واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بیشتر نیٹو ممالک ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں امریکا کے ساتھ شامل نہیں ہوئے، جس کے بعد اب امریکا خود اپنی حفاظت کے لیے کسی اتحادی پر انحصار نہیں کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں بتایا کہ امریکا نے خلیج میں تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے اتحادیوں سے مدد طلب کی تھی، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں، جہاں آئل ٹینکرز اور تجارتی جہاز خطرات کا سامنا کر رہے تھے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کئی نیٹو ممالک نے ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں حصہ لینے سے گریز کیا، حالانکہ امریکا ہر سال اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے، لیکن مشکل وقت میں وہ ممالک مدد فراہم نہیں کرتے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ حالیہ فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں امریکا نے ایران کی عسکری قوت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایرانی بحریہ تقریباً ختم ہو چکی ہے، فضائیہ کو بھاری نقصان پہنچا، فضائی دفاعی نظام اور ریڈار تباہ ہو گئے، اور کئی اہم رہنما مارے جا چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا دنیا کی سب سے طاقتور فوجی قوت ہے اور اب اسے کسی اتحادی کی فوجی مدد کی ضرورت نہیں۔ صدر ٹرمپ نے زور دیا کہ بین الاقوامی برادری بھی اس بات پر متفق ہے کہ ایران کو کسی بھی حالت میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔