افغانستان، بھارت گٹھ جوڑ امن کیلئے خطرہ

09:18 AM, 17 Oct, 2025

خشک اور کھردری سر زمین پہ بسنے والے افغانی سر سبز زمین پہ آ کر بھی نہیں بدلے، بلکہ نمک حرامی کا تاج سجائے سنگین دشمنی پہ اتر آئے۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ افغانستان کی طرف سے پاکستان پر کیا جانے والا حالیہ حملہ ایک سرحدی جھڑپ نہیں بلکہ ایک گہری سازش کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ بزدلانہ حملہ اس وقت کیا گیا جب افغان وزیرِ خارجہ بھارت کے دورے پر موجود تھے، اور وہاں پاکستان مخالف بیانات کو مشترکہ اعلامیوں کی صورت میں پیش کیا جا رہا تھا۔ ایسے موقع پر جب پاکستان کا ازلی دشمن بھارت افغان قیادت کی میزبانی کر رہا ہے، اس طرح کا حملہ کسی طور بھی اتفاقیہ نہیں لگتا۔ یہ ایک منظم پیغام ہے جو خطے میں جاری طاقت کے کھیل کی نشاندہی کرتا ہے اور اس بات کی منادی کر رہا ہے کہ بھارت نا خود اچھا ہمسایہ ہے نا دوسروں کو اچھائی کرنے دے گا۔تاریخ کے تناظر میں افغانستان اور بھارت کے تعلقات پیچیدہ مگر پاکستان کے حوالے سے ہمیشہ یکجہت رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے مختلف ادوار میں پاکستان کو سفارتی اور دفاعی طور پر کمزور کرنے کے لیے مختلف حکمتِ عملیاں اور حربے اپنائے۔ تاہم اس بار صورتحال زیادہ خطرناک اس لیے ہے کہ یہ کھیل محض سرحدی تنازع نہیں، بلکہ ایک سیاسی اور نظریاتی مہم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔صورتحال تشویش ناک ہے خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ امریکہ کے انخلا کے بعد افغانستان میں اقتدار کے خلا کو چین، روس اور بھارت اپنے اپنے انداز میں پر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت کی حکمتِ عملی ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ وہ افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ کو پاکستان کے خلاف ایک دبائو کے آلے کے طور پر استعمال کرے اور بھارت نے اس زمین پہ بہت سے لوگ پال رکھے ہیں کسی نا کسی طرح در اندازی کرتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نے طالبان حکومت کے ساتھ اپنے سفارتی رابطے دوبارہ بحال کیے، اور انسانی ہمدردی کے نام پر سرمایہ کاری و تجارتی مفادات کو بنیاد بنا کر سیاسی اثر حاصل کیا، لیکن بھارت میں کچھ فہم رکھنے والے اس بھارتی مکاری کا مذاق بنا رہے ہیں اور خوف زدہ ہیں کہ افغانی ان کے سے ساتھ کل کلاں ایسا ہی کریں گے، لیکن مودی سرکار کو پاکستان دشمنی میں کچھ نظر نہیں آ رہا۔یہ عین اسی تناظر میں سمجھنا چاہیے کہ افغان سرحد پر ہونے والی کارروائی صرف ایک فوجی اقدام نہیں بلکہ بھارت اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تزویراتی روابط کا عملی مظہر ہے۔ جب افغان وزیرِ خارجہ بھارت میں موجود تھے اور دونوں ممالک پاکستان مخالف بیانات پر متفق ہو رہے تھے، تب پاکستان کے خلاف مسلح حملہ ایک منظم پیغام کے طور پر سامنے آیا۔یہ حملہ دراصل پاکستان کے داخلی استحکام کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے۔ ایسے وقت میں جب ملک معاشی دباو، سیاسی غیر یقینی اور عالمی مالیاتی اداروں کے شرائط کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، اس طرح کے حملے پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کی سازش ہیں۔ دشمن قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ پاکستان اپنے اندرونی چیلنجز میں ہی الجھ کر رہ جائے، تاکہ اس کی سفارتی اور علاقائی حیثیت مزید متاثر ہو۔یہ بھی قابلِ غور ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو ایک بار پھر دہشت گرد تنظیموں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر افغان حکومت نے اپنی سرزمین پر قابو نہ پایا تو اس کے نتائج پورے خطے کے لیے تباہ کن ہوں گے۔ افسوس کہ آج وہی خدشات سچ ثابت ہو رہے ہیں۔بھارت اس صورتحال کو بڑی مہارت سے اپنے مفاد میں استعمال کر رہا ہے۔ اس نے افغانستان میں انسانی امداد اور تجارت کے بہانے اپنے اثر و رسوخ کو گہرا کیا ہے۔ نئی دہلی جانتا ہے کہ اگر وہ کابل میں اثر رکھتا ہے تو وہ پاکستان پر دو طرفہ دبائو ڈال سکتا ہے ایک جانب سفارتی محاذ پر اور دوسری جانب سرحدی عدم استحکام کے ذریعے۔ بھارت اس پالیسی کے ذریعے پاکستان کو دفاعی، سفارتی اور معاشی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارتی میڈیا بھی اس بیانیے کو تقویت دے رہا ہے کہ افغانستان کی حکومت "خودمختارانہ فیصلے" کر رہی ہے، جبکہ درحقیقت پسِ پردہ سب کچھ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت ہو رہا ہے۔پاکستان نے جس طرح بھارت کے دانت سفارتی اور جنگی محاذ پہ کھٹے کیے ہیں اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ سپہ سالار فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں بھارت اور افغانستان کو اب بھی کو منہ کی کھانا پڑے گی۔ تاہم ایسے حالات میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف فوجی ردِعمل تک محدود نہ رہے بلکہ سفارتی سطح پر جارحانہ حکمتِ عملی کو تقویت دے۔ افغان قیادت کے سامنے یہ واضح کیا جانا چاہیے کہ سرحد پار حملے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ علاقائی امن کے لیے براہِ راست خطرہ بھی ہیں۔پاکستان کو اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور جنوبی ایشیائی تعاون تنظیم (SAARC) جیسے پلیٹ فارمز پر اس مسئلے کو موثر انداز میں اٹھانا چاہیے۔دوسری طرف، عوام کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ یہ لڑائی صرف سرحد پر نہیں لڑی جا رہی بلکہ یہ ایک بیانیے کی جنگ ہے۔ دشمن قوتیں پاکستان کے اندر اختلافات، سیاسی انتشار اور عدم اعتماد کو ہوا دے رہی ہیں۔ اس لیے قومی یکجہتی اس وقت سب سے بڑی ضرورت ہے۔یہ وقت جذبات کے بجائے حکمت اور تدبیر کا ہے۔ افغانستان کے اس عمل کو محض وقتی تنازع سمجھنے کی بجائے پاکستان کو اسے ایک بڑی علاقائی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھنا ہوگا۔ بھارت، امریکہ، چین اور روس سب اس خطے میں اپنے اپنے مفادات کے تحت سرگرم ہیں۔ اگر پاکستان نے ہوشیاری سے قدم نہ اٹھایا تو آنے والا وقت مزید 
پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ افغانی دعوی کرتے ہیں کہ ان کی تاریخ پانچ ہزار سال پرانی ہے اور ان کا کلچر سب سے منفرد ہے ، لیکن نمک حرامیوں کو اتہاس اٹھا کر دیکھنا چاہیے کہ انڈس ویلی تہذیب ، آریائی اقوام، فارسی سلطنت ہو یا سکندر اعظم کا حملہ ، موریہ اور یونانی سلطنتوں کی پیش قدمی ہو یا کوشانی سلطنت کا وار سلسلہ یہاں نہیں رکتا ہن قبائل اور ایرانی حملے، غزنوی، غوری، منگول، تیمور ، مغل، برطانوی، سوویت سب نے اس زمین پہ راج کیا حملہ آور ہوئے اور آگے کی جانب سے پیش قدمی کی اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ناصرف نمک حرام بلکہ بزدل قوم ہے۔ لہذا، اس وقت ہمیں اپنے قومی مفادات، سفارتی مہارت اور دفاعی صلاحیت کو یکجا کر کے دشمن کے ہر وار کا جواب دینا ہوگا۔ یہ جنگ صرف بندوقوں سے نہیں، بیانیوں اور سفارتی محاذوں پر بھی لڑی جا رہی ہے اور پاکستان کو دونوں میدانوں میں ثابت قدم رہنا ہو گا۔

مزیدخبریں