میں نے اپنے گزشتہ کالم میں پاکستان میں خیر تقسیم کرنے والے کچھ اداروں شوکت خانم ہسپتال، اخوت اور گُھرکی ہسپتال کی انسانی خدمات کا ذکر کیا تھا، ایدھی فاؤنڈیشن کو ہم کیسے بُھول سکتے ہیں؟ ایدھی صاحب اب اس دُنیا میں نہیں رہے مگر وہ اس حوالے سے خوش قسمت ہیں جو پودا اُنہوں نے لگایا تھا اُن کی زندگی میں ہی ایک گھنا درخت بن گیا تھا، اُن کی انسانی خدمات کے چراغ کبھی نہیں بُجھنے، اُن کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی اُنہوں نے کسی حکمران سے کبھی کوئی گلہ شکوہ نہیں کیا تھا، وہ کسی پر تنقید نہیں کرتے تھے، بس اپنے حصے کی شمع جلاتے جاتے تھے جو اپنے حصے سے زیادہ جلا کر وہ چلے گئے، پورے مُلک میں کہیں کوئی آفت آ جائے، کوئی مصیبت آ جائے ایدھی فاؤنڈیشن کے لوگ سب سے پہلے وہاں پہنچ کر اپنے تمام وسائل بے یار و مددگار لوگوں پر نچھاور کر رہے ہوتے ہیں، ہمارے لاہور کے گُھرکی ہسپتال کا افتتاح بھی ایدھی صاحب نے کیا تھا، کسی کرپٹ سیاہ ست دان نے کیا ہوتا آج یہ ہسپتال تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ملتا، سونے پہ سہاگہ یہ ہوا پروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز جیسے لوگ اسے مل گئے چنانچہ صرف ایک علاقے کے مستحق مریضوں کے مفت علاج معالجے کے لیے بنایا جانے والا گُھرکی ہسپتال دُنیا بھر میں مقبول ہو گیا، دُنیا بھر کے لوگ اب اس کی مدد کے لیے اس پر اُسی طرح کا اعتماد کرتے ہیں جیسا اعتماد وہ شوکت خانم ہسپتال پر کرتے ہیں، امریکہ (میامی) میں مقیم ممتاز بزنس مین میرے عزیز چھوٹے بھائی ظہور اکبر مانی ان دنوں پاکستان میں ہیں، اُن کے کچھ اور عزیز بھی عید پر پاکستان آ رہے ہیں، میں نے اُنہیں بالکل قائل نہیں کیا وہ گُھرکی ہسپتال کی مدد کریں، اُنہوں نے خود مجھ سے کہا وہ اپنے عزیز و اقارب کے ہمراہ ہسپتال کا وزٹ کر کے اُس کی مدد کرنا چاہتے ہیں، اب عید کے بعد میں اُنہیں گُھرکی ہسپتال لے جاؤں گا تاکہ اپنی آنکھوں سے وہ وہاں انسانیت کی خدمت دیکھیں، وہ خود دیکھیں مستحق مریضوں کے علاج معالجے و آپریشنز کے لیے کیسی کیسی شاندار اور جدید سہولیات وہاں میسر ہیں اور مستقبل میں مزید کیسی کیسی جدید سہولیات میسر ہونے جا رہی ہیں، پاکستان میں ایک بہت شاندار ادارہ انڈس ہسپتال کی صورت میں بھی موجود ہے، میرے عزیز چھوٹے بھائی اور معروف اداکار احسن خان اس کے برانڈ ایمبیسڈر ہیں، اس کے سربراہ ڈاکٹر عبدالباری خان ایک انتہائی نفیس اور عظیم انسان ہیں، اُنہوں نے بھی اپنی زندگی دُکھی انسانیت کے لیے وقف کر رکھی ہے، وہ بھی ڈاکٹر ادیب رضوی کے مشن سے جُڑے ہوئے ہیں، انڈس ہسپتال ہیلتھ نیٹ ورک نے 2007 میں کراچی سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا، تب کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا ایک وقت آئے گا جب یہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیلتھ نیٹ ورک ہو گا، ہیلتھ کے شعبے میں اعتماد کا آج یہ بھی ایک بڑا نام ہے، پنجاب میں اس کا آغاز 2014 میں ہوا تھا، پاکستان میں انڈس ہسپتال ہیلتھ نیٹ ورک گزشتہ اٹھارہ برسوں سے اور پنجاب میں گزشتہ بارہ برسوں سے مستحق مریضوں کے علاج معالجے کے لئے اتنا اہم کردار ادا کر رہا ہے پاکستان میں صحت کے سرکاری شعبوں سے وابستہ بڑی بڑی شخصیات یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہیں وہ اپنی ساری اہلیت و وسائل لگا کر بھی ایسا ہیلتھ نیٹ ورک قائم نہیں کر سکتے جو انڈس ہسپتال کا ہے، اس کے بعد میں حکومت پاکستان اور صوبوں کی حکومتوں سے یہ درخواست کروں گا اگر پوری کوشش کے باوجود اور سارے وسائل لگا کر بھی آپ سے اپنا ہیلتھ سسٹم نہیں چل رہا پھر اسے انڈس ہسپتال نیٹ ورک کے سپرد کر دیں، مجھے یقین ہے اُس کے بعد پاکستان میں شاید ایک ایسا مستحق شخص نہیں ملے گا جو یہ شکایت کرے اُسے علاج معالجے کی فری اور بہترین سہولیات نہیں ملیں، ہمارے اکثر سرکاری ہسپتالوں میں بڑے بڑے کرپٹ اور نااہل لوگ بیٹھے ہیں، بڑے بڑے مافیاز نے پاکستان کے ہیلتھ سسٹم کو اپنے مفادات میں جکڑ رکھا ہے، سیاہ سی حکمرانوں کی پوری سرپرستی بھی اُن مافیاز کو میسر ہے، پاکستان میں صحت کے تمام سرکاری مراکز اور ادارے ڈاکٹر ادیب رضوی، ڈاکٹر عامر عزیز اور ڈاکٹر عبدالباری خان جیسے اہل اور ایماندار لوگوں کے سپرد کر دئیے جائیں اور اُنہیں آزادی سے کام کرنے دیا جائے، اُن کے راستے میں رکاوٹیں نہ کھڑی کی جائیں یقین کریں پاکستان کا ہیلتھ سسٹم برسوں میں نہیں دنوں میں ٹھیک ہو جائے گا اور دُنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک کے بہترین ہیلتھ سسٹم کا مقابلہ کرنے لگے گا، جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا انڈس ہسپتال نے پنجاب میں اپنے سفر کا آغاز 2014 میں رحیم یار خان کے ایک علاقے بھونگ سے کیا تھا، اُس کے بعد 2021 میں جوبلی ٹاؤن لاہور میں چھ سو بیڈز کا فلیگ شپ پراجیکٹ شروع ہوا، اب تک دو سو سے زائد بیڈز آپریشنل ہیں جہاں ماہانہ ساٹھ ہزار سے زائد مستحق مریضوں کا مکمل طور پر فری علاج کیا جاتا ہے، ڈاکٹر عبدالباری اور اُن کی انتہائی اہل ٹیم کی پوری کوشش ہے 2027 میں چھ سو بیڈز کا ٹارگٹ مکمل کر لیا جائے جہاں سالانہ پندرہ لاکھ مریضوں کا مفت علاج کیا جائے، انڈس ہسپتال کا سب سے بڑا پراجیکٹ کراچی میں تیرہ سو پچاس بیڈز کا ہے، مُلک بھر میں بارہ انڈس ہسپتال علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کر رہے ہیں، علاوہ ازیں تھر سے گلگت تک سو سے زائد پرائمری کلینکس اور چار ریجنل بلڈ سینٹرز بھی مکمل طور پر فعال ہیں، تین فزیکل ری ہیب سینٹر، اٹھائیس سو ملیریا سینٹرز بلوچستان اور کے پی کے میں کام کر رہے ہیں، بوٹ کلینکس اور کنٹینر کلینکس کے ذریعے بھی بہترین خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، اس عظیم انڈس ہسپتال کا سالانہ بجٹ ساٹھ ارب روپے سے زائد ہے جو دُنیا بھر کے مخیر لوگوں کی مدد اور تعاون سے ہی ممکن ہو رہا ہے، انڈس ہسپتال کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے اس میں کیش کاؤنٹر ہی نہیں ہے، یہ خصوصیت پاکستان کے کسی اور سرکاری یا غیر سرکاری ہسپتال میں نہیں ہے، یہاں آنے والے کسی مریض سے نہیں پوچھا جاتا اُس کے پاس علاج کے پیسے ہیں یا نہیں؟ فوری طور پر اُس کا علاج شروع کر دیا جاتا ہے، علاج کے بعد اگر کوئی اپنی مرضی سے ہسپتال کی مدد کرنا چاہے اُس کی راہنمائی کے لیے کچھ عملہ وقف ہے، یہ تفصیل عرض کرنے کا مقصد اپنے دولت مند اور مخیر دوستوں سے یہ گزارش کرنا ہے انڈس ہسپتال کا وزٹ کریں، اگر اس کی کارکردگی سے مطمئن ہوں پھر دل کھول کر اس کی مدد فرمائیں۔
انڈس ہسپتال کی خیر ہو
09:12 AM, 17 Mar, 2026