نیویارک / لندن: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان کی عبوری حکومت کے خلاف شکنجہ مزید کس دیا ہے۔ عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے، طالبان کے 22 سرکردہ رہنماؤں پر عائد سفری اور مالی پابندیوں میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کی برطانیہ نے بھی مکمل توثیق کر دی ہے۔
اقوام متحدہ کی اس فہرست میں طالبان قیادت کے ستون شامل ہیں، ملا محمد حسن اخوند: افغان عبوری وزیراعظم، سراج الدین حقانی: افغان وزیر داخلہ جن پر پہلے ہی عالمی سطح پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
افغان میڈیا آؤٹ لیٹ 'ہشت صبح' کے مطابق، انسانی حقوق کے علمبرداروں نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ پابندیاں اس حقیقت کا اعتراف ہیں کہ طالبان کا طرزِ عمل انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے اور وہ عالمی برادری کے لیے مسلسل ایک سیکیورٹی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
برطانوی حکومت نے ان پابندیوں کی نہ صرف حمایت کی ہے بلکہ اپنی ملکی فہرست کو بھی اپ ڈیٹ کر دیا ہے تاکہ ان رہنماؤں کی عالمی نقل و حرکت اور مالیاتی سرگرمیوں کو مکمل طور پر مفلوج رکھا جا سکے۔
اقوام متحدہ اور برطانیہ کا سخت ایکشن: طالبان حکومت کے 22 اہم رہنماؤں پر عالمی پابندیاں برقرار
03:31 PM, 17 Mar, 2026