ترقی کا راز! سنگاپور سے لاہور تک

09:01 AM, 18 Oct, 2025

دنیا کی تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ ترقی کا سفر صرف قدرتی وسائل، سونے چاندی یا بڑے بجٹ سے طے نہیں ہوتا ترقی کے پیچھے اصل قوت حوصلہ افزائی (Motivation)، وژنری قیادت اور محنتی انسانوں کا جذبہ ہوتا ہے۔ جن اقوام نے اپنے لوگوں کو عزت دی، ان کی کاوشوں کو سراہا اور انہیں مثبت انداز میں متحرک کیا، وہ وسائل کی کمی کے باوجود دنیا کے نقشے پر نمایاں مقام حاصل کر گئیں۔چند دن پہلے مجھے بھی اسی حقیقت کا عملی مظاہرہ دیکھنے کا موقع ملا جب لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے چیف ایگزیکٹو رمضان بٹ نے اقبال ٹاو¿ن سب ڈویژن لاہور کے ایس ڈی او اویس علی میمن کو ان کی شاندار کارکردگی کے اعتراف میں بیسٹ پرفارمنس ایوارڈ 2024-25 سے نوازا۔ یہ تقریب علامہ اقبال ٹاو¿ن لاہور میں منعقد ہوئی جس میں جی ایم آپریشنز لیسکو لاہور اعجاز علی، سی ایس ڈی لیسکو لاہور عباس علی اور منیجر آپریشنز سنٹرل سرکل جمشید زمان بھی شریک تھے۔ یہ ایوارڈ صرف ایک افسر کو نہیں دیا گیا بلکہ یہ پیغام پورے ادارے اور درحقیقت پورے نظام کو دیا گیا کہ محنت کی قدر کی جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اویس علی میمن کو یہ اعزاز دوسری بار ملا پہلی بار 2021-22 میں والٹن سب ڈویژن لاہور میں ان کی بہترین کارکردگی پر بھی انہیں بیسٹ پرفارمنس ایوارڈ دیا گیا تھا۔ یہ تسلسل اس بات کا ثبوت ہے کہ محنت اور جذبے کو آخرکار تسلیم کیا جاتا ہے۔اسی موقع پر میرے ذہن میں سنگا پور کا ترقی کا سفر تازہ ہو گیا ایک ایسا ملک جو 1965 میں آزادی کے بعد نہ صرف پسماندہ تھا بلکہ دنیا کے کئی ماہرین کے نزدیک ایک ناکام ریاست بننے جا رہا تھا۔ قدرتی وسائل تھے زرعی زمین نہ کوئی مضبوط معیشت۔ لیکن اس ملک نے اپنے عوام کے اندر وہ چنگاری روشن کی جو آج اسے دنیا کی مضبوط ترین معیشتوں میں شامل کر چکی ہے۔ سنگاپور کے بانی وزیر اعظم لی کوان یو نے اپنی قوم کو ایک سادہ سا مگر مضبوط پیغام دیا: اگر ہمارے پاس وسائل نہیں تو ہم اپنی محنت، نظم و ضبط اور ایمانداری کے ذریعے دنیا کو دکھائیں گے کہ ترقی کے لیے جذبہ کافی ہے۔ یہی پیغام عوام کا محرک بنا۔ لوگوں کو بتایا گیا کہ ہر شہری کا کردار اہم ہے، ریاست اس کی کارکردگی کو پہچانے گی اور بہترین کام کرنے والے کو عزت اور انعام ملے گا۔ یہی فلسفہ آج سنگاپور کو ترقی کا استعارہ بنا چکا ہے۔اگر ہم سنگاپور کے ماڈل کو غور سے دیکھیں تو ایک سادہ سا فارمولا سامنے آتا ہے: واضح وژن اور قیادت کا اعتماد، عوام میں حوصلہ افزائی اور کارکردگی کا اعتراف، میرٹ پر مبنی نظام، نظم و ضبط اور ایمانداری۔ یہی چار عناصر کسی بھی ادارے یا قوم کو پسماندگی سے نکال کر ترقی کی شاہراہ پر ڈال سکتے ہیں۔ لیسکو میں اویس علی میمن کو دیا گیا اعزاز دراصل اسی فلسفے کا اظہار ہے۔ ادارے جب اپنے بہترین لوگوں کو سراہتے ہیں تو وہ نہ صرف ایک فرد کو بلکہ درجنوں دوسروں کو بھی متحرک کر دیتے ہیں۔حوصلہ افزائی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ جذبے کو جنم دیتی ہے، جذبہ کارکردگی کو بہتر بناتا ہے، اور بہتر کارکردگی ادارے کو ترقی کی جانب لے جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا مثبت عمل ہے جو کسی بھی ادارے کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ جب کسی محنتی افسر کو ایوارڈ ملتا ہے تو یہ اس کے ساتھیوں کے لیے ایک خاموش پیغام ہوتا ہے کہ محنت رنگ لاتی ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو سنگاپور میں عام مزدور سے لے کر اعلیٰ ترین افسر تک پایا گیا۔ وہاں ریاست نے صرف پالیسیاں نہیں بنائیں، بلکہ عوام کے دلوں میں اعتماد جگایا۔ آج سنگاپور عالمی تجارتی مرکز ہے، اس کا تعلیمی نظام مثالی سمجھا جاتا ہے، انفراسٹرکچر جدید ہے، اور کرپشن نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ سب صرف وسائل سے ممکن نہیں ہوا بلکہ قوم کو متحرک کرنے سے ممکن ہوا۔ پاکستان کے ادارے اگر اس حقیقت کو سمجھ لیں تو ترقی کا سفر مشکل نہیں۔ لیسکو جیسے سرکاری اداروں کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ اپنے اندر سے مثبت تبدیلی لائیں۔ اویس علی میمن جیسے افسران کو سراہنا صرف ایک اعزاز نہیں بلکہ ایک نئے کلچر کی بنیاد ہے۔ اگر اس کلچر کو پھیلایا جائے، ہر سطح پر کارکردگی کو سراہا جائے اور میرٹ کو فوقیت دی جائے تو یہ ادارے اندر سے مضبوط ہو جائیں گے۔ جب ادارے مضبوط ہوتے ہیں تو قوم مضبوط ہوتی ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ سنگاپور نے اپنی جغرافیائی کمزوری کو اپنی سب سے بڑی طاقت بنایا۔ اسی طرح پاکستان کے ادارے اپنی ساختی کمزوریوں کو طاقت میں بدل سکتے ہیں بشرطیکہ وہ اپنی ٹیم کے اندر وہی جذبہ پیدا کریں جو ترقی یافتہ ممالک کی بنیاد ہے۔ ایوارڈز، تعریفیں اور تسلیم کرنا چھوٹے کام لگ سکتے ہیں مگر انہی چھوٹے کاموں سے بڑی تبدیلیاں جنم لیتی ہیں۔ آخر میں ایک سادہ سا پیغام: ترقی کے لیے سب سے بڑی طاقت وسائل نہیں بلکہ حوصلہ افزائی، اعتماد اور انسانی جذبہ ہے۔ لیسکو میں اویس علی میمن کو دیا گیا ایوارڈ اسی طاقت کی ایک خوبصورت مثال ہے ایک ایسا عمل جو اگر تسلسل سے جاری رہا تو اداروں کے ساتھ ساتھ ملک کا مستقبل بھی روشن ہو سکتا ہے۔ سنگاپور نے یہ کر دکھایا، لاہور بھی کر سکتا ہے۔

مزیدخبریں