تنخواہ دار طبقے کو ریلیف کی راہ میں رکاوٹ، آئی ایم ایف کا ٹیکس چھوٹ پر سخت اعتراض

01:10 PM, 17 May, 2025

اسلام آباد:ایک جانب مہنگائی سے ستائے عوام کو ریلیف دینے کی باتیں، تو دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف ٹیکس میں نرمی کی ہر کوشش پر انگلی اٹھا رہا ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بوجھ کم کرنے کی تجویز آئی ایم ایف کو پسند نہ آئی۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے بجٹ مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف کو پیشکش کی کہ متوسط طبقے کو کچھ مالی ریلیف دیا جائے، مگر آئی ایم ایف نے اس تجویز پر فوری اعتراض کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسی کسی بھی رعایت سے ٹیکس آمدن میں کمی اور بجٹ خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

عالمی ادارے نے واضح کیا کہ پاکستان کو رواں مالی سال کے بجٹ میں 700 ارب روپے اضافی آمدن کا بندوبست مؤثر طریقے سے کرنا ہوگا۔ ایف بی آر کی اب تک کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ 13,200 ارب روپے کا موجودہ ہدف بھی حاصل ہونا مشکل ہے۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے 14,305 ارب روپے کا نیا ٹیکس ہدف تجویز کیا ہے، تاہم بجٹ کی تیاری کے اس نازک مرحلے پر تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینا یا نہ دینا اب ایک مشکل ترین فیصلہ بن چکا ہے۔

وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس میں نرمی کا معاملہ اب بھی زیر غور ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ اس پر مزید بات چیت جاری ہے۔

مزیدخبریں