بھارتی حملے کا انتظار

09:23 AM, 17 Nov, 2025

بھارت کے صوبہ بہار میں انتخابات اپنے انجام کو پہنچے۔ وزیراعظم نریندرا مودی الیکشن نتائج کے مطابق الیکشن جیت گئے، ان کے مخالفین نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ انتخابات میں حکومتی پارٹی کو شکست سے دوچار کریں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا الیکشن سائنس کو سمجھنے والے اندازہ کر سکتے ہیں۔ مرکز میں ایک پارٹی کی حکومت ہو تو اسے کسی صوبے میں شکست کے امکانات کتنے ہوتے ہیں۔ صوبہ بہار میں الیکشن سائنس کے مطابق جیت کے لئے تمام نسخے استعمال ہوتے نظر آئے۔
بھارت کا صوبہ بہار قریباً پندرہ کروڑ آبادی کا صوبہ ہے۔ یہ ترقی یافتہ ہے نہ ہی ترقی کی طرف گامزن۔ عرصہ دراز سے اسے ملک کے غریب صوبوں کا درجہ حاصل ہے اور مودی حکومت کے عرصہ اقتدار میں کوئی ایسی کوشش نظر نہیں آتی جس کے بل بوتے پر کہا جا سکے کہ آئندہ پانچ برس میں یہاں کے باسیوں کی حالت میں کوئی واضح بہتری نظر آسکے گی۔ بھارتی الیکشن سائنس کے مطابق پورے بھارت کے لئے ایک نسخہ تو ہمیشہ استعمال کیا جاتا ہے وہاں الیکشن موسم سے کچھ عرصہ قبل ایک منظم منصوبے کے تحت باور کرانے کی کوششیں شروع ہوتی ہیں کہ پاکستان، بھارت کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے اور مستقبل قریب میں اس پر کوئی بڑا حملہ کر سکتا ہے۔ میڈیا کو خریدا جاتا ہے جو اس مہم کو ضرورت کے مطابق آگے بڑھاتا ہے لیکن آزاد میڈیا اور کچھ سچ بولنے والے دانشور ساتھ ساتھ تصحیح کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان اس قسم کے عزائم نہیں رکھتا اور پاکستان نے گزشتہ پچیس برس میں بھارت کے کسی علاقے پر کوئی حملہ نہیں کیا جبکہ بھارت پاکستان پر حملہ کر کے ایک سے زائد مواقع پر اپنے طیارے کھو چکا ہے۔ ایک واقعے میں تو اس کے پائلٹ گرفتار بھی ہوئے جنہیں ایک ناکام آپریشن کے بعد بھارت میں بہادری کے اعزاز سے نوازا گیا۔ پاکستان کے علاقے میں مار گرائے جانے والے طیارے کے پائلٹ ابھی نندن کی گرفتاری کے فوراً بعد بھارتی فضائیہ کے ایک سابق سینئر ائیرفورس آفیسر کی پاکستان کی ملٹری قیادت کو کال آئی جس میں ان کی خیریت دریافت کرنے کے بعد کہا گیا آپ کا بھتیجا آپ کے پاس مہمان آیا ہے۔ براہ کرم اس کا خیال رکھیے گا۔ فون کرنے والے سینئر آفیسر بھارتی پائلٹ ابھی نندن کے والد تھے جن کی فرمائش پر ابھی نندن کا خیال رکھا گیا پھر ہماری ہانپتی کانپتی قیادت نے اسے نہایت عجلت میں بھارت واپس بھجوایا۔ اس وقت یوں لگتا تھا جیسے ہماری زمین انگارہ بنی ہے اور اس پر پائوں رکھنا مشکل ہے۔ یہ مشکل اس وقت ختم ہو گی جب ہم ابھی نندن کو رہا کریں گے۔ حکومت پاکستان کو بھارت کی طرف سے یہ فرضی دھمکی بھی پہنچائی گئی کہ اگر ہم نے بھارتی پائلٹ کو چند گھنٹوں میں رہا نہ کیا تو بھارت پاکستان پر حملہ کر دے گا۔ یہاں بیٹھے عقل کے اندھے اس جھوٹ کو سچ سمجھ بیٹھے ان کی عقل نے کام نہ کیا۔ وہ اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر تھے کہ کسی بھی ملک کے لئے یوں بیٹھے بٹھائے کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنا آسان نہیں ہوتا، اس کے لئے معقول جواز اور تیاری کیلئے کم از کم چھ سے آٹھ ماہ کا وقت درکار ہوتا ہے۔
بھارت تو خود ایک ناکام حملہ کر کے دنیا میں ذلیل ہو رہا تھا، وہ تو حملہ کرنے کی پوزیشن میں ہی نہ تھا لیکن پاکستان میں بھی اس وقت بھارتی حملے کا منجن بیچا گیا۔ بالکل اسی طرح جس طرح بھارت اپنی ہر ضرورت کے وقت یہ چلا ہوا کارتوس چلانے کی کوششیں کرتا ہے اور اس ناکامی کے بعد فالس فلیگ آپریشن کا سہارا لیتا ہے۔ پہلگام، دہلی اور اب مقبوضہ کشمیر ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ بھارتی عوام اب حکومت کی باتوں پر اعتبار نہیں کرتے، وہ نو نقد مانگتے ہیں تیرہ ادھار کے انتظار میں نہیں رہنا چاہتے۔ صوبہ بہار کے انتخابات میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ووٹرز نے مقامی حکومتی لیڈرشپ کو قبل از وقت مطلع کر دیا تھا کہ فقط وعدوں پر ووٹ نہیں دیئے جائیں گے لہٰذا پولنگ سے پہلے نقد خدمت کی جائے۔ بھارتی حکومت نے عوام کا موڈ دیکھتے ہوئے نقد رقوم کی تقسیم کا فیصلہ کیا اور ہزاروں خواتین میں کروڑوں روپے نقد تقسیم کئے پھر جا کر کہیں انہیں جیت کی شکل دیکھنے کو ملی ، انتخاب جیتنے کے لئے وہ تمام حربے استعمال کرنے کا الزام ہر زمانے میں مودی حکومت پر لگتا ہے جو کسی بھی جمہوریت کے لئے مقام شرم ہوتا ہے لیکن بھارت اور بھارتی حکومت کے پاس شرم نام کی کوئی چیز نہیں وہاں جھوٹ کے انبار ہیں اور عوام کو بے وقوف بنانے کی پالیسیاں دن رات تیار کی جاتی ہیں۔
غیرجانبدار مبصرین کے مطابق بہار میں مقبول قیادت کو ایک منصوبے کے مطابق شکست سے دوچار کیا گیا ہے۔ بھارتی اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ مودی نے امریکی دبائو کا بہترین انداز میں مقابلہ کیا ہے۔ اس نے بھارتی عوام کو اپنے وسائل اپنی مصنوعات استعمال کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار کیا اور امریکہ کی یکطرفہ شرائط قبول کرنے سے انکار کیا۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو متعدد موقعوں پر ان کی طر ف سے ملاقات کی خواہش رکھنے کے باوجود مودی کے انکار نے بھارت کو ایک خوددار ملک کے طور پر منوایا ہے۔ یاد رہے نریندرا مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی فون کال اٹینڈ نہ کی اور ٹرمپ کے اس دعوے کو ہمیشہ غلط قرار دیا کہ پاکستان نے اس کے نصف درجن طیارے مار گرائے ہیں۔
پاکستانی میڈیا میں بعض دانشور واضح لفظوں میں اس بات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ٹرمپ اور مودی کے درمیان یہ ایک طے شدہ دنگل تھا دونوں اسے اپنے اپنے عوام کو دھوکہ دینے کے لئے استعمال کرتے رہے۔ دونوں کے دل بنیادی طور پر ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ دونوں نے اس نوراکشتی کا ایک سا فائدہ اٹھایا۔ بھارتی وزیراعظم الیکشن جیت گیا جبکہ ٹرمپ اپنے زعم میں ’’اسرائیل ٹرافی‘‘ جیت چکا ہے۔ ہم بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ ہم نے بھی دو بڑے معرکے مارے ہیں، پہلے چھبیسویں ترمیم اور اس کے بعد ستائیسویں ترمیم دونوں کے ملاپ سے جلد ہی اٹھائیسویں ترمیم، ہمیں بتایا گیا تھا بھارت کسی بھی وقت حملہ کر سکتا ہے، ہم راتوں کو جاگتے رہے، بھارتی حملے کا انتظار کرتے رہے۔

مزیدخبریں