معاہدہ اسلام آباد پر جنیوا میں دستخط

09:11 AM, 17 Jun, 2026


ایران کے ساتھ اسرائیل و امریکہ کی طرف سے مسلط کردہ جنگ کے ختم ہونے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ ہمارے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس بات کا اعلان کیا۔ امریکی صدر نے بھی ایسا ہی کیا۔ ایرانی قیادت نے بہت خوبصورت بات کی کہ پاکستان کے اسلام آباد معاہدہ ہونے جا رہا ہے یہ بات اس بات کا مفہوم ہے جو ایرانی قیادت نے کہے ہیں ان کی اس بات نے پوری دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ یہ جو ہونے جا رہا ہے یہ سب کچھ پاکستان کی کاوشوں کا نتیجہ ہے ویسے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی ہمارے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے صدقے اور واری جاتے رہے ہیں وہ تو ہر قدم پر پاکستان، پاکستان کرتے اور کہتے رہے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ جس طرح فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ہماری تینوں مسلح افواج نے منظم طریقے سے جنگ لڑ کر بھارت کو شکست فاش سے ہمکنار کیا تھا بالکل اسی طرح فیلڈ مارشل اور وزیراعظم پاکستان کے ساتھ اسحاق ڈار اور محسن نقوی نے مل جل کر امریکہ و ایران کے درمیان ڈپلومیسی کی ثالثی کی اور فریقین کو 45 سال بعد نہ صرف کھانے کی میز پر بٹھایا بلکہ مذاکرات کی میز پر بھی آمنے سامنے بٹھایا اور بالآخر دنیا کو امن کا سورج طلوع ہوتا ہوا دیکھنا نصیب ہوا۔ امن ثالثی کے اس مشن میں قطر ، سعودی عرب اور ترکیہ کے علاوہ جو دیگر ممالک شریک ہوئے شہباز شریف نے ان کا نام لے کر شکریہ ادا کیا ہے۔ پاکستان اپنی تاریخ کے بلند ترین مقام پر فائز ہو چکا ہے۔ امریکہ سمیت چین و روس جیسی بڑی طاقتیں ، یورپی یونین جیسے اتحاد اور مسلم اُمہ کے بڑوں نے پاکستان کے امن ثالثی کے اس عمل کو سراہا بلکہ اس کی کھلے عام تائید بھی کی جس سے پاکستان کے سفارتی قد کاٹھ میں بہت اضافہ ہوا۔ پاکستان بھارت جیسے مکار اور سفاک دشمن کو پہلے ہی فوجی ہزیمت سے ہمکنار کر کے اپنی حربی و ضربی حیثیت کو منوا چکا ہے۔ رافیل جیسی عالمی اور سپر ٹیکنالوجی کا جے ایف 17 تھنڈر نے بھرکس نکال کر اپنی عسکری برتری ثابت کر چکا ہے۔ حالیہ جنگ میں امن ثالثی کی کامیابی سے پاکستان کی سفارتی برتری بلکہ عظمت کی دھاک بھی بیٹھ چکی ہے۔ دنیا مان چکی ہے کہ پاکستان ایک عظیم مملکت ہے امن کا داعی ہی نہیں عالمی امن کا ایک اہم عامل بھی ہے۔ یہ بات طے ہو چکی ہے اب جنیوا میں اس حقیقت پر دستخط ہونا باقی ہیں۔ جنگ رک گئی ہے بلکہ روک دی گئی ہے اسے روکنے کے لئے کاوشیں کی گئی ہیں کچھ ظاہری اور کچھ پس پردہ۔ اس جنگ کی سب سے زیادہ مخالفت خود امریکہ کے اندر سے آئی۔ امریکہ کی عمر 250 سال ہے اس عرصے کے دوران اس نے چھوٹی بڑی تقریباً تین سو جنگیں لڑی ہیں۔ دنیا عمومی طور پر امریکہ کو سپرپاور مانتی ہے لیکن امریکہ کتنی جنگوں میں فاتح ہوا اس بارے میں بہت زیادہ معلومات عامہ کا پتا نہیں ہے لیکن امریکہ نے ہر جنگ میں تباہی و بربادی مچائی۔ انسانوں کا قتل عام کیا خون بہایا یہ سب کو پتا ہے۔ ویت نامیوں نے امریکیوں کا بھرکس نکالا۔ 60/70 ہزار امریکی جہنم واصل ہوئے، افغانستان میں کھربوں ڈالر خرچ کرنے اور 20 سال تک کاوشیں کرنے کے باوجود امریکیوں کو وہاں طالبان کے ہاتھوں شکست ہوئی اور امریکی کابل سے دمیں دبا کر بھاگے۔ ایران امریکہ جنگ میں نہ صرف امریکہ کو کھلی شکست ہوئی بلکہ اس کی عظمت اور عسکری قوت کا بت بھی پاش پاش ہو گیا ہے۔ ایران نے طویل عرصہ پابندیوں تلے رہنے اور کمزور ہونے کے باوجود جس عسکری حکمت عملی کا مظاہرہ کیا اس نے امریکہ اور اس کے حواریوں کو پریشان کیا، سفارتی محاذ پر ایرانیوں نے مضبوط اعصاب کے ساتھ، قومی یکجہتی کے مظاہروں کے ساتھ اپنی محدود حربی و ضربی قوت کے ساتھ جس طرح جنگ لڑی وہ قابل تحسین ہی نہیں قابل رشک بھی ہے۔ ایرانی راکٹ و ڈرونز باری نے جنگ کا پانسہ بدلا۔امریکی ہزیمت کا تاثر پختہ ہوا۔ اس جنگ میں لاریب امریکہ نے ایران کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ ایرانی حربی حکمت عملی نے خلیج میں امریکی اتحادیوں پر خوف و ہراس کی ایسی فضا قائم کی کہ انہوں نے امریکہ سے فاصلہ رکھنے کو ہی ترجیح دی۔ یورپی یونین اور نیٹو اتحادی تو پہلے ہی امریکہ سے اس جنگ میں علیحدہ ہو چکے تھے۔ امریکی عوام نے بھی اس جنگ کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تھوڑا غور کریں تو یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اس جنگ میں، جنگ بندی کے بعد، پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں ہونے والی جنگ بندی میں ساری دنیا سوائے امریکہ، اسرائیل و بھارت کے فاتح قرار پائی ہے۔ اس جنگ نے پوری دنیا پر، عالمی سطح پر منفی اثرات مرتب کئے تھے، تیل کی عالمی تجارت، عالمی ہوابازی، عالمی سیاحت، غرض ہر شے متاثر ہو کر رہ گئی تھی۔ روس، یوکرائن جنگ نے اتنے منفی اثرات مرتب نہیں کئے جتنے ایران امریکہ مختصر جنگ نے کئے ہیں جنگ کے خاتمے اور امن کی واپسی کے نتیجے میں ایران کوبھی سانس لینے کا موقع ملے گا۔ اس پر پابندیاں بتدریج نرم اور پھر ختم ہوں گی۔ ایرانی عوام ایک بار پھر اپنی زندگیاں جی سکیں گے۔ خطے میں بہتری آئے گی۔ یہ بات تو طے ہو چکی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں نئی صف 
بندیاں ہوں گی۔ امریکی اثرات کم ہوں گے۔ عربوں کو پتا چل چکا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا ان کی حفاظت سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ اسرائیل کی حفاظت اور اسرائیلی جارحیت اور غنڈہ گردی کو سپورٹ کرنے کے لئے ہے اسی حقیقت کو دیکھتے ہوئے سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر لیا ہے سعودی عرب کو اب ایک قابل بھروسہ ایٹمی پاکستان کی سرپرستی/ حفاظتی چھتری مل گئی ہے اس کا دفاع قابل بھروسہ ہی نہیں بلکہ ناقابل تسخیر بھی کہا جا سکتا ہے۔ خطے کی عسکری حرکیات میں تبدیلیاں ہوں گی۔ پاکستان، ایران اور ترکی پہلے کی طرح آر سی ڈی ماڈل کی طرز پر ایک بار پھر اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ افغانستان تو بندے کا پتر بنتا نظر نہیں آ رہا ہے اسے پاکستان جوتے مارتا رہے گا۔ یہ قوم ذلیل و خوار ہوتی رہے گی۔ خطے میں، مشرق وسطیٰ میں چینی اثرات بڑھیں گے۔ معاشی و سفارتی اثرات کے ساتھ ساتھ چین کے عسکری اثرات بھی بڑھیں گے۔ مجموعی طور پر خطہ کی سیاست ری شیپ ہو کر رہے گی۔ ایران نے امریکہ و اس کے حواریوں کے ساتھ جو کچھ کر دیا ہے اس نے امریکہ کی ساکھ خاک آلود کر دی ہے۔ اسرائیل کو تباہ کرنے کا تاثر حقیقت بن گیا ہے۔ یہ تاثر کہ اسرائیل کو تباہ نہیں کیا جا سکتا ہے ایران نے غلط ثابت کر دیا ہے۔ امریکہ کے گھٹنے ٹکوائے جا سکتے ہیں تو اسرائیل کو بھی نیست و نابود کیا جا سکتا ہے۔ صرف آزمائش شرط ہے۔

مزیدخبریں