پاکستان....خطرات اور مواقع پہلو بہ پہلو....!

09:04 AM, 18 Oct, 2025

پاکستان ان دنوں اندرونِ ملک ہی نہیں بلکہ اپنی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر جس طرح کی صورتحال سے دوچار ہے وہ اگرچہ انتہائی نازک اور پُر خطر ہے لیکن اس میں پاکستان کے لئے خطرات کے ساتھ آگے بڑھنے اور اپنے وجود کا بھرپور احساس دلانے کے مواقع بھی موجود ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کا اس وقت اپنی بقا، ملکی سرحدوں کے دفاع، اپنے قومی وجود کے تحفظ اور قوموں کی برادری میں اپنے مقام اور مرتبے کو قائم رکھنے کی جنگ لڑنا پڑ رہی ہے۔ ایک طرف بھارت جو قیامِ پاکستان کے وقت سے پاکستان کے ساتھ دشمنی پالے ہوئے اور پاکستان کے وجود کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے چلا آ رہا ہے، وہ رواں سال مئی کے پہلے عشرے کے دوران پاکستان کے خلاف بپا کئے اپنے ”آپریشن سندور “میں بُری طرح پٹنے اور ناکامی کا شکار ہونے کے باوجود دوبارہ پاکستان پر حملہ آور ہونے کی دھمکیاں ہی نہیں دیتا رہتاہے بلکہ اس کے لئے کئی طرح کے حیلے بہانے تراشنے کی تدابیر بھی کرتا رہتا ہے۔ بھارت کا گودی میڈیا بھی پاکستان کے خلاف منفی اور جھوٹا پراپیگنڈا کرنے میں ساری حدیں پھلانگے ہوئے ہے۔ بھارت کے فوجی کمانڈر اس کوشش میں ہیں کہ انہیں کوئی ایسا بہانہ ملے کہ وہ پاکستان کے خلاف مس ایڈوینچر کر سکیں جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کے دفاعی نظام کو نقصان پہنچا سکیں یا اُس کے کوئی طیارے وغیرہ گرا سکیں اور اس طرح دنیا کے سامنے اپنی دفاعی صلاحیتوں کا ثبوت پیش کرنے کے علاوہ اپنی اُس خفت اور شرمندگی کو بھی مٹا سکیں جس کا اُنہیں مئی کے پہلے عشرے کے دوران پاکستان کے خلاف ”آپریشن سندور“ جو اُن کے لئے آپریشن تندور ثابت ہوا تھا کے دوران سامنا کرنا پڑا تھا۔
بھارت کے ناپاک عزائم اپنی جگہ ، ہماری حکومت اور ہماری عسکری قیادت ان سے بخوبی آگاہ ہے ۔ بھارت سمیت ساری دنیا کو ہماری دفاعی صلاحیتوں کا اچھی طرح اندازہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف کوئی براہِ راست جارحانہ اقدام کرنے کی بجائے ایک اور محاذ پر زیادہ سرگرم اور فعال ہو گیا ہے۔ یہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں اور باغیوں کی حمایت اور مدد میں اضافے کے ساتھ افغانستان کی طالبان رجیم کو پاکستان کے خلاف جارہانہ اقدام پر اُکسانا اور تیار کرنا ہے۔ یقینا یہ کوئی نئی بات نہیں کہ بھارت کب سے 
تحریکِ طالبان ِ پاکستان کے دہشت گردوں اور فتنہ الہندوستان کے BLA کے باغیوں کی سرپرستی ، حمایت اور مالی وسائل سے مدد کر رہا ہے۔ بھارت نے اب اُن میں اضافہ ہی نہیں کر دیا ہے بلکہ افغانستان کی طالبان رجیم کو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کو منظم کرنے کے ساتھ پاکستان کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنانے پر بھی اُکسانے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ افغان طالبان رجیم جو پاکستان کے باربار کے مطالبات اور اعتراضات کے باوجود تحریکِ طالبانِ پاکستان کے فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی سرپرستی اور انہیں پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے اپنی سرزمین اور اپنی چوکیاں استعمال کرنے سے باز نہیں آ رہی تھی اب اُس نے خود آگے بڑھ کر پاکستان کے خلاف جارحانہ کارروائیاں کرنے اور سرحد کے اندر پاکستان کے کئی مقامات پر حملہ آور ہونے کے اقدامات کیے ہیں۔اس کے جواب میں پچھلے ایک آدھ ہفتے کے دوران پاک افغان سرحد پر اور افغانستان کے اندر مختلف مقامات پر یہاں تک کہ کابل اور قندھار جیسے اُن کے مرکزی شہروں اور کچھ دوسرے اہم فوجی مقامات اور دہشت گردوں کو تربیت دینے کے مراکز کو پاکستان کی مسلح افواج نے جس طرح نشانہ بنایا ہے ، اس سے افغانستان کی طالبان رجیم کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ یقینا افغان طالبان رجیم کا جہاں بڑی تعداد میں جانی نقصان ہوا ہے وہاں اُن کے فوجی مراکز اور دہشت گردوں کو تربیت دینے والے کیمپ بری طرح تباہی اور بربادی کا نشانہ بنے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بدھ کی شام کو افغانستان کی طالبان رجیم کی طرف سے قطر کی حکومت کی وساطت سے سیز فائر کی اپیل سامنے آ گئی۔ پاکستان اور افغانستان کی طالبان رجیم کے درمیان 48 گھنٹوں کے لئے سیز فائر ہو گئی جو آج جمعہ کے دن (جب یہ سطور لکھی جا رہی ہےں) شام 6 بجے تک نافذ العمل ہے۔ اس کے بعد آگے کیا ہوتا ہے افغان طالبان دوبارہ اپنی حرکتوں اور شرارتوں پر آ جاتے ہیں اس کا جلد ہی پتہ چل جائے گا لیکن ایک بات طے نظر آتی ہے کہ پاکستان افغان طالبان رجیم کو کسی طرح کی رعائت یا چھوٹ دینے کے لئے قطعاً تیار نظر نہیں آ رہا اور افغانستان اور افغان طالبان جن پر پاکستان کی حکومت ، پاکستان کی مسلح افواج اور پاکستان کی عوام کے بے پناہ احسانات ہیں اُن سے اگلے پچھلے سارے حسابات اور بدلے چکانے کے لئے کمر بستہ ہو چکا ہے۔ 
پاکستان کے لئے اس میں بلا شبہ مواقع ہیں کہ ایک طرف تحریکِ طالبانِ پاکستان کے فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں اور BLA سے تعلق رکھنے والے فتنہ الہندوستان کے باغیوں اور علیحدگی پسندوں کا تدارک ہو سکے گا کہ ان کے پُشت پناہ، سرپرست اور مدد گار افغان طالبان رجیم کو اپنے لالے پڑیں گے تو اس کے ساتھ افغان طالبان رجیم اور بھارت کا گٹھ جوڑ اور پاکستان کو زک پہنچانے کے ناپاک عزائم بھی خاک میں مل جائیں گے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ افغان طالبان رجیم، تحریکِ طالبانِ پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی کا بھارت کی سرپرستی میں کب سے چلا آنے والا ٹنٹا ان شاءاللہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا۔
 اندرونِ ملک صورتحال کا جائزہ لیں تو کہا جاسکتا ہے کہ تحریکِ انصاف نے خیبر پختونخوا میں سہیل آفریدی کو وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز کر کے پاکستان کی وفاقی حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کرنے کی کوشش کی ہے۔ یقینا اس کے منفی اثرات سامنے آئیں گے لیکن وفاقی حکومت کے جوعزائم اس وقت تک سامنے آ رہے ہیں اور فوج کے ترجمان جنرل احمد شریف نے پشاور کی پریس کانفرنس میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے اُن سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحریکِ انصاف کی قیادت کو کھل کھیلنے اور قومی مفاد ات کو نقصان پہنچانے کے مواقع نہیں مل سکیں گے۔ اسی طرح وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت نے تحریکِ لبیک پاکستان سے جس طرح نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے اور اُس کے قائدین کے خلاف قتل و غارت گری کے جو مقدمات قائم کئے ہیں، اُن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت واقعی ماضی کی طرح کسی طرح کی نرمی ، کمزوری یا مصلحتوں سے کام لےنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ یقینا ایسا ہونا چاہیے ۔ اس سے حکومت کی رِٹ قائم ہو گی اور اس کے وقار میں اضافہ ہو گا تو آئندہ کے لئے کسی کو اس طرح پُر تشدد احتجاج کرنے اور ملک و قوم کو یرغمال بنانے کی جرا¿ت نہیں ہو سکے گی۔ یہاں اس امر کا ذکر بھی کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کو عالمِ اسلام میں اور بیرونی دنیا میں اس وقت جو وقار ، عزت اور مقام و مرتبہ حاصل ہے وہ ماضی قریب میں کم ہی پاکستان کو حاصل رہا ہے۔ امریکہ کا صدر ٹرمپ بار بار پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادتوں کی تعریف و توصیف کرنے میں رطب اللسان ہے تو چین کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات پہلے کے مقابلے میں زیادہ مستحکم نظر آتے ہیں۔ یقینا ان سے پاکستان کے لئے اچھے مواقع کی نشاندہی ہوتی ہے۔

مزیدخبریں