سیاست، جنگ و جدل اور سماجی موضوعات پر تو خامہ فرسائی سارا سال چلتی رہتی ہے۔ رمضان کا مہینہ تو سال میں ایک ہی بار آتا ہے اور اب یہ مبارک و مقدس مہینہ اپنے اختتام کے قریب ہے۔ اس موقع پر اس کی سعادتوں سے فیض یاب ہونا ہی بہترین حکمت عملی۔ اسی حکمت عملی کے تحت آج کی اس تحریر میں نماز تراویح اور قرآن کے تعلق کے حوالے سے کچھ معروضات پیش کی جائیں گی۔
نماز تراویح کے بارے میں مختلف حلقوں میں متضاد قسم کی آرا پائی جاتی ہیں۔ ایک طبقہ اسے سنت کہتا ہے، ایک نفلی عبادت قرار دیتا ہے تو ایک طبقہ اسے بدعت تک بھی کہتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تراویح کے ثابت ہونے یا نہ ہونے کے مباحث بھی چلتے رہتے ہیں۔ یہ موضوع بھی کثرت سے زیر بحث آتا ہے کہ تراویح کی باجماعت ادائیگی کا اہتمام حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں شروع ہوا تھا۔ تراویح کی تعداد بیس یا آٹھ ہونے کی بحثیں بھی چلتی رہتی ہیں۔ آج ان سب موضوعات پر بات نہیں کی جائے گی کیونکہ ان پر بات تو علمائے کرام ہی کر سکتے ہیں اور ویسے بھی ان سب موضوعات پر پہلے ہی سے بہت سا مواد موجود ہے۔ بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، بہت کچھ کہا جا چکا ہے اور کہا جا رہا ہے مگر تاحال یہ ایک نامختتم بحث ہے۔
آج کی اس تحریر کا مقصد صرف تراویح اور قرآن کے تعلق پر کچھ بات کرنا ہے۔ ہر مسلمان جانتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام کی حفاظت کا بیڑا خود اٹھا رکھا ہے اور اس کا ذکر بھی کلام مقدس کی ایک آیت مبارکہ میں موجود ہے جس کا متن کچھ یوں ہے:
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون
قرآن مجید کی سورۃ حجر میں یہ آیت نویں نمبر پر موجود ہے اور چودھویں سیپارے کی ابتدائی آیات میں شامل ہے۔ اس کا ترجمہ ہے "بے شک ہم نے ہی قرآن نازل کیا ہے اور بے شک ہم ہی
اس کی حفاظت کرنے والے ہیں"۔ اس آیت کریمہ پر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کا پاک کلام اگر آج اپنی اصل حالت میں موجود ہے تو اس کی حفاظت وہ خود کر رہا ہے ورنہ اگر اس کی حفاظت کی ذمہ داری کسی اور پر ہوتی تو اب تک اس میں بہت سی تحریفیں ہو چکی ہوتیں اور اس کی شکل کچھ کی کچھ بن چکی ہوتی۔
اللہ تعالیٰ اپنے اس کلام کی حفاظت کیسے کر رہا ہے، یہ تو وہی جانتا ہے لیکن ہمیں جو نظر آتا ہے وہ یہی ہے کہ قرآن پاک حفاظ کرام کے سینوں میں محفوظ ہے۔ لاکھوں لوگ ہیں جنھوں نے اتنے بڑے کلام کو نہ صرف یاد کر رکھا ہے بلکہ یاد کرنے کے اس عمل کو تسلسل سے جاری رکھتے ہیں اور یاد کرنے کا یہ عمل رمضان المبارک میں اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے کیونکہ بہت سے حفاظ نے تراویح میں قرآن سنانا ہوتا ہے اور اتنی ہی بلکہ اس سے زیادہ تعداد نے اس کی سماعت بھی کرنا ہوتی ہے۔
یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ تراویح کی نماز قرآن کو یاد رکھنے بلکہ دوسرے لفظوں میں محفوظ رکھنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ حفاظ کرام تراویح کی تیاری کے لیے ساری سال قرآن یاد کرتے ہیں۔ کچھ کو نماز تراویح کی امامت کرانا ہوتی ہے اور کچھ کو سامع کی ذمہ داری ادا کرنا ہوتا ہے۔ سامع اس حافظ کو کہا جاتا ہے جو امام کے پیچھے کھڑا ہو کر پوری توجہ سے اس کی تلاوت سنتا ہے اور جہاں اس سے کوئی چوک ہوتی ہے، اسے ٹوک کر اس کی درستی کرتا ہے۔
نماز تراویح کو مسلمان بہت بڑی تعداد میں ادا کرتے ہیں۔ تمام مساجد میں اس کا باجماعت اہتمام کیا جاتا ہے۔ لوگ رمضان المبارک کا پورا مہینہ باقاعدگی سے اور بہت ذوق و شوق کے ساتھ نماز تراویح میں پورا قرآن سنتے ہیں اور مہینے کی آخری طاق راتوں میں ختم قرآن کے موقع پر جشن کے انداز میں خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں۔ قرآن سنانے اور سننے والے حفاظ کی خدمت کی جاتی ہے۔ نماز تراویح کی باقاعدگی سے ادائیگی اور ختم قرآن کے موقع پر خوشی کا اظہار کرنے والے لوگ اللہ کے خاص بندے ہوتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام کی حفاظت کا کام لے رہا ہے کہ یہ سب لوگ قرآن پاک کو اس کی اصل حالت میں محفوظ رکھنے میں اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں ورنہ تو دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کا خیال ہے کہ آج کے جدید دور میں قرآن کو زبانی یاد کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اسے محفوظ رکھنے کے نت نئے طریقے وجود میں آ چکے ہیں۔ قرآن کو کتابی صورت میں محفوظ رکھا جا سکتا ہے، پی ڈی ایف میں بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ یو ایس بی میں بھی رکھا جا سکتا ہے۔ کمپیوٹر میں بھی رکھا جا سکتا ہے۔ انسانوں کو رٹوانے کی کیا ضرورت ہے۔
تراویح کے جواز اور قرآن کو حفظ کرنے پر اعتراض کرنے والوں کے پاس بحث کے لیے بہت سے دلائل ہو سکتے ہیں لیکن اس بات کا شاید کوئی جواب نہ ہو کہ اگر باجماعت تراویح میں قرآن پڑھنے کا اہتمام نہ کیا جائے اور قرآن کو ان کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق محفوظ رکھنے کی کوشش کی جائے تو کوئی پرنٹر، کمپیوٹر آپریٹر یا کوئی آئی ٹی ماہر قرآن پاک میں شرارتاً یا سہواً کوئی چھوٹی سی تحریف کر دے تو اس کا پتا لگانے کا کیا طریقہ ہو گا اور اگر ایسی بہت ساری تحریفیں ہو جائیں تو اس کا کیا حل ہو گا اور اگر تحریف در تحریف کا یہ سلسلہ آگے سے آگے چلتا گیا تو کیا خدا نخواستہ قرآن اپنی اصل شکل میں برقرار رہ پائے گا۔
سو یہ کہا جا سکتا ہے کہ جو لوگ تراویح پر اعتراض کرتے ہیں، وہ بالواسطہ قرآن کی حفاظت کی اہمیت سے انکار کرتے ہیں اور جو لوگ قرآن کو حفظ کے علاوہ دوسرے طریقوں سے محفوظ رکھنے کی بات کرتے کرتے ہیں وہ بلاواسطہ قرآن کی حفاظت کی اہمیت کا انکار کرتے ہیں۔ اس طرح دونوں ہی کسی نہ کسی طرح خدا کو چیلنج کرنے کے مرتکب ہوتے ہیں کیونکہ قرآن ک حفاظت کا ذمہ تو خود اسی نے لے رکھا ہے اور اپنی مخلوق کو اس کام پر مقرر کر رکھا ہے۔
تراویح اور قرآن
09:10 AM, 17 Mar, 2026