقے اور اپنی ریاست ۔ہم آزاد اور خود مختار قوم کی حیثیت سے اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن و آشتی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔  ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے عوام روحانی، ثقافتی، اقتصادی، معاشرتی اور سیاسی زندگی میں ترقی کریں اس انداز سے جسے ہم بہترین سمجھتے ہیں۔ اپنے آئیڈیل کے مطابق اور اپنے عوام کی سوچ کے مطابق۔‘‘ اس اجلاس میں مسلما نانِ بر صغیر نے واضح نصب العین کا تعین کر لیا اور انہیں ایک روشن مستقبل کی جھلک نظر آنے لگی۔ چنانچہ انہوں نے آزاد وطن کیلئے اپنا تن من دھن قربان کر دیا ۔بالآخر 14 اگست 1947ء کو پاکستان معرض وجود میں آگیا۔آج ملک کو آزاد ہوئے 78 برس ہو چکے ہیں۔ آپ مجھے بتائیں کہ کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کا خواب قائد اعظم نے دیکھا تھا اور جس تبدیلی کے لیے مسلمانانِ برصغیر نے جان و مال کی لازوال قربانیاں دی تھیں؟
یہ 10 اپریل 1986ء کا یادگار دن ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو جلاوطنی کے بعد پاکستان آرہی ہیں۔ مارشل لا ء کے طویل دور سے تنگ عوام اب تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ لوگوں کا جم غفیر بے نظیر بھٹو کے استقبال کیلئے لاہور کی سڑکوں پر اُمڈ آیا ہے۔ ان لوگوں کا ماننا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی قتل کے ذریعے پھانسی دی گئی ۔پارٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بے نظیر بھٹو نے اس دن مینار پاکستان کے سائے تلے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں بے نظیر بھٹو کا کہنا تھا ’’یہ تاریخی استقبال کسی فرد کیلئے نہیں بلکہ عوام تبدیلی چاہتے ہیں۔ ہم پاکستان کو خوشحال، مستحکم اور باوقار ملک بنائیں گے۔ میں چاہتی ہوں کہ اس ملک کے اندر کسانوں اور چھوٹے دکانداروں کے ساتھ انصاف ہو۔ مجھے یقین ہے بہت جلد آپ یعنی عوام کا دور آئے گا۔‘‘ اس تقریر کو سن کر لوگوں کی آنکھوں میں امید کی چمک نظر آئی اور وہ دیوانہ وار’’ زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ کے نعرے لگانے لگ پڑے۔ انہیں یقین ہو گیا کہ بے نظیر بھٹو غریبوں کے مسائل حل کر یں گی۔بعدازاں جنرل ضیاء الحق ایک طیارہ حادثہ میں لقمہ ٔاجل بن گئے۔ ملک میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا تو بے نظیر بھٹو ملک کی وزیراعظم بن گئیں۔ جس تبدیلی کا ذکر انہوں نے اپنے اس خطاب میں کیا تھا کہ ہم پاکستان کو خوشحال، مستحکم اور باوقار ملک بنائیں گے، یہ تبدیلی کس حد تک آئی ہم سب بخوبی جانتے ہیں۔
یہ 30 اکتوبر 2011 ء ہے۔ تحریک انصاف اپنے قیام کے 15برس بعد لاہور میں مینار پاکستان پر ایک جلسۂ عام کا انعقاد کر رہی ہے۔ اس دن جلسہ گاہ کے اندر اور باہر لوگوں کا ہجوم ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس دن عمران خان کو ملنے والی’’ قوت‘‘ ہی ان کے ایوان وزیر اعظم تک پہنچنے کا ذریعہ بنی۔ عمران خان نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا’’ دو جماعتوں کی پارٹنر شپ توڑنا چاہتے تھے اور آج مینار پاکستان پر اللہ نے ہماری آواز سن لی ۔ ہم آج ایک نئے پاکستان کا آغاز کر رہے ہیں ۔لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ نے لاہور سے کیوں آغاز کیا تو قائد اعظم نے 1940ء کو ادھر سے ہی تحریک پاکستان کا آغاز کیا تھا۔‘‘ انہوں نے اپنی اس تقریر میں عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی لانے کیلئے ایسے بلند و بانگ دعوے کیے جنہیں سن کر دو جماعتی نظام سے اکتائے لوگ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں عمران خان کی شکل میں اپنا نجات دہندہ نظر آنے لگا ۔ 2018ء میں ہونیوالے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے وہ وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ گئے۔ ان کے پونے چار برس کے دورِ حکومت میں عام آدمی کی زندگی میں جو تبدیلی آئی اس پر لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ اس دور کے آخری حصہ میں لوگ تبدیلی کے نام سے ہی چِڑ کھانے لگ گئے تھے۔ 
یہ 23 دسمبر 2012ء ہے۔ ’’ سیاست نہیں ریاست بچاؤ‘‘ کا نعرہ لے کر عوامی تحریک کے سر براہ ڈاکٹر طاہر القادری میدانِ عمل میں ہیں۔ جگہ ایک بار پھر وہی ہے لاہور میں مینار پاکستان کا سرسبز و شاداب میدان۔ لوگ نظام میں تبدیلی کی امید لیے جلسہ گاہ کی طرف ا ٓرہے ہیں۔ اپنے خطاب میں طاہر القادری کا کہنا تھا’’ عوام اس ملک میں تبدیلی کا سویرا دیکھنا چاہتے ہیں۔ جس ملک کے ممبران، پارلیمنٹ میں صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوں ایسے نظام سے عوام کیا بہتری کی امید رکھ سکتے ہیں۔ میں اس ملک میں ایسا نظام دیکھنا چاہتا ہوں جس میں عوام خوشحال ہوں،ان کے بنیادی حقوق بحال ہوں اور انہیں روٹی ،کپڑا اور مکان کی بہترین سہولیات میسر ہوں۔‘‘ یہ باتیں بہت اچھی اور ہر پاکستانی کے دل کی آواز تھیں لیکن کیا اس جلسہ کے بعد نظام میں کوئی تبدیلی آئی؟ البتہ ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی اس پر چنداں لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
میں نے مندرجہ بالا سطور میں مینار پاکستان کے سائے تلے ہونیوالے چار بڑے جلسوں کا مختصر احوال اور ان جلسوں میں ہونیوالی تقاریر کے چند نکات آپ کے سامنے پیش کیے۔ اس میں انقلاب اور تبدیلی کے بہت دعوے کیے گئے لیکن شاید وہ اس کے حقیقی معنی اور مفہوم سے ناآشنا تھے۔ میرے نزدیک یہ تبدیلی کا ایسا نوحہ ہے جس پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا سکتا ہے ۔ عوام کو 78برس میں انقلاب اور تبدیلی کے جو خواب دکھائے گئے وہ کس حد تک عملی تعبیر کو پہنچے اس کا فیصلہ میں اپنے قارئین پر چھوڑتا ہوں۔

مزیدخبریں