زمانہ بدلا،اس انداز سے بدلا کہ عرب کے صحراﺅں میں برساتی کھمبیوں کی طرح بلند و بالا عمارتیں کھڑی ہو گئیں،مگر 14سو برس سے فاروق اعظمؓ کے عدل کے آج بھی چرچے ہیں۔
رسول اکرم کے وصال نے سب کچھ زیر و زبر کر دیا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ مدینہ کی زمین پر کوئی آسمان ہی نہیں۔ اس کے باوجود سیدنا صدیق اکبر ؓ نے کہا: زکوٰة کی ایک رسّی روکنے والے کو بھی میں معاف نہیں کروں گا۔ اسی کا نام حکمرانی ہے۔یہ حکمرانی ہمیں خلفائے اربعہ کے ادوار میں نظر بھی آئی۔
ڈاکٹر حمید اللہ نے لکھا ہے کہ فاروق اعظم ؓکے عہد میں 26 ادارے وجود میں آئے، آنے والی نسلوں نے جس کی پیروی کی۔ذرا غور و فکر کریں ،کہ ہمارے ہاں جو ادارے بنتے ہیں ان کا خلق خدا کو کوئی فائدہ بھی ہوتا ہے یا صرف اپنوں کو نوازنے کا سلسلہ ہے۔ فاروق اعظم ؓنے مزاجاً سخت ہونے کے باوجود لوگوں کو احکام پر نکتہ چینی کرنے کی ایسی عام آزادی دی تھی کہ معمولی سے معمولی آدمیوں کو خود خلیفہؓ وقت پر اعتراض کرنے میں باک نہیں ہوتا تھا،ایک موقع پر ایک شخص نے کئی بار حضرت عمر ؓ کو مخاطب کرکے کہا'' اتق اللہ یاعمر ''(اے عمر! اللہ سے ڈر)حاضرین میں سے ایک شخص نے اس کو روکنا چاہا،حضرت عمر ؓ نے فرمایانہیں کہنے دو،اگریہ لوگ نہ کہیں گے تو یہ بے مصرف ہیں اورہم نہ مانیں تو ہم۔ یہ آزادی صرف مردوں تک محدود نہ تھی،بلکہ عورتیں بھی مردوں کے قدم بہ قدم تھیں۔ایک دفعہ حضرت عمر ؓ مہر کی مقدار کے متعلق تقریر فرمارہے تھے،ایک عورت نے اثنا ئے تقریر میں ہی ٹوک دیا اورکہا: اے عمر ؓ !خدا سے ڈر!اس کا اعتراض صحیح تھا ،حضرت عمر ؓ نے اعتراف کے طورپر کہا کہ ایک عورت بھی عمر ؓ سے زیادہ جانتی ہے،حقیقت یہ ہے کہ آزادی اورمساوات کی یہی عام ہوا تھی، جس نے حضرت عمر ؓ کی خلافت کو اس درجہ کامیاب کیا اور مسلمانوں کو جوش استقلال اورعزم وثبات کا مجسم پتلا بنادیا۔
اس کے بر عکس موجودہ دور میں کسی کو حکمرانوں کے سامنے بولنے کی اجازت ہے نہ ہی کوئی ان کی کسی بات کو رد کر سکتا ہے۔ہر کوئی مال و دولت بنانے میں مگن ہے۔یاد رکھیں !مال ایک فتنہ ہے اور اولا د بھی۔ اسی میں آدمی آزمایا جاتا ہے۔ ایک قوم جس اخلاقی ،علمی اور جذباتی سطح پہ زندہ ہو،ویسے ہی اس کے حکمران۔ یہ اللہ کا قانون ہے اور اٹل ہے۔
فاروق اعظم ؓ کانظام حکومت کے سلسلہ میں سب سے پہلا کام صوبوں اورضلعوں کی تقسیم کا تھا،آپ نے تمام ممالک مفتوحہ کو آٹھ صوبوں پر تقسیم کیا، مکہ ،مدینہ، جزیرہ، بصرہ، کوفہ، مصر، فلسطین، ان صوبوں کے علاوہ تین صوبے اور تھے، خراسان، آذربائیجان ، فارس،ہر صوبہ میں مندرجہ ذیل بڑے بڑے عہدہ دار رہتے تھے،والی یعنی حاکم صوبہ ،کاتب یعنی میر منشی ، کاتب دیوان یعنی فوجی محکمہ کا میر منشی، صاحب الخراج یعنی کلکٹر ،صاحب احداث یعنی افسر پولیس، صاحب بیت المال ،یعنی افسر خزانہ،قاضی یعنی جج۔
بڑے بڑے عہدہ داروں کا انتخاب عموماً مجلس شوریٰ میں ہوتا تھا، حضرت عمر ؓ کسی لائق راستباز اورمتدین شخص کا نام پیش کرتے تھے، حضرت عمر ؓ میں جوہر شناسی کا مادہ فطرتا تھا، اس لئے ارباب مجلس عموماً ان کے حسن انتخاب کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور اس شخص کے تقرر پر اتفاق رائے کرلیتے تھے، چنانچہ نہاوند کی عظیم الشان مہم کے لئے نعمان بن مقرن کا اسی طریقہ سے انتخاب ہواتھا۔
خلیفہ وقت کا سب سے بڑا فرض حکام کی نگرانی اورقوم کے اخلاق وعادات کی حفاظت ہے،حضرت عمر ؓ اس فرض کو نہایت اہتمام کے ساتھ انجام دیتے تھے،وہ اپنے ہر عامل سے عہد لیتے تھے کہ ترکی گھوڑے پر سوارنہ ہو گا، باریک کپڑے نہ پہنے گا،چھنا ہوا آٹانہ کھائے گا، دروازہ پر دربان نہ رکھے گا، اہل حاجت کے لئے دروازہ ہمیشہ کھلا رکھے گا۔اسی کے ساتھ اس کے مال واسباب کی فہرست تیارکراکے محفوظ رکھتے تھے اورجب کسی عامل کی مالی حالت میں غیر معمولی اضافہ کا علم ہوتا تھا تو جائزہ لے کر آدھا مال بٹالیتے تھے اور بیت المال میں داخل کر دیتے تھے۔ ایک دفعہ بہت سے عمال اس بلا میں مبتلا ہوئے، خالد بن صعق نے اشعار کے ذریعہ سے حضرت عمر ؓ کو اطلاع دی،انہوں نے سب کی املاک کا جائز ہ لے کر آدھا آدھا مال بٹالیا اور بیت المال میں داخل کرلیا، موسم حج میں اعلان عام تھا کہ جس عامل سے کسی کو شکایت ہو وہ فوراً بارگاہ خلافت میں پیش کرے۔
چنانچہ ذراذرا سی شکایتیں پیش ہوتی تھیں اور تحقیقات کے بعد اس کا تدارک کیاجاتا تھا۔ایک دفعہ ایک شخص نے شکایت کی کہ آپ کے فلاں عامل نے مجھ کو بے قصور کوڑے مارے ہیں،حضرت عمر ؓ نے مستغیث کو حکم دیا کہ وہ مجمع عام میں اس عامل کو کوڑے لگائے،حضرت عمروبن العاص ؓ نے التجا کی کہ عمال پر یہ امر گراں ہوگا، حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ میں ملزم سے انتقام نہ لوں، حضرت عمروبن العاص ؓ نے منت سماجت کرکے مستغیث کوراضی کیا کہ ایک ایک تازیا نے کے عوض دو دو اشرفیاں لے کر اپنے حق سے بازآئے۔
اللہ کے آخری رسول کا فرمان ہے‘ برباد ہوئیں وہ قومیں اپنے طاقتوروں کو جو سزا نہ دیتی تھی۔آج ہماری پستی اور ناکامی کا اصل سبب یہی ہے۔اگر آج بھی ملک میں ''عمر لاز'' کا نفاذ ہو جائے تو یقینی کریں ہمارے ملکوں میں بھی خوشحالی آئے گی۔
فاروق اعظم ؓ
09:09 AM, 17 Jun, 2026