بہت زیادہ پرانی بات نہیں کہ ہمارے معاشرے میں یہ تصور خاصہ مضبوط تھا کہ پروفیشنل لائف میں بعض شعبے صرف مردوں کے لیے مخصوص ہیں۔ سیاست، عدلیہ، فوج، پولیس، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی، طب یا فضائیہ جیسے میدانوں میں عورت کی موجودگی کو معیوب تو نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن حیرت کی نگاہ سے ضرور دیکھا جاتا تھا۔ اگر کسی خاندان کی بیٹی ڈاکٹر بن جاتی تو پورا محلہ فخر محسوس کرتا تھا، لیکن اگر کوئی لڑکی پولیس، آرمی یا فائٹر پائلٹ بننے کی خواہش ظاہر کرتی تو اسے عجیب نظروں سے دیکھا جاتاتھا۔ وقت بدل گیا، دنیا بدل گئی اور عورت بھی بدل گئی۔ آج کی عورت صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں رہی بلکہ زندگی کے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہے۔ دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے کہ بعض شعبوں میں وہ مردوں سے آگے نکلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
محسوس تو یہ ہوتا ہے کہ خواتین سائنسدان، انجینئرز، پروفیسرز، سرجن، جج، پولیس افسر، فوجی افسر، پائلٹ ، سائبر سکیورٹی ایکسپرٹ دنیا کے ہر شعبہ میںچھائی ہوئی ہیں۔ پاکستان جیسے روایتی معاشرے میں بھی خواتین نے ایسے شعبوں میں اپنی جگہ بنائی ہے جہاں کبھی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔اس وقت ہماری خواتین فائٹر پائلٹ بن رہی ہیں، دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں حصہ لے رہی ہیں، پولیس کی کمان سنبھال رہی ہیں، عدالتوں میں انصاف فراہم کر رہی ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی پہچان بنا رہی ہیں۔
لیکن اس ماحول میںافسوس کی بات ہے کہ یہ تبدیلی صرف مثبت میدانوں تک محدود نہیں رہی۔ جدید دور کی عورت نے جرائم کی دنیا میں بھی اپنا ایک الگ مقام بنا لیا ہے۔ کبھی عورت کا نام صرف گھریلو جھگڑوں، چوری یا بعض اوقات قتل جیسے جرائم میں آتا تھا، لیکن اب صورتحال یکسر مختلف ہو چکی ہے۔ آج خواتین سائبر کرائم، منشیات کے کاروبار، اغوا برائے تاوان، آن لائن فراڈ، ڈکیتی، راہزنی اور بین الاقوامی جرائم کے نیٹ ورکس میں بھی شامل نظر آتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر صنف نازک کہلانے والی عورت کیوں اس خطرناک اور ایڈونچر سے بھرپور دنیا کا حصہ بن رہی ہے؟۔
سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی نے عورت کی زندگی کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ اب ایک لڑکی گھر بیٹھے پوری دنیا سے جڑی ہوئی ہے۔ اس کے پاس وہی معلومات، مواقع اور ذرائع موجود ہیں جو ایک مرد کے پاس ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب جرائم کی نوعیت بھی بدل گئی ہے۔ پہلے جرائم جسمانی طاقت کی بنیاد پر کیے جاتے تھے لیکن اب دماغ، ٹیکنالوجی اور نفسیات استعمال ہوتی ہے۔ سائبر کرائم میں کمپیوٹر اسکرین کے پیچھے بیٹھا شخص مرد ہے یا عورت یہ معلوم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ خواتین اس میدان میں تیزی سے داخل ہو رہی ہیں کیونکہ یہاں جسمانی طاقت کی بجائے ذہانت اور نفسیاتی مہارت اہم ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جہاں خواتین نے آن لائن فراڈ کے بڑے نیٹ ورکس چلائے۔ جعلی سوشل میڈیا اکا¶نٹس، بلیک میلنگ، آن لائن فراڈ، مالی دھوکہ دہی اور ہنی ٹریپ جیسے جرائم میں خواتین کے کردار میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ معاشرہ عورت پر جلد شک نہیں کرتا۔ لوگ اکثر خواتین پر جلد اعتماد کر لیتے ہیں اور یہی اعتماد بعض اوقات جرم کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
منشیات کے کاروبار میں بھی خواتین کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔ ملکی اور غیر ملکی نیٹ ورکس خواتین کو اس لیے استعمال کرتے رہے کہ چیک پوسٹس پر ان پر نسبتاً کم شک کیا جاتا ہے۔ بعض خواتین مالی مجبوری کے باعث اس دھندے میں شامل ہیں جبکہ بعض ایڈونچر، دولت اور پرتعیش زندگی کی خواہش میں۔لیکن اب تو خواتین نے اس شعبہ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور ایک کارندہ کی حیثیت سے کام کرنے کی بجائے اپنے بڑے بڑے نیٹ ورکس چلا رہی ہیں۔
یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا واقعی خواتین کا رجحان جرائم کی طرف بڑھ گیا ہے یا اس قسم کی سرگرمیاں زیادہ ہائی لائٹ ہونے لگی ہیں؟ حقیقت شاید دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔ پہلے خواتین کے جرائم گھروں کی چار دیواری تک محدود رہتے تھے اور میڈیا بھی انہیں زیادہ نمایاں نہیں کرتا تھا، لیکن اب میڈیا، سوشل میڈیا اور جدید مواصلاتی نظام نے ہر واقعے کو پوری دنیا تک پہنچا دیا ہے۔ اس لیے خواتین کے جرائم زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔
فلموں، ڈراموں اور ویب سیریز نے بھی خواتین کے جرائم کی طرف راغب ہونے کے رجحان میں اضافہ کیا ہے۔ آج کل میڈیا میں ایسی ایسی سٹوریز پیش کی جاتی ہیں کہ جہاں خواتین کو نہایت ذہین، طاقتور ، شاطراور خطرناک مجرم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ نوجوان لڑکیاں بعض اوقات ان کرداروں سے متاثر ہو کر جرم کو ایک ایڈونچر سمجھنے لگتی ہیں۔ معاشی مسائل بھی جرائم میں اضافہ کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور دولت کی اندھی دوڑ نے عورت اور مرد دونوں کو متاثر کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی پرتعیش زندگی نے نوجوان نسل میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ہر شخص جلد امیر بننا چاہتا ہے۔ بعض خواتین شارٹ کٹ کی تلاش میں جرم کا راستہ اختیار کر لیتی ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ محنت کے بجائے دھوکہ دہی یا غیر قانونی راستوں سے جلد کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
تاہم یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی دنیا کی اکثر خواتین مثبت کردار ادا کر رہی ہیں۔ وہ گھروں کو سنبھال رہی ہیں، تعلیم حاصل کر رہی ہیں، بیماروں کا علاج کر رہی ہیں، ملک کی حفاظت کر رہی ہیں اور معاشرے کی ترقی میں حصہ لے رہی ہیں۔ چند جرائم پیشہ خواتین کی وجہ سے پوری عورت ذات کو مشکوک نہیں قرار دیا جا سکتا۔ جیسے ہر مرد مجرم نہیں ہوتا، ویسے ہی ہر عورت بھی جرائم کی دنیا کا حصہ نہیں۔ موجودہ صورتحال میںہماری حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ وقت کے تقاضوں کو سمجھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کرے اور خواتین پولیس افسران اور سائبر ماہرین کو اس میدان میں زیادہ فعال بنائے تاکہ خواتین سے متعلق جرائم اور جرائم پیشہ خواتین دونوں کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے ۔ اگر معاشرتی اعتبار سے دیکھا جائے توایک اچھے معاشرے کی تشکیل میں شائد عورت کا کردار ہی زیادہ ہوتاہے اسی لیے حکومت کے ساتھ ساتھ یہ والدین بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ خواتین کو تعلیم کے مواقع بھر پور انداز میں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی اہتمام کریں کہ ان کے کردار، اخلاق اور ذمہ داریوں کی آگاہی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔ کیونکہ طاقت جب شعور کے بغیر مل جائے تو وہ تباہی بن جاتی ہے، اور جب اخلاق کے ساتھ ملے تو ترقی کا راستہ بنتی ہے۔
کیا جرائم کی دنیا میں خواتین کا کردار بڑھ رہا ہے؟
09:14 AM, 17 May, 2026