چاپلوسی یا ڈپلومیسی

09:02 AM, 18 Oct, 2025


جب سے وزیراعظم شہباز شریف نے شرم الشیخ میں امریکی صدر ٹرمپ کی تعریف پر مبنی تقریر کی ہے، ملک کے مختلف طبقوں میں ایک طوفان آیا ہوا ہے۔ کوئی اس طرز عمل کو چاپلوسی پر محمول کر رہا ہے تو کوئی اس تعریف کو بے محل اور بے جا قرار دے رہا ہے۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اجلاس غزہ کے معاملے پر تھا تو بات بھی اسی پر ہونی چاہیے تھی، اس تقریر کی چنداں ضرورت نہ تھی۔ کچھ کے نزدیک ایک ملک کے سربراہ کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی دوسرے ملک کے سربراہ کو بھری محفل میں سلیوٹ کرے، بعض کہتے ہیں ٹرمپ کو دوسری بارنوبل انعام کے لیے نامزد کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں تھا۔ کئی لوگ اسے پاکستان کا وقار مجروح ہونے سے تعبیر کر رہے ہیں۔
اعتراضات کرنے والے اپنی اپنی رائے رکھنے میں آزاد ہیں لیکن انھیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ شہباز شریف تقریر کرنے کے لیے خود پوڈیم پر نہیں آئے تھے بلکہ امریکی صدر نے انھیں باقاعدہ دعوت دی تھی۔ ایسی صورت میں وزیر اعظم کے پاس تقریر کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا چنانچہ انھوں نے ٹرمپ کی دعوت قبول کرتے ہوئے نہ صرف اپنے خیالات کا اظہار کیا بلکہ اس موقع کا بھر پور فائدہ بھی اٹھایا۔ انھوں نے صرف وہی بات نہیں کی جو ٹرمپ سننا چاہتے تھے بلکہ بہت خوبصورتی سے یہ بھی بتا دیا کہ ہم ایک جوہری طاقت ہیں اور ہم سے ٹکرانے کی غلطی کرنے والے کا حشر بھارت سے بھی بدتر ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ وہی پاکستان ہے جسے کبھی جوہری طاقت بننے سے روکنے کے لیے اسی امریکہ کے ہاتھوں اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور آج اسی کے صدر کے ساتھ کھڑا ہو کر ہمارا وزیر اعظم دھڑلے سے کہہ رہا ہے کہ ہم ایک جوہری طاقت ہیں۔
شہباز شریف کی اس تقریر سے یقینا پاکستان کا وقار بلند ہی ہوا ہے کہ ایک عالمی فورم جس پر دنیا کے بااثر ترین رہنما جمع تھے، وہاں اجلاس کی میزبانی کرنے والی شخصیت کے علاوہ اگر کسی کو بات کرنے کا موقع ملا تو وہ صرف پاکستان کے وزیر اعظم تھے۔ دوسرے لفظوں میں اس تقریر سے پاکستان کا کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ فائدہ ہی ہوا ہے۔ 
حقیقت یہ ہے کہ سفارت کاری اور خارجہ پالیسی کے اعتبار سے موجودہ دور شاید پاکستان کی تاریخ کا بہترین دور ہے۔ پاکستان کو عالمی سطح پر اس سے پہلے کبھی اتنی عزت اور پذیرائی نہیں ملی جتنی آج کل مل رہی ہے۔ اس کی وجہ یقینا معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص میں ہماری شاندار فتح ہے جس کا سہرا ہماری بہادر مسلح افواج اور ان کی قیادت کے سربندھتا ہے اور اس فتح کو موجودہ سیاسی قیادت بہت عمدگی کے ساتھ پاکستان کے لیے "کیش" کرا رہی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا کا ہر ملک پاکستان پر صدقے واری جا رہا ہے۔
معرکہ حق کے بعد پاکستان کی سفارت کاری میں تیزی آئی ہے۔ پاکستانی قیادت نے اس تاریخ ساز واقعے کے بعد سے اب تک جتنے بھی غیر ملکی دورے کیے ہیں، ان میں اسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ہے۔ 10 مئی کے بعد سے آج تک پانچ ماہ کے دوران وزیراعظم سمیت پاکستان کے مختلف رہنماو¿ں نے دنیا کے مختلف ملکوں کے دورے کیے ہیں اور انہیں ہر جگہ ایسی پذیرائی ملی جس کی اس سے پہلے ملکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ایران، ترکی، چین، سعودی عرب، امریکہ، ملائیشیا، آذربائیجان اور قطر سمیت پاکستان کے حکمران جہاں جہاں بھی گئے میزبان ملکوں نے ان کے لیے دیدہ و دل فرش راہ کیے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا تو مزاج بھی دوستانہ ہے۔ وہ کسی بھی فورم پر جائیں تو پہلی ہی ملاقات میں لوگوں میں یوں گھل مل جاتے ہیں جیسے بہت عرصے سے انھیں جانتے ہوں۔ انہوں نے عالمی رہنماو¿ں کے ساتھ میل ملاقاتوں میں جس قسم کا دوستانہ اور بے تکلفانہ انداز اپنایا ہے اس کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ ہمارے ماضی کے وزرائے اعظم عالمی رہنماو¿ں سے ہمیشہ ایک فاصلہ رکھتے رہے ہیں لیکن شہباز شریف پہلے قومی رہنما ہیں جو ہر ہم منصب کے ساتھ ایسی گرم جوشی اور بے تکلفی سے ملتے ہیں بہت عرصے بعد دو بچھڑے ہوئے ملے ہوں۔ 
شہباز شریف کی امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ شاید یہ مجموعی طور پر تیسری ملاقات تھی اور وہ بھی صرف گزشتہ ایک ڈیڑھ ماہ کے دوران لیکن ایسا لگ رہا تھا کہ یہ دونوں بچپن کے دوست ہیں۔ دونوں رہنماو¿ں کی پہلی ملاقات ستمبر میں اس وقت ہوئی جب وہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود تھے۔ اس موقع پر عرب رہنماو¿ں کے ہمراہ شہباز شرف جب صدر ٹرمپ سے ملے تو اس پہلی ہی ملاقات میں انھیں اپنا گرویدہ کر لیا۔ اس موقع پر نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار بھی ان کے ساتھ تھے۔ شہبازشریف کی امریکی صدر سے دوسری ملاقات امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ان کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاو¿س میں ہوئی جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اس ملاقات سے قبل امریکی صدر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج دو عظیم رہنما مجھ سے ملنے آ رہے ہیں۔ ملاقات کے دوران بھی وزیر اعظم امریکی صدر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بہت بے تکلفی سے قہقہے لگاتے نظر آئے جبکہ تیسری ملاقات یہ تھی جو مصر کے شہر شرم الشیخ میں اسرائیل اور غزہ کے درمیان امن معاہدے کے موقع پر ہوئی جہاں ٹرمپ نے سٹیج پر اگر کسی کو بولنے کی دعوت دی تو وہ شہباز شریف ہی تھے۔
یار لوگوں کا وزیر اعظم کے انداز گفتگو کو چاپلوسی کہنا ان کے جذبات کی تسکین کا باعث تو ہو سکتا ہے لیکن اسے کسی طور بھی ایک بالغ رائے نہیں کہا جا سکتا۔ یہ چاپلوسی نہیں ڈپلومیسی ہے۔ اس ڈپلومیسی کو چاپلوسی کہنے والوں سے سوال ہے کہ جو عالمی رہنما ہمارے وزیر اعظم یا آرمی چیف کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے کیا وہ بھی چاپلوسی کر رہے ہوتے ہیں یا سفارتی آداب نبھا رہے ہوتے ہیں۔ ایسی تعریفیں کرنے والوں میں خود ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں جو ایک سے زائد بار وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کر تعریفیں کر چکے ہیں بلکہ پاکستان کے ہاتھوں بھارت کے سات جہاز گرانے کا اس تسلسل سے ذکر کرتے ہیں کہ لوگوں نے انھیں پاکستان کا ترجمان کہنا شروع کر دیا ہے۔
پاکستان کا کوئی بھی وزیر اعظم پاکستان کا چہرہ ہوتا ہے۔ اسے ملنے والی عزت دراصل پاکستان ہی کو مل رہی ہوتی ہے۔ اگر ایک وزیر اعظم "اینگری ینگ مین" بن کر پاکستان کی عزت و توقیر میں کمی کا باعث بنے تو اس سے وہ وزیر اعظم بدرجہا بہتر ہے جو چاپلوسی ہی سے سہی، اچھی ڈپلومیسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملکی وقار میں اضافے کا باعث بنے۔

مزیدخبریں