پاکستان نے مئی میں ہندوستان کو جب عبرت ناک شکست دی تو اس کے بعد وہ مسلسل پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہا ہے ۔ اسے براہ راست حملہ کرنے کی جرا¿ت تو نہیں ہو رہی لہٰذا اس نے سازشوں پر زور رکھا ہوا ہے۔10مئی کے بعد تسلسل کے ساتھ تمام سلیپنگ سیل جو ہیں انھیں Active کیا جا رہا ہے۔ ہمیں حیرت ہے کہ پاکستان کی کچھ سیاسی و مذہبی جماعتیں بھی جانے انجانے میں ان سلیپنگ سیل کا کردار ادا کر رہی ہیں ۔ مئی میں جب ہندوستان کے ساتھ جنگ تھی تو عین حالت جنگ میں ایک جماعت کا سوشل میڈیا ہندوستان کے حق میں استعمال ہوتا رہا اور یہ کام صرف عام لوگ نہیں کر رہے تھے بلکہ جنھیں سند یافتہ صحافی ہونے کا شرف حاصل تھا وہ سب بھی پاکستان کے خلاف اور ہندوستان کے حق میں بیانیہ بنا تے تھے اور پھر باقی لونڈے لپاڑے اس بیانیہ کو پوری دنیا میں پھیلاتے رہے لیکن اس ساری صورت حال میں جو سب سے افسوس ناک پہلو تھا وہ یہ کہ پارٹی کی قیادت نے اس ملک دشمن پروپیگنڈا کی کبھی نفی نہیں کی بلکہ ہمیشہ نہ صرف یہ کہ اس کی حوصلہ افزائی کی بلکہ بد رجہ اتم خود بھی اس میں اپنا حصہ ڈالا ۔ محب وطن قیادت حالت جنگ میں ہمیشہ اپنی قوم اور خاص طور پر اپنی افواج کا حوصلہ بڑھاتی ہے لیکن یہاں اس کے بالکل ہی بر عکس کام ہوا ۔ کبھی کہا گیا کہ ہماری تو معیشت ہی اس قابل نہیں کہ جنگی لڑاکا طیاروں میں تیل بھرنے کے بھی پیسے ہوں اور پھر کہا گیا کہ موجودہ حکومت تو اس قابل ہی نہیں کہ وہ ہندوستان سے جنگ لڑ سکے اس کے لئے اڈیالہ جیل میں جائیں اور عمران خان سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگے اور اسے باہر لے کر آئیں تو وہ موڈی کو جواب دے گا ۔ 65کی جنگ میں تو ابھی ہم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اور71 میں عمر چھوٹی تھی لیکن سنا یہی ہے کہ فنکاروں سے لے کرعام آدمی تک ہندوستان کے خلاف افواج پاکستان کے ساتھ کھڑا تھا اس وقت بھی سیاسی مخالفتیںتھیں لیکن ملک کی سلامتی کی قیمت پر سیاست نہیں کی جاتی تھی اور اس کی ایک اور بہترین مثال سقوط ڈھاکہ کے بعد جب بھٹو صاحب ہندوستان گئے تو اس وقت پاکستان کی جملہ سیاسی قیادت انھیں رخصت کرنے کے لئے ایئر پورٹ پر موجود تھی ۔ جس کا مقصد ہندوستان کو یہ پیغام دینا تھا کہ کسی بھول میں نہ رہنا ہمارے آپس میں جو بھی اختلافات ہوں لیکن ہم تمہارے مقابلہ میں متحد ہیں لیکن یہاں ہندوستان کو واضح طور پر پیغام دیا گیا کہ ہم صرف تمہارے ساتھ ہیں ۔
اب اگر افغانستان سے جنگ ہے تویہ لوگ وہ افغانستان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ حیرت اس بات پر ہے کہ انھوں نے کبھی دہشت گردوں کی مذمت نہیں کی ۔ بی ایل اے کے بیانیہ کا ساتھ دیا حتیٰ کہ اسرائیل کے مظالم کی مذمت تک نہیں کی لیکن اسد قیصر صاحب کہتے ہیں کہ اگر افغانستان سے جنگ کی تو ہمارے کاروبار تباہ ہو جائیں گے یعنی پاکستان کی سلامتی سے زیادہ اپنے کاروبار کی فکر ہے ۔ گذشتہ چند دنوں سے بلوچستان اور خیبر پختون خوا سے ہر روز درجنوں دہشت گردوں کی ہلاکت کی خبریں مل رہی تھیں لہٰذا اس کے جواب میں سلیپنگ سیلز کو متحرک کرنا ضروری تھا ۔ اس کے لئے ایک طرف تو خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ کو تبدیل کر کے ایک ایسے وزیر اعلیٰ کو لایا گیا کہ جو انتشار کا ایجنڈا لے کر آیا ہے تو دوسری جانب ایک مذہبی جماعت نے غزہ کی صورت حال کو بہانہ بنا کر لاہور سے لانگ مارچ شروع کر دیا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ اس کا نتیجہ کیا نکلا اور جب مرید کے میں انھیں منتشر کرنے کے لئے آپریشن ہوا تو سارا دن کس طرح فیک نیوز کا ایک طوفان تھا جو سوشل میڈیا پر بپا تھا ۔ یہ سب سازشیں ہو رہی ہیں تاکہ کسی طرح پاکستان کو دنیا میں جو عزت مل رہی ہے اسے سازشی بیانیہ سے ختم کیا جا سکے اور موجودہ رجیم کو سیاسی نقصان پہنچا سکیں چاہے اس کے لئے انھیں ملک کے خلاف ہی کام کرنا پڑے ۔ ایک طرف یہ سب سازشیں ہیں اور دوسری جانب ملک کی ترقی ہے جو انھیں ہضم نہیں ہو رہی جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہیں تو سب کچھ ہے لیکن اگر وہ نہیں تو پھر کچھ نہیں ۔
حیرت اس بات پر نہیں ہے کہ افغان طالبان نے ہماری پچاس سالہ مہمان نوازی کا کیا صلہ دیا اس لئے کہ افغان تو شروع دن سے ہمارے خلاف تھے قیام پاکستان کے وقت اقوام متحدہ میں اگر کسی ملک نے پاکستان کی مخالفت کی تھی تو وہ افغانستان ہی تھا ۔ 65اور71دونوں جنگوں میں افغانستان پاکستان کی بجائے ہندوستان کے ساتھ کھڑا نظر آیا لیکن طالبان تو ہمارے اپنے تھے۔9/11کے بعد ان کی پوری قیادت کو ہم نے پاکستان میں جگہ دی اور امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد پاکستان سے ایسا کون سے جرم سر زد ہو گیا کہ جس کو بنیاد بنا کر یہ لوگ پاکستان دشمنی میں اس حد تک چلے گئے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی شروع کر دی اور ان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی ہندوستان کے ساتھ بیٹھ کر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہیں اور ترجمان افغان طالبان ضمیر اللہ مجاہد ٹی ایل پی کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں لیکن اس سب کے باوجود بھی کچھ سیاسی اور مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونے کی بجائے ان ملک دشمنوں کے ساتھ نہ صرف یہ کہ کھڑی ہیں بلکہ ببانگ دہل ان کے خلاف کارروائیوں کو روکنے کی دھمکیاں بھی دیتے ہیں ۔ ان سازشوں کو ہر حال میں شٹ اپ کال دینا ہو گی ورنہ اس کے بغیر ہم دہشت گردی اور دیگر مسائل کی دلدل سے نہیں نکل پائیں گے۔
اندرونی بیرونی سازشیں
09:08 AM, 18 Oct, 2025