وزیراعظم اور ایرانی صدر کا رابطہ، بھارتی جارحیت، کشمیر اورعلاقائی امن پر گفتگو

11:12 PM, 17 May, 2025

اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان اور ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال، باہمی تعلقات اور امن کے لیے مشترکہ کوششوں پر بات چیت کی گئی۔

وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی خیریت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور جنوبی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایران کی سنجیدہ اور برادرانہ سفارتی کوششوں پر ایرانی صدر کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے خاص طور پر ایرانی صدر کے گزشتہ مہینے کیے گئے ٹیلیفونک رابطے اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کو موجودہ بحران کے دوران بطور نمائندہ خطے میں بھیجنے کے اقدام کو سراہا۔

وزیراعظم نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر بلا جواز حملوں کی سخت مذمت کی، جن میں بے گناہ شہری، خواتین اور بچے بھی نشانہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج نے دشمن کو بھرپور، منہ توڑ اور ذمہ دارانہ جواب دیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کا خواہاں رہا ہے، اور اسی مقصد کے تحت بھارت سے جنگ بندی کے معاہدے پر اتفاق کیا گیا، جس پر پاکستان عملدرآمد جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سرحدوں کے تحفظ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ خلاف ورزی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانی پاکستان کے کروڑوں شہریوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے اور اس معاملے پر کوئی رعایت نہیں دی جا سکتی۔

وزیراعظم نے جموں و کشمیر کے مسئلے کو جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیا اور کہا کہ اس تنازعے کا منصفانہ حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن ممکن ہو۔

ایرانی صدر نے حالیہ کشیدگی کے دوران معصوم جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور پاکستان کی امن پسندی کو سراہا۔ انہوں نے جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ایران خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔

دونوں رہنماؤں نے پاک-ایران تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، خاص طور پر تجارت، سیکیورٹی، علاقائی روابط اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

ایرانی صدر نے وزیراعظم کو ایران کے سرکاری دورے کی دعوت دی، جسے وزیراعظم نے قبول کر لیا۔

مزیدخبریں