پاکستان کی سفارتی قوت کا نیا اظہار

09:07 AM, 17 Jun, 2026

بین الاقوامی سیاست میں ایسے لمحات کم ہی آتے ہیں جب کسی ملک کا کردار محض ایک علاقائی طاقت سے بڑھ کر عالمی استحکام کے ضامن کے طور پر ابھرے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کا نام ایک بار پھر عالمی سفارتی حلقوں میں نمایاں ہوا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خلیج فارس میں غیر یقینی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خطرات کے تناظر میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حالیہ دورہ تہران اسی تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ سفارت کاری کے بیشتر مراحل پس پردہ رہتے ہیں، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ کی حمایت کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب دنیا کے مختلف حصوں میں تنازعات شدت اختیار کرتے ہیں تو پاکستان کو ایک متوازن اور ذمہ دار ریاست کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی طاقت اس کا متوازن رویہ ہے۔ ایک طرف اس کے ایران کے ساتھ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط ہیں تو دوسری جانب امریکہ کے ساتھ کئی دہائیوں پر محیط سفارتی اور تزویراتی تعلقات موجود ہیں۔ یہی توازن پاکستان کو ایسے مواقع فراہم کرتا ہے جہاں وہ مختلف فریقوں کے درمیان اعتماد سازی میں کردار ادا کر سکتا ہے۔سفارت کاری صرف مذاکرات کی میز تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس میں اعتماد، صبر، تدبر اور فریقین کے خدشات کو سمجھنے کی صلاحیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر کسی بھی سطح پر پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں معاون کردار ادا کیا ہے تو یہ نہ صرف پاکستان کی سفارتی کامیابی ہوگی بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے بھی خوش آئند پیش رفت سمجھی جائے گی۔تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے متعدد مواقع پر بین الاقوامی سفارت کاری میں اہم کردار ادا کیا۔ 1970 کی دہائی میں امریکہ اور چین کے درمیان روابط کی بحالی میں پاکستان نے ایک پل کا کردار ادا کیا تھا۔ اس وقت دنیا دو بڑے بلاکس میں تقسیم تھی اور چین و امریکہ کے تعلقات میں پیش رفت کو ناممکن سمجھا جاتا تھا، لیکن پاکستان کی خاموش سفارت کاری نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔آج عالمی منظرنامہ پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ روس۔یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، عالمی معیشت کی غیر یقینی صورتحال اور توانائی کے بحران نے دنیا کو نئے چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی ملک تنازعات کے حل، مذاکرات کے فروغ اور امن کے قیام کے لیے کردار ادا کرتا ہے تو اسے عالمی برادری قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مضبوط سفارت کاری ہمیشہ مضبوط داخلی استحکام سے جنم لیتی ہے۔ پاکستان کو اپنی معاشی ترقی، سیاسی استحکام اور ادارہ جاتی ہم آہنگی پر مسلسل توجہ دینا ہوگی۔ جب کوئی ملک اندرونی طور پر مستحکم ہوتا ہے تو اس کی بات عالمی سطح پر زیادہ وزن رکھتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے لیے یہ وقت اپنی مثبت سفارتی شناخت کو مزید مستحکم کرنے کا ہے۔ ہمیں محاذ آرائی کی سیاست کے بجائے مفاہمت، اقتصادی تعاون اور علاقائی رابطوں کو فروغ دینا ہوگا۔ ایران، خلیجی ممالک، چین، ترکی، وسطی ایشیائی ریاستوں اور مغربی دنیا کے ساتھ متوازن تعلقات پاکستان کو ایک اہم جغرافیائی و اقتصادی مرکز بنا سکتے ہیں اور ان ممالک میں تجربہ کار پاکستانی ورکرز کے ذریعہ ہم ترسیلات زر کی صورت میں کثیر زرمبادلہ کما سکتے ہیں جس کی ملک کو اشد ضرورت بھی ہے جبکہ ایکس چینج کمپنیزایسوسی ایشن آف پاکستان کے ممبران بھی ملک کے زرمبادلہ کو مضبوط بنانے میں اپنا موثر کردار ادا کررہے ہیں۔
قائداعظم محمد علی جناحؒ نے فرمایا تھا کہ ”پاکستان کا مقصد صرف ایک ریاست قائم کرنا نہیں بلکہ ایسی ریاست کی تشکیل ہے جو امن، انصاف اور ترقی کی علامت بنے۔“ آج بھی یہ اصول ہماری قومی اور سفارتی پالیسی کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔اسی طرح سابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان کا یہ قول بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ”امن طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ مکالمے کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔“ موجودہ عالمی حالات میں یہ سوچ پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہے۔پاکستان اگر اپنی جغرافیائی اہمیت، سفارتی تجربے اور قومی صلاحیتوں کو م¶ثر انداز میں بروئے کار لاتا ہے تو وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے۔ آج دنیا کو ایسے ممالک کی ضرورت ہے جو تنازعات کو ہوا دینے کے بجائے اختلافات کو ختم کرنے اور امن کے دروازے کھولنے میں اپنا حصہ ڈالیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان اپنی سفارتی کامیابیوں کو معاشی ترقی، علاقائی تجارت اور بین الاقوامی سرمایہ کاری میں بھی تبدیل کرے۔ امن صرف سیاسی کامیابی نہیں بلکہ اقتصادی خوشحالی کی بنیاد بھی بنتا ہے۔ اگر پاکستان اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے تو آنے والے برسوں میں وہ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام اور ترقی کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔

مزیدخبریں