عالمی سیاست میں حالیہ تبدیلیوں نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی ریاست کی خودمختاری اور سلامتی کی اصل ضمانت اس کی پیشہ ورانہ عسکری قوت ہے۔ جدید دفاعی صلاحیتیں اور جرأت مند و باصلاحیت قیادت ہی وہ بنیادی ستون ہیں جن پر کسی بھی ریاست کی قومی سلامتی کا دارومدار ہوتا ہے۔ جب 10 مئی 2025 کو پاکستان نے بھارت کے آپریشن سندور کے جواب میں آپریشن بنیان مرصوص کا آغاز کیا تو یہ صرف عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایک واضح سٹرٹیجک پیغام تھا۔ اس فیصلہ کن عسکری ردعمل نے عالمی برادری پر واضح کر دیا کہ پاکستان اپنے دفاع کے لیے ہر لمحہ تیار ہے۔ خصوصاً پاک فضائیہ نے اس کارروائی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے اپنی پیشہ ورانہ مہارت، بہادری اور جدید تکنیکی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا اور یہ ثابت کر دیا کہ وہ پاکستان کے دفاع کی مضبوط ترین فضائی ڈھال ہیں۔ اس آپریشن کی کامیابی کے پیچھے صرف فیصلہ کن کارروائی ہی نہیں بلکہ سول اور عسکری قیادت کی غیرمعمولی ہم آہنگی بھی کارفرما تھی۔ چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جنگی حکمتِ عملی کی قیادت سنبھالی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے سفارتی محاذ پر پاکستان کا مؤقف واضح انداز میں پیش کیا۔ دونوں اداروں کی قیادت نے مل کر ایک ایسی مربوط حکمت عملی تشکیل دی جس نے عسکری اور سفارتی محاذوں کو یکجا کر دیا۔ اس عسکری کامیابی کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ اس نے عالمی سٹرٹیجک منظرنامے میں بھی پاکستان کے کردار کو نئی جہت دی۔ طویل عرصے تک عالمی سیاست میں پاکستان کو زیادہ تر صرف علاقائی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا، مگر حالیہ پیش رفت اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ پاکستان ایک بار پھر عالمی سٹرٹیجک منظرنامے میں ایک فعال اور بااثر ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اس تبدیلی میں پاکستان کی مسلح افواج، خصوصاً فوج اور فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور عملی صلاحیتوں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف طویل اور قربانیوں سے بھرپور جنگ نے پاکستان کی عسکری صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے نمایاں کیا۔ اسی طرح سرحدی سلامتی کے مؤثر انتظام اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل کردار نے پاکستان کی عسکری ساکھ کو مزید مضبوط بنایا۔ بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور کیا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست اور علاقائی استحکام کے لیے ایک اہم اور قابلِ اعتماد شراکت دار ہے۔ اسی بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بھی ایک نئی سمت اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں اس تعلق میں کئی نشیب و فراز آئے، خصوصاً افغانستان کی جنگ اور اس کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی پیچیدگیوں کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات کبھی قربت اور کبھی فاصلے کا شکار رہے۔ تاہم موجودہ عالمی حالات اور جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی سٹرٹیجک صورتحال نے ایک بار پھر پاکستان کی جغرافیائی اور عسکری اہمیت کو نمایاں کر دیا ہے۔ امریکہ اب پاکستان کو محض افغانستان تک رسائی کا راستہ نہیں سمجھتا بلکہ ایک ایسے ذمہ دار اور بااثر ملک کے طور پر تسلیم کر رہا ہے جو جنوبی ایشیا میں توازن برقرار رکھنے، دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں میں تعاون دینے اور خطے کے استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسی بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں مشرقِ وسطیٰ اور عالمی مسلم دنیا میں بھی پاکستان کا سفارتی اثر بتدریج بڑھتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ دفاعی تعاون، اقتصادی روابط اور سفارتی ہم آہنگی نے پاکستان کو اس خطے میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر نمایاں کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت اور وقار میں بتدریج اضافہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان بدلتے ہوئے عالمی حالات میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ آپریشن بنیان مرصوص سے لے کر موجودہ عالمی منظرنامے تک پاکستان کی دفاعی حکمت عملی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عسکری قیادت کا کردار نمایاں نظر آتا ہے۔ پاکستان کی دفاعی حکمت عملی اب زیادہ جامع اور وسیع ہو گئی ہے جس میں عسکری تیاری کے ساتھ سفارت کاری اور اقتصادی سلامتی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ سیاسی قیادت کی جانب سے مسلح افواج کی بھرپور حمایت نے عالمی برادری کو یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان کے قومی مفادات کے تحفظ کے معاملے میں ریاستی ادارے ایک صفحے پر ہیں۔ وزیر اعظم کی فعال سفارت کاری نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور باوقار ریاست کے طور پر پیش کیا۔ تاہم ان عالمی کامیابیوں کے باوجود پاکستان کو اندرونی محاذ پر سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات نے سکیورٹی اداروں کو نئے چیلنجز سے دوچار کیا ہے۔ انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق، پڑوسی ملک کی خفیہ ایجنسیاں اور ان کے پراکسی نیٹ ورکس پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ مستقبل میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہو گا کہ وہ عالمی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی مسائل کا بھی مؤثر حل نکالے، تاکہ عسکری اور سفارتی کامیابیاں مستقل بنیادوں پر قائم رہ سکیں۔ پاکستان کی طاقت کبھی صرف اس کے میزائلوں یا طیاروں میں نہیں رہی، بلکہ یہ طاقت اس کی فوج اور عوام کے مضبوط اتحاد میں چھپی ہے۔ پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملے میں کوئی سیاسی اختلاف نہیں۔ یہ جنگ صرف فوج کی نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی جنگ ہے۔ وہ ماں جس کا بیٹا سرحد پر شہید ہوا، وہ باپ جس کا بیٹا دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں شہید ہوا، وہ بہن جس نے اپنے بھائی کی شہادت پر سر تسلیم خم کیا، یہی ہماری قومی طاقت ہے۔ دشمن کبھی اس اتحاد کو نہیں توڑ سکتا جو پاکستانی عوام اور اس کی مسلح افواج کے درمیان ہے۔ پاکستان کی فوج مضبوط ہے، پاکستان کی سیاست متحد ہے، اور پاکستان کے عوام اپنے وطن پر جان نچھاور کرنے کو تیار ہیں۔ جب تک یہ اتحاد قائم ہے، کوئی طاقت پاکستان کو زیر نہیں کر سکتی۔ پاکستان زندہ باد، پاک فوج پائندہ باد۔
(کالم نگار ممبر مینارٹی ایڈوائزری کونسل پنجاب ہیں)
پاکستان کی عسکری طاقت اور ابھرتا عالمی کردار
09:10 AM, 17 Mar, 2026