امریکی پسپائی اور مشرقِ وسطیٰ کا نیا تزویراتی نقشہ !

09:07 AM, 17 Jun, 2026

صدر ٹرمپ کے چہرے پر اس وقت جو اطمینان دکھائی دے رہا ہے، وہ فتح کا نہیں بلکہ اس بلا سے جان چھوٹنے کا اطمینان ہے جو خود اس نے اپنے سر پر مسلط کی تھی۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کی شب ایکس پر اعلان کیا کہ ''امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے، دونوں فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔'' اس کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ''ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے، سب کو مبارک ہو'' اور آبنائے ہرمز سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ جس شخص نے کبھی ''پوری تہذیب ختم کر دوں گا'' جیسی دھمکیاں دی تھیں، آج وہی اس معاہدے پر فخر کا اظہار کر رہا ہے گویا یہ اس کی سفارتی فتح ہو۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ ٹرمپ کی ہار، ایرانی مزاحمت کی تاریخی کامیابی ہے۔ اپنے گذشتہ دو کالموں میں اس جنگ کے ابتدائی اور درمیانی مراحل کا تجزیہ پیش کیا تھا، جس میں امریکی بیانیے کے تضادات اور ایرانی استقامت کا ذکر کیا گیا تھا۔ ہمارے لئے اس پوری کہانی کا سب سے اہم اور قابلِ فخر پہلو پاکستان کا کردار ہے۔ تقریباً چار ماہ کی جنگ کے دوران یہ پاکستان ہی تھا جوبھرپور سفارتی کوششوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کو معاہدے کی میز پر لایا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ معاہدے پر باقاعدہ دستخط کی تقریب بھی جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں 19 جون کو پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہو گی۔ یہ امر اس بات کا واضح اعلان ہے کہ پاکستان نے محض ایک معاون فریق کا کردار ادا نہیں کیا بلکہ مرکزی ثالث کی حیثیت سے پوری دنیا کے سامنے اپنی سفارتی برتری ثابت کی۔ قطر، سعودی عرب اور ترکی نے اس عمل میں معاون اور تعاون کرنے والے فریقین کا کردار ادا کیا۔
یہ معاہدہ کسی برابری کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایرانی شرائط کے قریب تر ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بحالی، امریکی بحری ناکہ بندی کا تیس دن کے اندر مکمل خاتمہ، امریکی افواج کی ایران کے قریبی علاقوں سے واپسی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ بدستور غیر حل شدہ رہا۔ یہ 
سب اس بات کی علامت ہیں کہ امریکہ اپنے بنیادی جنگی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یاد رہے کہ ٹرمپ نے یہ جنگ ایران کے جوہری خطرے کے خاتمے کے نام پر شروع کی تھی، مگر معاہدے میں اس موضوع کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ یہ خود اس بات کا اعتراف ہے کہ ایرانی مزاحمت نے امریکی بیانیے کی بنیاد ہی منہدم کر دی۔پچھلے کالم میں عرض کی تھی کہ ''شکار کو پھنسانے نکلا ہوا شکاری اب خود اپنے ہی دام میں آ چکا ہے''۔ آج یہ بات مزید واضح ہو چکی ہے۔ امریکہ کا یہ معاہدہ دراصل اس کی عالمی بالادستی کے زوال کی ایک باضابطہ دستاویز ہے۔ یعنی دنیایک قطبی نظام سے کثیرالقطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔
چین اور روس کا اثر و رسوخ اس پورے عمل میں خاموش مگر فیصلہ کن رہا۔ چین نے اپنی توانائی سپلائی لائنز کے تحفظ کے لیے علاقائی استحکام کو ترجیح دی، جبکہ روس نے عالمی توانائی منڈی میں اپنے اثرات کے ذریعے امریکی دبا¶ کو کم کرنے میں کردار ادا کیا۔ یہ دونوں طاقتیں براہ راست فریق نہ ہونے کے باوجود اس معاہدے کے پسِ پشت اسٹریٹجک ماحول کی تشکیل میں شریک رہیں۔ اگر خاموش تجزیوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک مرتبہ پھر چینی ٹیکنالوجی نے خلیج کی اس جنگ میں اپنی بالادستی ثابت کی ہے۔
سب سے نمایاں تبدیلی گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی ناکامی ہے۔ امریکہ کا ابتدائی اندازہ یہ تھا کہ ایران کا کانٹا نکال کر خطہ اسرائیل کے حوالے کیا جائے گا تاکہ وہ ابراہام اکارڈ کے ذریعے علاقائی بالادستی قائم کرے۔ مگر ایرانی مزاحمت، یمن کی مزاحمتی شمولیت اور لبنان میں جاری کشیدگی نے اس منصوبے کو حقیقت سے کوسوں دور کر دیا۔ معاہدے میں لبنان کے محاذ پر بھی جنگ بندی شامل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل اپنی فوجی برتری کے باوجود خطے میں اپنا دائرہ وسعت دینے میں ناکام رہا۔
سعودی عرب، قطر اور ترکی کا اس معاہدے میں معاون ثالثی کردار ایک اہم تزویراتی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ ممالک اب امریکہ کے مطیع پارٹنرز کی بجائے متوازن علاقائی طاقتوں کے طور پر ابھر رہے ہیں، جو چین کے ساتھ معاشی تعاون، روس کے ساتھ ہم آہنگی اور امریکہ کے ساتھ سکیورٹی تعلقات کو ایک ساتھ سنبھال رہے ہیں۔ یہ تبدیلی ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مستقبل میں براہ راست مذاکرات اور تجارتی تعلقات کے نئے دور کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔
اس پوری صورتحال نے پاکستان کو وہ سفارتی قد عطا کیا ہے جو کئی دہائیوں میں نصیب نہیں ہوا۔ یہ کامیابی پاکستان کے لیے چین کے ساتھ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں تیزی، ایران کے ساتھ تجارتی راہداری کے امکانات اور خلیجی ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔ امریکہ اور ایران، دونوں اب پاکستان کے ممنون ہیں، جو سفارتی سرمائے کے طور پر طویل مدتی فائدہ دے سکتا ہے۔تاہم چیلنجز بھی کم نہیں۔ پاکستان کو اس سفارتی کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے امریکہ اور چین کے درمیان نازک توازن قائم رکھنا ہوگا۔ خطے میں ممکنہ عدم استحکام، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھائو، اور افغانستان سے ملحقہ سکیورٹی خدشات بھی توجہ طلب رہیں گے۔ اس کے علاوہ، اس سفارتی کامیابی کو داخلی معاشی اور سیاسی استحکام میں تبدیل کرنا ہی اصل امتحان ہوگا ورنہ یہ کامیابی محض ایک عارضی عالمی سرخی بن کر رہ جائے گی۔
یاد رہے کہ یہ معاہدہ محض ایک جنگ کے خاتمے کا اعلان نہیں بلکہ ایک نئے عالمی نظام کے باضابطہ آغاز کی دستاویز ہے، جس کی میزبانی کا اعزاز پاکستان کو حاصل ہوا ہے۔ امریکی استعمار نے جو بھی اہداف لے کر یہ جنگ مسلط کی تھی، وہ سب ادھورے رہے۔ جبکہ ایران اپنی قیادت اور قوم کی عظیم قربانیوں سے ایک خودمختار فریق کے طور پر میز پر واپس آیا۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت اس بات کی گواہ ہے کہ ایرانی انقلاب کا نظریاتی استحکام کسی فرد کے ساتھ ختم نہیں ہوا۔ قیادت بدلی لیکن قوم کا عزم نہ بدلا۔ یہی صبر، استقامت اور یکجہتی وہ سبق ہے جو پاکستان کو سیکھنا چاہیے۔ آج کے داخلی سیاسی و معاشی بحران کا حل بھی اسی میں ہے۔ پاکستان کو دانشمندانہ خارجہ پالیسی کے ساتھ داخلی استحکام کو اولین ترجیح بنانا ہوگا۔ اس نئے کثیرالقطبی نظام میں ایک مستحکم، باوقار اور فعال کردار ادا کرنے کے لیے داخلی یکجہتی اور خوشحالی کے منظم عمل کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ ایران نے دنیا کو سکھایا ہے کہ بیرونی دبا¶ کا جواب داخلی یکجہتی ہے۔ 

مزیدخبریں