مناب گرلز سکول سانحہ، یو این، ملالہ اور عورت مارچ

09:09 AM, 17 Mar, 2026

ایران کے جنوبی شہر مناب میں ایک گرلز سکول پر امریکہ کی ہولناک بمباری ایران امریکہ اسرائیل کشیدگی کے دوران پیش آنے والا سب سے المناک اور متنازع واقعہ ہے۔ یہ حملہ نہ صرف ایک انسانی المیے کی صورت میں سامنے آیا بلکہ اس نے جنگی حکمت عملی، بین الاقوامی قوانین اور عالمی طاقتوں کی ذمہ داریوں کے بارے کئی سوالات بھی اٹھا دئیے ہیں۔ 28 فروری 2026 کو ہونیوالے اس حملے میں مناب کے شجرہ طیبہ گرلز ایلیمنٹری سکول پر بمباری کی گئی جہاں اسوقت سیکڑوں کمسن طالبات تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ چند لمحوں میں علم کا یہ مرکز ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا اور دنیا بھر میں صدمے اور غم کی لہر دوڑ گئی۔
اس حملے میں 180 افراد شہید ہوئے جن میں زیادہ تر چھ سے بارہ سال کی عمر کی طالبات تھیں۔ اس واقعہ میں 95 افراد شدید زخمی ہوئے۔ سکول کی عمارت پر کئی میزائل مارے گئے جس کے نتیجے میں عمارت مکمل طور پر منہدم ہو گئی۔ کئی طالبات اور اساتذہ ملبے تلے دب گئے۔ یہ سانحہ ایران پر ہونیوالے حالیہ حملوں میں شہری ہلاکتوں کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔ ابتدا میں امریکہ نے ایران میں عسکری اور سویلین اہداف پر ٹام ہاک کروز میزائل برسائے۔ یہ سکول ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور سے وابستہ ایک کمپاؤنڈ کے قریب واقع تھا۔ یہ واقعہ کسی غلط فہمی یا غلطی کا نتیجہ نہیں بلکہ امریکی منصوبہ کا حصہ تھا۔یہ حملہ امریکی غلطی کا نتیجہ ہوتا تو شاید امریکہ اس پر ندامت، افسوس یا معافی کا اظہار کرتا جو اس نے نہیں کیا۔ واقعے کے بعد امریکہ نے کہا کہ امریکہ یہ حملہ بچیوں کے سکول پر نہیں کرنا چاہتا تھا وہ تو یہ حملہ سکول کی عمارت کے قریب واقع اسلامی انقلابی گارڈ کور کے کمپاؤنڈ پر کرنا چاہتا تھا۔ غلطی سے نشانہ چوک گیا اور میزائل سکول پر جا گرے۔ امریکی وضاحت سے لگتا ہے کہ امریکہ ساری دنیا کو پاگل سمجھتا ہے۔ میزائل کو جس ہدف کی کمانڈ دی جاتی ہے وہ اسی کو ٹارگٹ کرتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کمانڈ کسی اور ہدف کی دی جائے اور میزائل اٹھکیلیاں کرتا ہوا اپنی مرضی سے کہیں اور جا گرے۔ اگر اس واقعے کو امریکی غلطی مان لیا جائے تو پھر واقعے پر امریکہ نے ایرانی قوم سے معذرت کی نہ اسکی آنکھ میں ندامت کا آنسو نظر آیا۔
سکولوں پر حملہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اگر ثابت ہو جائے کہ شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا تو یہ اقدام جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ عالمی برادری اور یو این جیسے عالمی ادارے امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے دوران غیر فوجی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکام رہے۔ یہ حملہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ہدف کی درست تصدیق کے بغیر کسی جگہ حملہ کر دینا جنگی قوانین کے تحت سنگین جرم ہے۔ جدید جنگی ٹیکنالوجی کے باوجود شہری ہلاکتوں کو روکنے کیلئے سخت احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے لیکن امریکہ اور اسرائیل معصوم شہریوں کے قتل عام کو جنگی چال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ دورانِ تعلیم ایک فعال سکول پر حملہ نہ صرف بچوں کے خلاف جرم ہے بلکہ ایک پورے معاشرے کے مستقبل پر بھی حملہ ہے۔ اقوام متحدہ اس واقعے کی آزاد اور غیر جانبدارانہ بین الاقوامی تحقیقات کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل پر فرد جرم عائد کرے۔
تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا عالمی سطح پر تعلیم کے حق کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ جنگی حالات میں بھی سکولوں کو محفوظ مقامات تصور کیا جاتا ہے اور انکی حفاظت بین الاقوامی ذمہ داری ہے۔ تعلیمی اداروں پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو اسکے اثرات کئی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ جنگ کے دوران سکولوں کو ہر صورت محفوظ رکھنا ہو گا۔ اس واقعے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی جو خود پاکستان میں سکول سے لوٹتے ہوئے طالبان کے قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئی تھیں، نے مناب کی بچیوں کے حقوق کی بے دردی سے پامالی پر ایک حرف کی بھی لب کشائی نہیں کی۔  دنیا بھر میں تنازعات کے علاقوں میں سکولوں کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ بچوں کو کبھی عالمی سیاست اور جنگی تنازعات کی قیمت ادا نہیں کرنی چاہیے۔ انسانی حقوق اور حقوق نسواں کے تحفظ کیلئے سرگرم این جی اوز کی جانب سے کوئی مؤثر احتجاج پاکستان میں نظر آیا نہ عالمی سطح پر ایسا کوئی ردعمل دیکھا گیا جو کہ انسانی رویوں کے دیوالیہ پن کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاکستان میں عورت مارچ کرنیوالی عورتوں نے اس واقعے کے حوالے سے کوئی پریس کانفرنس کی، بیان دیا نہ احتجاجی آواز بلند کی۔ عورت تو عورت ہے خواہ اسکا تعلق کسی بھی ملک یا معاشرے سے ہو۔ عورت کے بنیادی حقوق کہیں بھی پامال ہوں انکے لئے آواز دنیا کے کسی بھی ملک میں بلند کی جا سکتی ہے۔ حقوق کا تعلق مقامی ہی نہیں بین الاقوامی بھی ہوتا ہے۔
خود امریکہ کے اندر قانون ساز پینٹاگون سے وضاحت طلب کریں کہ آخر ایسا سنگین واقعہ کیسے پیش آیا۔ جنگی ہدف کے تعین کے عمل، انٹیلی جنس معلومات اور ممکنہ طور پر مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بارے میں مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔ سیاسی اور سفارتی بحث سے ہٹ کر دیکھا جائے تو اس سانحے کا انسانی پہلو انتہائی دردناک ہے۔ مناب اور ایران کے دیگر شہروں میں لاکھوں افراد نے شہید ہونیوالی طالبات کے جنازوں میں شرکت کی۔ چھوٹے چھوٹے تابوتوں کی تصاویر عالمی میڈیا پر نشر ہوئیں جنہوں نے دنیا بھر میں با ضمیر انسانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ان مناظر نے اس حقیقت کو ایک بار پھر واضح کر دیا کہ جنگ کا اصل بوجھ ہمیشہ عام شہریوں اور معصوم بچوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔
یہ واقعہ جدید جنگی نظام کے بارے میں بھی کئی سوالات اٹھاتا ہے۔ جدید میزائل، سیٹلائٹ نگرانی اور جدید انٹیلی جنس نظام کو عموماً اس دلیل کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے کہ انکے ذریعے شہری ہلاکتوں کو کم کیا جا سکتا ہے۔ مناب گرلز سکول کی تباہی صرف ایک مقامی سانحہ نہیں بلکہ ایک عالمی اخلاقی اور قانونی چیلنج بھی ہے۔ یہ حملہ غلط شناخت یا ناقص انٹیلیجنس معلومات کا نتیجہ تھا تو یہ جدید جنگی حکمت عملی کی خطرناک کمزوریوں کو ظاہر کرتا ہے۔ جنگی منصوبہ بندی میں شہریوں کے تحفظ کو کیوں نظر انداز کیا گیا۔ دنیا آج ایک اہم امتحان سے گزر رہی ہے۔ وہ ادارے اور قوانین جو جنگ کے دوران شہریوں کے تحفظ کیلئے بنائے گئے تھے، اب انکی مؤثریت کا امتحان ہے۔ اگر اس سانحے کی شفاف تحقیقات نہ ہوئیں، ذمہ داروں کا تعین نہ کیا گیا اور انہیں سنگین سزائیں نہ دی گئیں تو اس طرح کے المیے مستقبل میں بھی رونما ہوتے رہیں گے۔ عالمی برادری نہ صرف انصاف کو یقینی بنائے بلکہ ایسے اقدامات کرے جن سے آئندہ کسی بھی جنگ میں سکولوں اور بچوں کو نشانہ بننے سے بچایا جا سکے۔ مناب کا سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جنگ کی اصل قیمت ہمیشہ انسانیت کو چکانا پڑتی ہے۔ دنیا نے اس سانحے سے سبق نہ سیکھا تو تاریخ ایسے ہی سانحات کو دہراتی رہے گی۔

مزیدخبریں