پپو سنیارا، جیلا ڈانگری اور ”مافیا ڈان“

09:05 AM, 18 Oct, 2025

چوپال سجی ہوئی تھی۔ نتھو پھتواور سب لوگ ایک دوسرے سے محو گفتگو تھے۔ اسی اثنا میں ایک بارعب آواز نے سب کی توجہ اپنی جانب کرلی۔یہ پپو سنیارے کی آواز تھی، جو چوپال میں بہت کم آتے تھے۔آج چوپال والے بھی حیران تھے کہ خیر تو ہے جو پپو سنیارا چوپال میں آیا ہے۔۔۔ خیر انہوں نے آتے ہیں چپ سائیں کا پوچھا۔۔ نتھو اور پھتو نے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور ساتھ ہی کہا کہ سائیں جی آتے ہی ہوں گے۔ کچھ دیر بعد چپ سائیں کی چوپال میں آمدہوئی۔۔۔ سائیں جی نے سانس لینے کے بعد کہا۔۔ خیر تو ہی پپو سنیارے آج ادھر کا رخ کیا۔۔۔ چپ سائیں کی بات سن کرپپو نے کہاکہ سائیں جی۔۔ ایک مسئلے میں آپ کی مدد درکار ہے۔ اس پر چپ سائیں نے کہا کیا بات ہے۔۔ پپو!۔۔ اس پر پپو سنیارا بولا۔۔۔ سائیں جی آپ جانتے ہیں کہ جیلا ڈانگری میرا ہمسایہ ہے۔۔ وہ جب نیا نیا محلے میں آیا تو میں نے اس کا بہت خیال رکھا۔۔ اس کی کسی سے جان پہچان نہیں تھی۔۔ لیکن میری معرفت اس کی پہچان ہوئی۔۔ اب اس کو کافی عرصہ ہوگیا ہے۔ اس کے بچے بھی بڑے ہوگئے ہیں لیکن اسی جیلے ڈانگری کے بچے مجھے اور میرے خاندان والوں کو آنکھیں دکھاتے ہیں۔۔۔ ان کے پاس اب کچھ پیسے بھی آگئے ہیں لیکن اللہ مجھے معاف کرے اس کے پاس میرے مقابلے میں کم پیسے ہیں لیکن۔۔۔ ان کے رویے دن بہ دن بدل رہے ہیں۔۔۔میں اس وجہ سے پریشان ہوں کہ کہیں برسوں پرانے ہمسائے آمنے سامنے نہ آجائیں۔۔۔حالانکہ کسر کوئی نہیں رہی۔۔۔پھر بھی۔۔ میں نے اور میرے بچوں نے ابھی تک لب سی رکھے ہیں۔۔ میں تو آپ کے پاس اسی وجہ سے آیا ہوں کہ اگر میں نے اسے کچھ کہہ دیا تو وہ آپ کو ہی مدد کے لیے بلائے گا۔۔۔یہ کہتے کہتے پپو سنیارہ چپ کرگیا۔۔
اس پر چپ سائیں نے کہاکہ حق ہو۔۔۔ بھائی پپو مجھے افسوس ہوا کہ وہ جیراڈانگری آپ کے مقابلے پر کھڑا ہوگیا ہے۔۔ اورآفرین ہے آپ پر آپ طاقتور ہونے کے باوجود اسے کچھ نہیں کہہ رہے اور خاموش ہیں۔۔ خیر۔۔ چوپال کے دوستو میں پپو سنیارے اور جیرے ڈانگری کا مسئلہ سمجھ گیا ہوں۔۔۔ دراصل ایک دور تھا جب۔۔ جیلے کو کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔ وہ پپو سنیارے کی ضمانت کی وجہ سے کاروبار میں لین دین کرتا اور پھر وقت بدلتا گیا اورا س کے گھر میں بھی کچھ فراوانی ہونے لگی۔۔۔ خیر۔۔ دوستو! اصل بات یہ ہے کہ جس پر احسان کرووہ نسلی ہونا چاہئے اور یہ نہ ہو کہ وقت گزرنے کے ساتھ وہ آپ کا ہی حریف بن جائے۔۔۔چپ سائیں چپ کرگئے اور کہا۔۔ دوستو روزمرہ کی مثال کے ساتھ اگر ملک پر بھی نظر دوڑائیں تو کچھ ایسا ہی ہے۔۔ہماری افواج اور حکمران سب بحرانوں سے ”نمٹ“ رہے ہیں۔ ہمارے عوام ابھی ان مسائل سے بے خبر ہے۔۔بالکل اسی طرح جو بات پپو سنیارے کے علم میں ہے وہ اس کا خاندان نہیں جانتا کہ اس نے جیلے ڈانگری پر کتنی ”مہربانیاں“ کیں لیکن۔۔ اب وہ پپو سنیارے کو ہی آنکھیں دکھار ہا ہے۔۔۔
صاحبو!پپو سنیارے کی طرح اس معاشرے میں بہت سے لوگ ہیں جو طاقت اور اختیار کے باوجود انتہائی خاموشی سے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں اور کس کا ایک تنکے کا بھی نقصان نہیں کرتے۔۔۔ لیکن اس کے بدلے میں جیلے ڈانگری کی طرح کے بہت سے لوگ ہیں۔۔ جو وقت گزار کر جب تھوڑے مضبوط ہوجاتے ہیں تو اپنے ہی محسنوں کے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ دوستو!انسان کی زندگی میں رشتے اور تعلقات ایک بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ وہ دھاگے ہیں جو انسان کو دوسروں سے جوڑتے ہیں اور زندگی کو خوبصورت بناتے ہیں۔ چاہے وہ خاندانی رشتہ ہو، دوستی ہو یا محبت، ہر تعلق میں ایک خاص کشش اور اہمیت ہوتی ہے جو انسان کو سکون، خوشی اور احساسِ محبت سے بھر دیتی ہے۔
رشتوں کی خوبصورتی خلوص، محبت اور اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب ہم اپنے رشتوں میں سچائی، وفاداری اور مخلصی کو جگہ دیتے ہیں، تو وہ تعلقات مضبوط ہو جاتے ہیں۔ محبت اور احترام کی بنیاد پر قائم تعلقات انسان کے دل کو خوشی اور اطمینان دیتے ہیں۔ ایسے رشتے جو فقط فائدے یا خودغرضی کی بنیاد پر ہوں، عموماً کمزور اور ٹوٹنے والے ہوتے ہیں۔
انسانی تعلقات صرف خوشیوں کے لمحات میں ہی اہم نہیں ہوتے بلکہ مشکل وقت میں بھی یہ ہمارا سہارا بنتے ہیں۔ جب زندگی میں مسائل کا سامنا ہو تو انہی تعلقات سے ہم ہمت اور حوصلہ لیتے ہیں اور اپنے دکھ بانٹ کر راحت محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے رشتے صرف بندھن نہیں بلکہ ایک دوسرے کی مدد اور ہمدردی کا ذریعہ بھی ہوتے ہیں۔
صاحبو!رشتوں کی خوبصورتی برقرار رکھنے کے لیے ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے، سننے اور برداشت کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک دوسرے کی کمزور ی سے فائدہ اٹھانے کا نام نہیں بلکہ ایک دوسرے کی جڑیں مضبوط کرنے کا نام ہے۔ رشتوں میں غلط فہمیاں اور اختلافات ہوتے رہتے ہیں، مگر اگر ہم محبت اور احترام کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے تو ہی بہتر ہے۔ چھوٹے موٹے اختلافات پر غرور، نفرت یا الزام تراشی رشتوں کو خراب کرتی ہے، اس لیے سمجھداری اور تحمل کا مظاہرہ کرنا بہت ضروری ہے۔
آج کے جدید دور میں جہاں ہر چیز تیز رفتار اور خودغرضی کی بنیاد پر ہے، وہاں رشتوں کی قدر کرنا اور انہیں سنبھالنا بہت اہم ہو گیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رشتوں کو وقت دیں، اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر اپنے عزیزوں کے ساتھ گزاریں، اور ان کے جذبات کو سمجھیں۔پر یہ بھی بہت غلط بات ہے کہ جہاں سے کھایا جائے وہی پر”بدمعاشی“ دکھائی جائے۔۔وہاں دھونس دکھائی جائے کہ جاو¿ جو مرضی کرلو۔۔۔صاحبو۔۔۔ یہ حقیقی زندگی ہے اور یہاں پر فلموں اور ڈراموں والی باتیں نہیں ہوتی کہ ”مافیا ڈان“ جس بچے کو پالتا ہے۔۔ اس کو کھلاتا، پلاتا ہے۔۔اس کو اپنا بازو بناکر مضبوط بناتا ہے۔۔پھر وہی۔۔۔ ”دست راست“۔۔مافیا ڈان کے خاتمے کا باعث بننے کے لیے سرگرداں ہوجاتا ہے۔۔ خیر دوستو۔۔۔پپو سنیارے اور جیلے ڈانگری کا مسئلہ اسی صورت حل ہوگا جب جیلا ڈانگری۔۔۔ دوسروں کی باتوں میں آکر پپو سنیارے کے خلاف کھڑا نہیں ہوگا ورنہ ہر صورت میں نقصان تو جیلے ڈانگری کا ہوگا کیونکہ ہمارے لیے تو پپو سنیارے کا کردار اور زندگی اہم ہے۔۔دوستو! آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ رشتے اور تعلقات ہی انسان کی زندگی کو خوبصورت اور معنی خیز بناتے ہیں۔۔باقی رہے نام اللہ کا۔۔۔!

مزیدخبریں