کہیں کچھ بھی نہیں بدلا!

09:24 AM, 17 Nov, 2025

قارئین کرام! تقریباً دو ماہ کی طویل غیر حاضری کے بعد آپ کی خدمت میں ایک بار پھر حاضر ہوں۔ ویسے تو اس بات کا سو فیصد امکان ہے کہ اس وقفے میں سوائے ’’نئی بات‘‘ کے ادارتی صفحے کے انچارج اور ہمارے دوست زاہد رفیق صاحب کے شاید ہی کسی نے میری اس غیر حاضری کو محسوس کیا ہو۔ کیونکہ آجکل عام طور پر یہی خیال کیا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا جیسے رنگ برنگے آپشن کی موجودگی میں اخبار اور بالخصوص اس میں چھپے کالم پڑھنے والاکوئی انتہائی درجے کا فارغ یا ’’بدذوق‘‘ شخص ہی ہو سکتا ہے۔ اس بات میں اس لیے بھی کچھ وزن ہے کیوں کہ ایک سروے کے مطابق پچیس کروڑ آبادی کے ہمارے اس ملک میں تقریباً سترہ کروڑ کے لگ بھگ موبائل کنکشن ہیں۔ گویا بہت چھوٹے بچوں، بزرگوں اور چٹے اَن پڑھوں کو چھوڑ کے اب ہر ایک شخص کے پاس اپنا موبائل فون ہے جس پر ہر کوئی اپنے ذوق و شوق کے مطابق مصروف ہے۔ میرے خیال میں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہمارے ایسے ملک میں جہاں ایک عام شخص کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل تر ہوتا جا رہا ہے وہاں سستے داموں دستیاب انٹر نیٹ پیکیج کی سہولت سے موبائل فون پر زیادہ تر لوگ کیا دیکھتے اور سیکھتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود میرا ماننا ہے کہ پرانے دور کی آخری یادگار کے طور پر اس گئے گزرے دور میں بھی چند ایسے نیم یا فُل بابے اور بابیاںموجود ہیں جنہیں الف سے ی تک مکمل اخبار پڑھنے کا ٹھرک ہے۔ بس یہی ایک خوش فہمی ہے جو میرے جیسے سستی کے ماروںکو بھی بغیرکسی لالچ کے لکھنے پر آمادہ کیے رکھتی ہے۔ جہاں تک یہ سوال ہے کہ ’’میں نے اتنا عرصہ کالم کیوں نہیں لکھا؟‘‘ تو اس کا اصل اور دو ٹوک جواب تو یہی ہے کہ ’’بس ایویں‘‘۔ لیکن اگر اس کا جواب ملک کا کوئی نام نہاد اور خود ساختہ سینئر کالم نگار یعنی ’’ٹہکا پہلوان‘‘ بن کر دیا جائے تو اس کے لیے بے شمار سنسی خیز اور مزیدار فرضی کہانیاں گھڑی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر ’’میں اس عرصے میں ملک کی اہم ترین حکومتی شخصیت کی درخواست پر اُن کے ہمراہ چند قومی اور بین الاقوامی امورکے حوالے سے غیر ملکی وفود کے ساتھ انتہائی ضروری میٹنگز میں شریک تھا۔ یا پھر یہ کہ ان دنوں میں بطور ایک سینئر کالم نگار، شاعر اور ادیب کے مختلف ممالک کی یونیورسٹیوںکی دعوت پر اہم سیمینارز میں شرکت کے لیے ان ملکوں کے دورے پر تھا‘‘۔ اسی طرح کچھ دن سوشل میڈیا پر ’’کھپ‘‘ ڈالنے کے لیے دوسری شادی کے بعد ہنی مون پر یورپ کے ٹرپ کا شوشا بھی چھوڑا جا سکتا ہے۔ مگر عمر کے اس حصے میں اتنا بڑا اور لذیذ جھوٹ بول کر ایک تو میں کسی کو حسد میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا دوسرا مجھے بخوبی علم ہے کہ میں کون سا سینئر صحافی چودھری غلام حسین ہوں جو لوگ میری اس گپ پر یقین کر لیں گے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ میں آپ سے بالکل سچ کہوں اور سچ یہی ہے کہ مذکورہ بالا فرضی کہانیوں میں سے کوئی ایک بھی سچی کہانی نہیں ہے۔ ہاں البتہ اس عرصے میں میری لاہور سے اسلام آباد ٹرانسفر کے بعد نئے شہر میں رہائش کی تلاش کے لیے ابتدائی دو تین ہفتے واقعی ایسی مصروفیت رہی ہے جس میں میرے لیے خاص طور پر وقت نکال کر کالم لکھنا ناممکن تو نہیں البتہ مشکل ضرور تھا۔ اس کے بعد اس عرصے میں میری مصروفیت کا وہ ایک ہفتہ بھی شامل کر لیں جس میں دل کی دھڑکن میں کمی بیشی کے عارضے کے باعث چیک اپ اور ٹیسٹوں کے لیے پنجابی زبان کے خوبصورت کہانی کار، صحافی اور میرے دوست اکمل شہزاد گھمن مجھے اے ایف آئی سی راولپنڈی میں ہارٹ سپیشلسٹ لیفٹیننٹ کرنل اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد عادل یوسف زئی کے پاس لگاتار دو تین بار لے کر آتے جاتے رہے۔ ڈاکٹر صاحب کے تفصیلی چیک اپ اور اُن کی تجویز کردہ دوائی سے مجھے کچھ افاقہ تو ہے مگر رات کو جب میں اکیلا اپنے فلیٹ پر 70، 80 اور 90 کی دہائی کے پاکستانی اور بھارتی فلموں کے پرانے گیت سنتا اور دیکھتا ہوں تو نجانے مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ جیسے ڈاکٹر صاحب میرے مرض کی درست تشخیص نہیںکر سکے۔ میرے خیال میں مجھے دل کے علاج کے لیے کسی دوائی کی نہیں ’’کسی دوا‘‘ کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر مجھے اپنی وہ مہربان ہستی بھی اکثر یاد آتی ہیں جنہوں نے لاہور سے چلتے وقت مجھے خاص طور پر یہ نصیحت کی تھی کہ ’’بیٹا اسلام آباد دل لگا کر رہنا‘‘۔ اب میں جتنا بھی ہڈ حرام اور نالائق سہی بڑوں کے حکم کو تو نہیں ٹال سکتا۔ مگر اسلام آباد آنے کے بعد مجھے مسلسل یہ احساس ہو رہا ہے کہ ’’جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا‘‘۔ آنے والے کل میں کیا ہو اس کا میں کچھ نہیں کہہ سکتا مگر ابھی تک مجھے یہی لگ رہا ہے جیسے اسلام آباد آتے ہوئے میں اپنا دل کہیں لاہور ہی میں بھول آیا ہوں۔ ویسے ان چند دنوں میں مجھے ایک اور بات کا بھی اچھی طرح اندازہ ہو گیا ہے کہ گریڈوں اور طاقتور ایوانوں کے اس شہر اسلام آباد میں رہنے کے لیے دل کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ پتا نہیں اس کا سبب کیا ہے حالانکہ یہ پاکستان کا دارالخلافہ ہے جہاں کروڑوں پاکستانیوں کی تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں۔ خدا جانے بغیر دل کے یہاں کے لوگ اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کے فیصلے کیسے کرتے ہیں۔ یہ سوچنے والی بات تو ہے مگر محض میرے اور آپ کے سوچنے سے کچھ بدلنے والا نہیں ہے۔ آپ میری یہ نظم پڑھیے:
نیا یہ شہر ہے لیکن
اکیلے پن کی وحشت نے
یہاں بھی گھیر رکھا ہے
وہی الجھن پریشانی
جو پہلے تھی
سو اب بھی ہے
کہیں کچھ بھی نہیں بدلا
وہی دن ہیں وہی راتیں
وہی ہم ہیں وہی ماتیں
یہاں بھی سو بلائیں ہیں جگر کا خون پینے کو
یہاں بھی دم نکلتا ہے فقط اک سانس جینے کو
یہاں بھی سانپ بن کر آستیں میں روگ پلتے ہیں
یہاں بھی آرزو کے نام پر بس سوگ پلتے ہیں
یہاں بھی بے سکونی ہے
یہاں بھی گھر نہیں اپنا
یہاں بھی بے زمینی ہے
یہاں بھی کہر میں لپٹی ہوئی راتوں کی سردی ہے
یہاں بھی مشغلہ اپنا وہی آوارہ گردی ہے
یہاں بھی ان گنت اسباب ہیں نیندیں اڑانے کو
یہاں بھی خوبصورت لوگ ہیں دل کے چرانے کو
ذرا اک فرق سے پریوں کا کوئی دیس ہے یہ بھی
تمہارے شہر جیسا ہے مگر پردیس ہے یہ بھی
وہی سب ہے جو پچھلے شہر میںہم چھوڑ آئے ہیں
وہی الجھن پریشانی جو پہلے تھی
سو اب بھی ہے
کہیں کچھ بھی نہیں بدلا

مزیدخبریں