امریکہ ایران سینگ پھنسائے بیٹھے ہیں۔ امریکی امن تجویز پر ایران نے بذریعہ پاکستان اپنار دِ عمل ٹرمپ کو بھجوایا۔ دنیا مسلسل انتظار کی سولی پرٹنگی رہی کہ کوئی مثبت نتائج برآمد ہوں۔ ٹرمپ نے جواباً دوحرف میں اسے رد کر دیا: کلیتاً ناقابلِ قبول! اس سے عین پہلے نیتن یاہو نے گویا جواب امریکہ کے لیے طے کر دیا تھا۔’سی بی سی‘ کو انٹرویو دیتے طمطراق سے کہا کہ ’ایران سے جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اس کا جوہری پروگرام ختم کیے بغیر یہ نہ ہوگا‘۔ دنیا کا سب سے بڑا خونیں جنگی مجرم جو ڈھائی سال سے غزہ، مغربی کنارے پر سفاک جرائم کا مرتکب ہے وہ حکم نامے جاری کرے گا؟ ہر طرف جنگیں برپا رہیں گی کوئی روکنے کی جرا¿ت نہ کرے؟ ٹرمپ نے ایران کو اسرائیل کے حسب منشا جواب دے دیا۔ تیل کی قیمت مزید اوپر چلی گئی!ٹرمپ کے دورہ¿ چین کے باوجود صورتحال غیر واضح ہے۔
ستم ظریفی تو یہ ہے کہ انتخابات ٹرمپ کے سر پر ہیں اور امریکی رائے عامہ دن بدن جنگ کی بدولت اس کے خلاف ہو رہی ہے۔ ادھر 30 ڈیمو کریٹ سینیٹروں نے سیکرٹری سٹیٹ مارکو روبیو کو خط لکھا ہے کہ اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں بارے ابہام ختم کیا جائے۔ ایرانی تنازعے کے تناظر میں کئی دہائیوں سے جاری اس گو مگو سے نکل کر اعلان کرو کہ اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار ہیں جبکہ وہ امریکی اتحادی ہے۔خط نے اعتراض اٹھایا ہے کہ ہم بھر پور فوجی مہم ایران کے خلاف عین اسی مسئلے پر اٹھائے کھڑے ہیں، جس کا مرتکب ہمارا اتحادی ہے! یہ کانگریس کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جوہری توازن بارے آگاہ ہو۔ اسرائیل نے کبھی اپنے جوہری پروگرام بارے قبول نہیں کیا۔ (اس کی ابتدا 1950ءسے امریکی اتحادیوں کی مدد سے ہوئی!) امریکی صدور نے دہائیوں سے اس بارے بات کرنے سے گریز کیا ہے۔ (یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023ءحملوں کے بعد اسرائیلی وزیرِ ثقافت نے کہا تھا کہ غزہ پر نیوکلیر بم استعمال کرنا، ایک امکان ہے!) ہمارا یہ کہنا ہے کہ امریکہ اسرائیل کو اتنی ہی شفافیت کے معیار پر رکھے، جس کی توقع یہ کسی بھی دوسرے ملک سے رکھتا ہے۔
اس خط نے امریکہ، اسرائیل کی جنگ کی وجوہات میں سے اہم ترین شق پر جوہری حملہ کر ڈالا! اس صورتحال میں ہم آج بڑی طاقتوں کے دوہرے معیارات، جھوٹ، دھوکا دہی، وعدہ خلافی اور سراپا فساد ہونا واضح دیکھ سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے جواب پر اب ایران بھی تن کر کھڑا ہے۔ وہ اس وقت ٹرمپ کی عوام کو جوابدہی اور دوسری جانب صیہونی دبا¶ کی دو دھاری تلوار کے بیچ اس کی کس مپرسی کا بھر پور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ فائدہ سرمایہ داروں کا یوں ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی کی رپورٹ ہے کہ منافع
میں انہیں25 فی صد اضافہ ملا ہے۔ اس جنگ میں خلیجی ممالک کو تیل کے اعتبار سے بھی نقصان ہوا، اور ڈرون حملوں سے بھڑ کی آگ جابجا بھاری نقصانات کا سبب بنی۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا، امریکہ اسرائیل نے مزید حملے کیے تو بالواسطہ اس سے خلیجی ممالک ہی ویران ہونگے۔ کیونکہ اس کے بدلے حسب سابق ایران امریکی اڈوں کے نام پر انہی خلیجی ممالک پر چڑھ دوڑے گا۔انہیں امریکہ سے خریدا اسلحہ برباد ہو نے پر از سرِ نو اسلحے کی خریداری کرنی پڑی۔ مزید حملوں پر امریکی اسلحے کی مزید خریداری ہو گی۔ یہ کوئی راکٹ سائنس تو نہیں کہ جنگ میںبھاری نقصان ہمارا ہے، امریکہ فائدے میں ہے! یہ مسلم دنیا کی دولت اجاڑ نے کا کام کر رہی ہے۔ یہ دولت امت کی امانت ہے۔ خلیجی ممالک، جو ملک سے بڑھ کر تیل کے کنویں ہیں۔ وسیع زمین تو صرف سعودی عرب کے پاس ہے۔ باقی خلیجی ممالک نے امت کا سرمایہ چھوٹی چھوٹی راجدھانیوں میں تعمیراتی، عیش و عشرت کے سازوسامان کی نذر کر رکھا تھا۔ ایران نے سستے ڈرون مار کر بہت کچھ نذر آتش کر ڈالا۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم باہمی اختلافات بھلا کر جلد از جلد ایک جسد و جان بن کر بین الاقوامی سازشوں کا مقابلہ کریں۔ انہوںنے امریکہ پر اربوں کھربوں ڈالر لٹائے۔ ان کے اپنے ہاتھ کیا آیا؟ امریکہ، اسرائیل کا چوکیدار بن کر کھڑاہے، ٹرمپ احکام صیہونیوں سے وصول کرتا ہے۔ امارات نے بھارت پر بھی بے پناہ مہربانیاں لٹائیں۔ اعزازات سے مودی کو نوازا، مندر بنا کر دیے۔ساری تباہی کے بعد مودی امارات آیا ؟دفاعی معاہدہ؟ اسرائیل نے اپنا شکنجہ مضبوط رکھنے کو ضرور دفاعی امداد دی۔ مگر سچ پوچھیے تو سبھی خلیجی ممالک کو خصوصاً امریکہ کے ہاتھوں جو یہ زک بالواسطہ اٹھانی پڑی ہے تو بات تو یہی ہے کہ:
وہی میری کم نصیبی وہی تیری بے نیازی
مرے کام کچھ نہ آیا یہ کمال نے نوازی!
بہرطور امریکہ بھی اب 1979 ءکے روس کی طرح آہستہ آہستہ رو بہ زوال ہے۔ ’مدبر الامر‘ تو اللہ ہے۔ نظامِ کائنات میں اس ننھی سی دنیا کا ہر فیصلہ تو اسی باری تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ وہ اس پرمچی دھما چوکڑی سے ہر آن واقف ہے العلیم، الخبیر۔ دنیا کا ورلڈ آرڈر وقت کے کچھ الٹنے پلٹنے کے بعد اب بدل کر رہنا ہے۔ سکھ کے کچھ سال درمیان میں آئیں گے، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے پہلے۔ اور ظہورِ دجال، شیطانی عروج کے بعد یہ کھجور کی گٹھلی جتنے ملک کے برپا کردہ سبھی فساد انجام کو پہنچیں گے باذن اللہ۔ وقت کم ہے کام بہت زیادہ اور توجہ طلب۔مسلم دنیا نے اپنی عقل، فہم ٹھیکے پر جو مغرب کو دے رکھی تھی، اب: اپنی خودی پہچان اے غافل مسلمان! ہمیں مغربی پرکار، سخن ساز، دھوکہ باز عیاروں کی غلامی اور بوٹ پالش کرنے کو نہیں پیدا کیا گیا تھا۔ ہمیں امت مسلمہ کا جزو بنا کر آسمانی رہنمائی اور انبیاءکی میراث کے تحفظ کے لیے پیدا کیا تھا۔
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمین پر آسماں نے ہم کو دے مارا
مسلم ممالک کا حال ہر جا دگرگوں ہے۔ سطحیت، مادہ پرستی، اخلاقی کس مپرسی، حب دنیا نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا۔ وہ بنگلہ دیش جس نے نوجوانوں کے ولولوں اور قربانیوں کا ثمر سمیٹا تھا۔ بھارت نواز ظالم بد عنوان حسینہ واجد سے ملک کو نجات دلا کر طلباءتحریک نے ایک نئے بنگلہ دیش کی بنیاد رکھی تھی جو جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کر کے اپنے ملک کی تقدیر بدل دیتی۔ مگر بھارتی،عوامی لیگ سازشیں انتخابات کے نتائج پر اثرانداز ہوئیں۔بنگلہ دیش عبوری حکومت کے دوران، پاکستان سے محبت کا دم بھرنے لگا تھا۔ قائد اعظم کو احترام دیتے نہ تھکتا تھا کہ اگر ان کی قیادت نہ ہوتی تو بنگلہ دیش کا حشر بھی بھارت کے ہاتھوں کشمیر والا ہوتا۔ مگر اب دوبارہ بھارت کی طرف نئی بی این پی حکومت کا جھکا¶ کوئی اچھی نوید نہیں ۔
افریقہ میں مغرب نے کمزور ممالک کو لوٹا کھسوٹا۔ اللہ نے اس خطے کو بے پناہ وسائل سے نوازا تھا۔ اس کی تکلیف دہ تاریخ ایک طرف تو سیاہ فام غلاموں کی تجارت، انسانیت پر بدترین ظلم کی کئی صدیاں تھیں۔ آج بھی سفید فام ہونے کا نشہ ٹرمپ اور سبھی فار رائٹ مغربی جماعتوں پارٹیوں میں جھلکتا ہے۔ تازہ ترین معرکہ اب مالی میں جاری ہے۔ جس کے بیش قیمت وسائل، سونا، ہیرے، یورینیم اور لیتھیم (جو بجلی کی گاڑیوں و دیگر بھاری مشینوں کی بیٹریوں کا اصلی عنصر ہے) لوٹنے کا ٹھیکہ طویل عرصہ فرانس کے پاس رہا۔ مالی کے( 90 فی صد مسلم آبادی) عوام کے حصے میں کان کنی کی مزدوری، خط ِغربت سے نیچے بیٹھے بنیادی انسانی ضروریات کو رونے کے سوا کچھ نہ آیا۔ یورینیم کی کانوں سے انہیں کینسر لاحق ہوتا اور سسک سسک کر بلا علاج مرتے۔ شاندار ہسپتال ملٹی نیشنل آقا¶ں اور ان کے حکومتی غلاموں کی خدمت کرتا۔ یہ طویل داستانیں سبھی مسلمان ممالک کی ہیں۔ سامراجی یورپ، مغربی ممالک، عالمی قوتیں وسائل کی بانٹ باہم کرکے، مقامی گماشتوں کو بیساکھیاں تھما کر حکومتیں ان کی بنا دیتیں۔ اپنا پس خوردہ ان غلام حکمرانوں کو دیتے! اب مالی کو ان کے شکنجے سے آزاد کروانے کو طارق بن زیاد کے قبیلے کے مسلم جنگجوطوارق اور جماعت نصرت الاسلام والمسلمین (JNIM) معرکہ آرا ہے۔ قبل ازیں فرانس کے نکلنے کے بعد یہاں روسی کرائے کے فوجی، مقامی حکومت کے ساتھ مل کر وسائل کی لوٹ میں شریک تھے۔ جو ان آزادی طلبوں (دہشتگردوں!)کے ہاتھوں نکل بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ کہانیاں بہت طویل اور تاریخ خون آلودہ ہے۔ اور دامنِ قرطاس تنگ رہاسدا! اللہ دنیا کو امن اور انصاف اپنی رحمتِ خاص سے لوٹا دے۔ (آمین)
اپنی خودی پہچان!
09:13 AM, 17 May, 2026