فیلڈ مارشل عاصم منیر، عسکری حکمتِ عملی کا نیا باب

09:24 AM, 17 Nov, 2025

پاکستان کی عسکری اور سیاسی تاریخ میں فیلڈ مارشل کا منصب ہمیشہ غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یہ وہ عہدہ ہے جو صرف انتہائی غیر معمولی خدمات، غیر معمولی قیادت اور فیصلہ کن قومی کردار کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔ جنرل عاصم منیر کا فیلڈ مارشل کے اعلیٰ ترین رتبے پر فائز کیا جانا پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی کا نہایت اہم اور دور رس نتائج کا حامل قدم تصور ہو گا۔ یہ فیصلہ نہ صرف داخلی سطح پر گہرے اثرات مرتب کرے گا بلکہ خطے اور عالمی سیاست میں بھی پاکستان کے مقام اور اس کے دفاعی عزم کا طاقتور پیغام بن کر ابھرے گا۔اس تقرری کے پیچھے بلاشبہ کئی مقاصد پنہاں ہوں گے۔ سب سے بنیادی مقصد عسکری تسلسل اور دفاعی استحکام کو مضبوط بنانا ہو گا۔ پاکستان اس وقت دہشت گردی کی نئی ہولناک لہر، افغان سرحدی تناؤ، بھارت کے جارحانہ رویے، معاشی دباؤ اور بدلتے ہوئے عالمی ماحول جیسے بڑے چیلنجز سے نمٹ رہا ہے۔ اس نازک اور پیچیدہ ماحول میں فوجی قیادت کا مضبوط، تجربہ کار اور مسلسل موجود رہنا ریاست کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ فیلڈ مارشل کے رتبے پر ترقی دراصل ایک ایسا پیغام ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی سمت کے تسلسل کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور کسی بھی قسم کی داخلی یا خارجی رکاوٹ کو اپنے دفاعی راستے میں آڑے نہیں آنے دے گا۔جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ان کی عسکری حکمتِ عملی واضح، جامع اور نتیجہ خیز نظر آتی ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو نئی سمت دی، فوج میں ادارہ جاتی نظم و ضبط کو مزید مستحکم کیا، سرحدی نگرانی کو مضبوط کیا اور دہشت گردی کے اندرونی و بیرونی سہولت کار نیٹ ورکس پر بھرپور گرفت قائم کی۔ ان کی قیادت میں آپریشنل ہم آہنگی کا تصور زیادہ نمایاں ہوا جہاں فوج، رینجرز، ایف سی اور حساس ادارے ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام کر رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل کا منصب ملنے کے ساتھ یہی حکمتِ عملی زیادہ مضبوط، دیرپا، مؤثر اور جامع شکل اختیار کر سکتی ہے۔اس فیصلے کے داخلی اثرات میں سب سے اہم پہلو عسکری ادارے کا مورال ہے۔ جب فوج کے کسی موجودہ سربراہ کو ملک کا سب سے اعلیٰ عسکری اعزاز دیا جاتا ہے تو یہ پوری فوج کے لیے پیغام ہوتا 
ہے کہ ان کی محنت، قربانیوں اور پیشہ ورانہ معیار کو ریاست بھرپور انداز سے تسلیم کرتی اور سراہتی ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان کے نوجوان سپاہی اور افسران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، ایسی علامتی لیکن طاقتور پیش رفت ان کے حوصلوں کو بلند رکھتی ہے۔ اس سے عسکری ادارے کے اندر پیشہ ورانہ اتحاد، نظم و ضبط اور اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔علاقائی سطح پر اس فیصلے کے اثرات بھی کم نہیں ہوں گے۔ بھارت ہمیشہ پاکستان کی عسکری صلاحیت اور حرکیات کو باریک بینی سے دیکھتا ہے۔ فیلڈ مارشل کا رتبہ بذات خود بھارت کے لیے کوئی عسکری خطرہ نہیں، لیکن یہ ایک مضبوط علامتی پیغام ضرور ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی قوت، کمانڈ سٹرکچر اور عسکری تسلسل کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ بھارتی قیادت اس اقدام کو پاکستان کی دفاعی پالیسی کے استحکام اور اس کے ادارہ جاتی اعتماد کے طور پر ضرور دیکھے گی۔ یہ پیغام خطے میں سٹریٹجک بیلنس کو ایک نئی معنویت دے گا۔ افغانستان کے تناظر میں یہ عہدہ ایک مضبوط سفارتی علامت کے طور پر سامنے آئے گا۔ پاکستان اس وقت افغان طالبان حکومت کی غیر سنحیدہ، غیر دانشمندانہ سخت رویوں اور سرحد پار دہشت گردی کے واقعات سے دوچار ہے۔ ایسے ماحول میں فیلڈ مارشل کی موجودگی افغانستان کے لیے واضح اشارہ ہوگی کہ پاکستان اپنی مغربی سرحدوں کے دفاع میں کبھی اور کسی صورت کمزور نہیں پڑے گا۔ لیکن یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ صرف عہدہ مسائل حل نہیں کرتا۔ تاہم طاقتور عسکری قیادت ترقی کے اس منصب کے باعث عسکری و سفارتی دباؤ، مذاکراتی موقف اور علاقائی تعاون کے نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے۔ افغان طالبان پاکستان کی عسکری طاقت، پروفیشنلزم اور مہارت کو ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر سمجھ جائیں تو وہ بڑے نقصان سے بچ سکتے ہیں۔ پاکستانی عسکری قوت اور عسکری قیادت کی مہارت کی یہی حقیقت 10 مئی سے پہلے بھارت تسلیم کرنے سے انکاری تھا جسے 10 مئی کی سہ پہر اسے ناک سے لکیریں نکال کر عالمی طاقتوں کے سامنے تسلیم کرنا پڑا۔عالمی سطح پر یہ ترقی پاکستان کے دفاعی تشخص کو مزید نمایاں کرے گی۔ پاکستان کا کردار ہمیشہ مسلم دنیا کی اہم فوجی طاقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ سعودی عرب، ترکی، چین اور خلیجی ریاستیں پاکستان کی فوجی صلاحیت اور عسکری تجربے کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی موجودگی بین الاقوامی دفاعی فورمز، مشترکہ فوجی مشقوں، سلامتی مذاکرات اور سٹریٹجک تعاون کے راستوں کو اور مضبوط بنا سکتی ہے۔ فیلڈ مارشل کا منصب پاکستان کی دفاعی سفارت کاری کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔فیلڈ مارشل کا یہ رتبہ پاکستان سے دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کے مکمل خاتمے میں مدد دے گا۔دہشت گردی فوجی مسئلہ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے سماجی، معاشی، عالمی اور نظریاتی عوامل موجود ہوتے ہیں۔ مضبوط اور با اختیار عسکری قیادت کی موجودگی قومی سلامتی کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ اگر یہ قیادت اسی تسلسل کے ساتھ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، سرحدی سکیورٹی، داخلی ہم آہنگی اور ترقیاتی بنیادوں پر استحکام کا ایجنڈا آگے بڑھاتی ہے تو دہشت گردی کا نیٹ ورک یقینا تیزی سے کمزور پڑے گا۔اس عہدے کا ایک اور بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کے درمیان اعتماد کے ماحول کو مزید بہتر بنا سکتا ہے۔ جب ایک مضبوط اور تجربہ کار فوجی قیادت ادارہ جاتی توازن کے ساتھ قومی سطح کی حکمتِ عملی میں اپنا کردار ادا کرتی ہے تو ریاستی نظام میں ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اور قومی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنا آسان ہو جاتا ہے۔ دفاع اور استحکام پاکستان کے حوالے سے غیر سنجیدہ سوچ رکھنے والی پی ٹی آئی جیسی سیاسی جماعتوں کو قومی و بین الاقوامی زمینی حقیقتوں کو ملحوظ رکھنا ہو گا۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تقرری پاکستان کی دفاعی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ نہ صرف تجربہ، استحکام اور تسلسل کی علامت ہوگی بلکہ پاکستان کے قومی مفادات، علاقائی عزائم اور عالمی تشخص کے لیے بھی مضبوط علامتی اور عملی اہمیت رکھے گی۔ یہ فیصلہ ملک کی سیاسی قیادت کی اس خواہش کو بھی ظاہر کرے گا کہ پاکستان کو موجودہ چیلنجز سے نکالنے کے لیے ایک متحد، مضبوط اور تجربہ کار عسکری قیادت کی ضرورت ہے۔ اگر یہ قیادت اسی عزم اور حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھتی رہی تو اس منصب کے مثبت اثرات آنے والے برسوں تک ملکی سلامتی اور خطے میں امن پر نمایاں رہیں گے۔

مزیدخبریں