قائد اعظم لائبریری لاہور کا نیا دور

09:20 AM, 17 Oct, 2025

جون ایلیا نے کہا تھا کہ 
تم جب آؤ گی تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے 
میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں 
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں 
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں 
بھلے وقتوں میں کتابیں ہماری تنہائی کی رفیق ہوا کرتی تھیں اور ہمارے رومانوی سفر کا سامان بھی۔ انھیں نوجوان بطور فیشن بھی ساتھ رکھ لیا کرتے تھے۔ کالج اور یونیورسٹی کے نوجوان کمرے میں کتابوں کو آرائشی حیثیت سے بھی دیواروں اور الماریوں میں جگہ دیتے تھے تا کہ معلوم ہو سکے کہ کسی پڑھے لکھے یا با ذوق شخص کا کمرا ہے۔ ہم نے ترقی یافتہ ممالک کی طرح مجموعی طور پر تو کتابوں سے کوئی تعلق تو قائم نہیں کیا تھا لیکن پھر بھی کوئی نہ کوئی جان پہچان بنی رہتی تھی۔ بس پھر ہم نے ڈیجیٹل دنیا میں کتابوں کے بغیر قدم رکھا اور آگے بڑھنا شروع کر دیا۔ لائبریریاں ویران ہونے لگیں۔ ہمارے تجزیہ نگار اور محقق کبھی غور فرمائیں کہ گزشتہ چند برسوں میں ترقی یافتہ ممالک میں کتاب پڑھنے والے افراد کی شرح میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔ در اصل قوموں کی ترقی کا راز کتابوں سے تعلق میں پوشیدہ ہے۔ جس معاشرے میں مطالعے کی عادت پروان چڑھتی ہے وہاں شعور اور ترقی کی راہیں بھی کھلتی ہیں۔
 سوشل میڈیائی خبروں کے ہجوم میں گھرے ہوئے ہونے کے باوجود ہمارے لیے خوش آئند بات یہ ہے کہ لاہور جیسے تاریخی اور ثقافتی شہر میں "قائداعظم لائبریری" کے منصوبے کے تحت دو سالہ جامع پروگرام کے ثمرات سامنے آنا شروع ہوئے ہیں جو نہ صرف ایک عمارت کی توسیع ہے بلکہ علم و ادب کے فروغ کا عہدِ نو ثابت ہو سکتا ہے۔
قائداعظم لائبریری مْلک ِ عزیز کی واحد لائبریری ہے جہاں جون2014ئ￿ میں لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کے لئے سولر سسٹم نصب کیا گیا تھا جس کے ذریعے اب لائبریری کے ہر شعبے میں بجلی ہمہ وقت دستیاب رہتی ہے۔ لائبریری کی انتخاب کتب کمیٹی اور ایگزیکٹو باڈی کی میٹنگ ہر ماہ باقاعدگی سے ہوتی ہے۔ یہ کمیٹی پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک سے بھی اہم کتب کی خریداری کے حوالے سے اپنی سفارشات پیش کرتی ہے۔ لائبریری محققین کی سہولت کے لئے بیرون ملک سے پی ایچ ڈی کے مقالہ جات خریدے جاتے ہیں۔ یہ تمام مقالہ جات ان پاکستانی و غیر ملکی محققین کے ہوتے ہیں جنھوں نے مختلف اہم موضوعات پر اپنی تحقیق پیش کی ہوتی ہے اور خاص بات یہ ہے کہ یہ مقالہ جات قائداعظم لائبریری کے سوا پاکستان میں کہیں بھی دستیاب نہیں ہوتے۔
قائداعظم لائبریری میں قارئین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر پہلے اس کی بلڈنگ میں توسیع کرتے ہوئے میں دو بڑے ہال’’ سر سید ہال اور مولوی عبدالحق ہال‘‘ تعمیر کئے گئے تھے جن کے لئے بعد میں نیا فرنیچر بھی منگوایا گیا تھا۔ اس میں درجنوں الماریاں، میز کرسیاں اور سٹڈی کیرل وغیرہ شامل ہیں۔ اب قارئین کو یکسوئی سے پڑھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ بعد ازاں لائبریری کو بہت سے پہلوؤں سے بہتر کیا گیا اور جدید طرز پر انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ کتب کی فراہمی اور بہتر ماحول کی تشکیل پر خاص توجہ دی گئی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل کاشف منظور صاحب نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر خاصے کم وقت میں بہت اہم اہداف کا حصول ممکن بنایا ہے۔ ان اہداف میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و مرمت شامل ہے وہیں نئی آسامیوں پر بھرتی، جدید سہولیات کی فراہمی اور عوامی خدمات کے معیار میں بہتری بھی شامل رہے ہیں۔ لائبریری کے لیے BS-16 اور BS-17 کی 15 آسامیوں کی منظوری، 72 ہزار نئی کتابوں کی خریداری اور بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ دراصل اس بات کا مظہر ہے کہ حکومتِ پنجاب علم دوست پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔
جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے لائبریری میں ڈیجیٹل انفارمیشن سینٹر کا قیام، کمپیوٹرائزڈ آرکائیو سسٹم، اور عوام کے لیے ای۔سروسز جیسے منصوبے یقیناً وقت کی ضرورت ہیں۔ نئی نسل کو اگر تحقیق، مطالعہ اور تخلیقی سوچ کی جانب راغب کرنا ہے تو لائبریریوں کو محض کتابوں کے ذخیرے سے آگے بڑھا کر سمارٹ نالج سینٹرز میں تبدیل کرنا ہوگا۔ قائداعظم لائبریری کا یہ منصوبہ اسی سمت ایک مثبت قدم ہے۔
یہ بھی خوش آئند امر ہے کہ منصوبے کے تحت عوامی سطح پر مختلف تقریبات، سیمینارز، ورکشاپس اور تعلیمی نشستوں کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ لائبریری صرف ایک کتب خانہ نہ رہے بلکہ علمی و فکری سرگرمیوں کا مرکز بن سکے۔ اس سے لاہور کی ادبی روایت کو ایک نئی روح ملے گی، اور نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے غیر ضروری شور سے ہٹ کر مطالعے کی دنیا میں واپس لانے میں مدد ملے گی۔
تاہم یہ سب ثمرات اْس وقت حقیقی کامیابی حاصل کیے جا سکتے ہیں جب اس منصوبے کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے اور اس کی نگرانی پیشہ ور ماہرین کے ہاتھوں میں ہو۔ پاکستان میں اکثر ایسے منصوبے نیت کے خلوص کے باوجود سیاسی تبدیلیوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اگر قائداعظم لائبریری کے اس منصوبے کو سنجیدگی، شفافیت اور تسلسل کے ساتھ مکمل کیا گیا تو یہ آنے والی نسلوں کے لیے علم کا خزانہ ثابت ہو گا۔
آخر میں، یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ کتابیں صرف معلومات کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ قوموں کی تہذیبی بقا کا ذریعہ بھی ہیں۔ قائداعظم لائبریری لاہور کی توسیع، دراصل ہماری علمی و فکری شناخت کو ازسرنو زندہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ایسی کوشش جس کی کامیابی میں ہمارا اجتماعی رویہ، حکومت کی نیت اور معاشرے کی علمی پیاس، تینوں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

مزیدخبریں